تزکیۂ نفس: تعلیمات نبویﷺکی روشنی میں

تزکیۂ نفس: تعلیمات نبویﷺکی روشنی میں
 تزکیۂ نفس: تعلیمات نبویﷺکی روشنی میں

  

’’تزکیہ نفس‘‘ ایک کتاب کا نام ہے جو ڈاکٹر حافظ زاہد علی کی تصنیف ہے۔ قرآن کے مطابق رسول اللہﷺکی بعثت کے مقاصد چار ہیں۔ 1۔تلاوت آیات،2۔ تعلیم کتاب،3۔ تعلیم حکمت، 4۔ تزکیہ نفسان۔ فرائض میں سے ہر فریضہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم تزکیہ نفس تعلیمات اسلامیہ کی اصل غایت ہے جو رسول اکرمﷺ کے مذکورہ فرائض چہارگانہ کا اہم حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کا تذکرہ دو مقامات پر ملتا ہے۔ایک سورۂ آل عمران میں دوسرے سورۂ جمعہ میں۔

ترجمہ:’’اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ اُن میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جو اُن کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا اور ان کو پاک کرتا اور (اللہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتا ہے‘‘۔

ترجمہ’’وہی تو ہے، جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد ﷺ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (اللہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں‘‘۔

حافظ زاہد علی علم کے شناور ہیں۔ جامعہ اشرفیہ سے مستند عالم ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے اکابر اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ ان کی پاکیزہ صحبتوں سے علمی موتی چنے۔ دینی مدارس کے ماحول کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالج و یونیورسٹی کی فضاؤں سے بھی خوب علمی استفادہ کیا۔ ان دونوں منابع علم (کالج ، دینی مدارس)میں طلباء کو سیراب بھی کر رہے ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں پروفیسر ہیں اور جامعہ اشرفیہ میں بھی طلباء کو علم کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک علمی کتاب ’’تزکیہ نفس‘‘ کے نا م سے ترتیب دی ہے،جو زیور طبع سے آراستہ ہو کر اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے اور دادو تحسین سمیٹ رہی ہے۔۔۔

یہ امر مسلمہ ہے کہ انسان صحت اور بیماری دونوں کا مجموعہ ہے۔ آج صحت ہے تو کل بیماری بھی آ سکتی ہے۔ اگر آج بیماری کا غلبہ ہے تو اللہ تعالیٰ بیماری دور کر کے شفایابی بھی عطا کر سکتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بیماریاں دو قسم کی ہیں۔ ایک جسمانی بیماریاں، دوسرے روحانی بیماریاں۔۔۔جسمانی بیماریاں انسان کے جسم کو لگتی ہیں او رنظر آتی ہیں، دوا دارو سے ان کا علاج ممکن ہے۔ روحانی بیماریوں کا تعلق دل کے ساتھ ہے ۔روحانی بیماریوں کو باطنی بیماریاں بھی کہتے ہیں۔ یہ بظاہر دیکھنے میں نہیں آتیں،لیکن انسان کی روح کو لاحق ہوتی ہیں۔ ان کا علاج دوا دارو سے ممکن نہیں، لیکن ان بیماریوں کا علاج ممکن ضرورہے۔جو صاحب تقویٰ، صاحب دل، صاحب فراست عالم باعمل کی صحبت سے ہی ممکن ہے:

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی نے ایسی ہی روحانی بیماریوں کا کھوج لگایا اور ان بیماریوں کا علاج بھی تلاش کیا ہے۔یہ علاج خود ساختہ نہیں، بلکہ رسالت مآبﷺ کی تعلیمات سے اخذ کردہ ہے، جس میں شفا ہی شفا ہے۔ روحانی بیماریوں میں حسد، بغض ہے۔ بداعتقادی، جھوٹ، نفاق، شرک و کفر کی بیماریوں کے علاوہ اور بہت سی بیماریاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں نظر نہیں آتیں، بلکہ ان بیماریوں میں مبتلا شخص خود کو بڑا عقل مند اور انتہائی خوش اخلاق بھی خیال کرتا رہتا ہے اور اپنی عقل کے زعم میں مبتلا خود کو بہت اچھا انسان سمجھتا ہے،حالانکہ کوئی روحانی بیماری اسے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہے اور وہ چلتا پھرتا روحانی مریض ہوتا ہے۔بالآخر وہ شخص ان بیماریوں کے سبب اپنی عاقبت تباہ کر لیتا ہے، اسی لئے ڈاکٹر زاہد علی نے کتاب کا نام ’’تزکیۂ نفس: تعلیمات نبویﷺکی روشنی میں‘‘رکھا ہے۔آغاز میں ابتدائیہ کے عنوان سے روحانی بیماریوں کا تعارف مطالعہ سیرت الرسولؐ کی اہمیت کا تذکرہ ہے، پھر تقدیم کے عنوان سے رسول اکرمﷺ کے انداز تعلیم وتربیت اور تزکیۂ نفس کی اہمیت پر بحث ہے۔

آپ نے کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلا باب نظریاتی بیماریوں پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں تعلق باللہ کی بحث ہے۔تیسرا باب حسن عبادات پر ہے۔ چوتھے باب کا عنوان حسن معاشرت ہے۔پانچواں باب زبان کی بیماریوں کے بارے میں ہے۔ چھٹے باب کا عنوان شرم و حیا، بدکرداری کے مفاسد پر ہے۔ساتویں باب کا عنوان اعضاء و جوارح کی اصلاح پر ہے۔آٹھویں باب کا عنوان بچوں اور نوجوانوں کی اصلاح کے حوالے سے ہے۔اس طرح یہ کتاب اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کا مرقع ہے۔ اگر انسان ان تمام باتوں پر غور وفکر کرے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنے کی فکر کرے تو زندگی میں انقلاب آ سکتا ہے۔اس طرح انفرادی اصلاح کے بعد اجتماعی اصلاح کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔یہ انقلاب دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تمام مباحث رسول اکرمﷺ کے فرامین ہی سے مزین ہیں۔ کتاب کی طباعت بھی عمدہ ہے، کاغذ بھی عمدہ ہے۔ اس طرح کتاب کے باطنی حسن کے ساتھ ساتھ ظاہری حسن بھی دلکش ہے۔ کتاب کا مطالعہ طالبان علم اور نفس کی اصلاح کے متلاشی افراد کے لئے بہت اہم ہو گا۔

مزید :

کالم -