قائداعظمؒ کی بیٹی!

قائداعظمؒ کی بیٹی!
 قائداعظمؒ کی بیٹی!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الیکٹرانک میڈیا پر خبریں چلیں، اگلے روز پرنٹ میڈیا پر بھی چھا گئیں۔ بانئ پاکستان حضرتِ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی بیٹی دینا واڈیا،98برس کی عمر میں2نومبر کو نیو یارک میں وفات پا گئیں۔

کسی نے لکھا لندن میں انتقال کر گئیں، کسی نے کہا یہ ابھی طَے نہیں کہ انتقال لندن میں ہُوا، نیو یارک میں یا بمبئی میں؟یہ بھی ہنوز واضح نہیں کہ تدفین کہاں ہوئی؟ ہوئی بھی کہ نہیں، کیونکہ پارسیوں کے اپنے رسم و رواج کے مطابق تو لاش کو مکان کی چھت کی مخصوص مَمٹی پر رکھ دیا جاتا ہے اور وہ جس مخلوق کی غذا بننا ہو بن جاتی ہے، اُسے رزقِ خاک نہیں بننا پڑتا۔۔۔!

اب اگر بعض نافہم، کم علموں کا یہ مطالبہ سامنے آئے کہ قائداعظمؒ کی بیٹی کو مزار قائد کے پہلو میں جگہ دی جائے، جیسے مادرِ ملت اور نوابزادہ لیاقت علی خان کو دے رکھی ہے تو:

بر اِیں عقل و دانش بہ باید گریست

جس بیٹی نے اپنے باپ کے بنائے ہوئے ’’پاکستان‘‘ میں رہنا، بسنا تو کجا اس کو ڈھنگ سے کبھی دیکھنا بھی گوارا نہ کیا، اور مرض الموت میں مبتلا باپ کی زیارت، یا عیادت کو نہ آ سکی اور صرف قائداعظمؒ کی تدفین کے وقت 12ستمبر1948ء کو اپنی پھوپھی محترمہ فاطمہ جناحؒ کے ساتھ کچھ وقت گزار کر چلی گئی اور پھر دوبارہ آئی بھی تو کب؟2004ء میں علامہ اقبالؒ کے نواسے،یوسف صلاح الدین کی دعوت پر کرکٹ میچ دیکھنے۔

باپ کی اُس ’’لاڈلی بیٹی‘‘ کا بانئ پاکستان حضرتِ قائداعظم محمد علی جناح ؒ سے اور ’’پاکستان‘‘ سے کیا رشتہ؟ کہ اُسے مزار قائد میں دفن کیا جاتا، جبکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ دفن کرنے کو کچھ باقی بچا بھی ہے یا نہیں؟ پارسی شوہر نیول واڈیا نے عیسائیت قبول کر لی تھی، مگر دینا واڈیا تو پارسی ہی رہی کہ پارسی سے مسلمان ہو جانے والی ماں کی بیٹی نے پرورش پارسی نانی کے سایۂ عاطفیت میں پائی۔ اپنی پھوپھی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے پاس کچھ ہی عرصہ رہی، پھر اُن کا رنگ کیا چڑھتا؟۔

دینا جناح15اگست1919ء کو لندن میں پیدا ہوئیں،ابتدائی تعلیم و تربیت ماں باپ اور پھوپھی کے زیر اثر کم ،نانی کے پاس زیادہ رہ کر حاصل کی، محض17برس کی عمر میں اپنی عمر سے دوگنی عمر کے پارسی نیول واڈیا سے پسند کی شادی کی۔۔۔!

نیول واڈیا نے بعدازاں عیسائی مذہب اختیار کیا۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی دینا واڈیا کے سپرد کر کے نیول واڈیا نے مستقل علیحدگی اختیار کر لی۔ دینا واڈیا سے ایک بیٹا نسلی این واڈیا اور بیٹی ڈیانا واڈیا ہیں، جن کے ساتھ دینا واڈیا بمبئی سے نیو یارک منتقل ہو گئیں۔ تادمِ مرگ دینا واڈیا کو اولاد کا قُرب تومیسر رہا، مگر جس شوہر کے لئے باپ تک کو چھوڑا، ماں کے مذہب کو چھوڑا وہ اُن کا نہ رہا گویا:

گئے دونوں جہان کے کام سے ہم

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

اپنی من مانی اور باپ کی نافرمانی کر کے جب ’’باغی بیٹی‘‘ نے پسند کی شادی سے قبل باپ کی فہمائش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دلیل دی کہ ’’آپ نے بھی تو ایک پارسی خاتون (یعنی میری ماں) سے پسند کی شادی کی تھی‘‘ تو اس پر قائداعظمؒ نے کہا:

’’مگر مَیں نے ایک مسلمان خاتون سے شادی کی تھی، یعنی پارسی سے باقاعدہ مشرف بہ اسلام کر کے‘‘۔۔۔! اس مکالمے کے بعد قائداعظم ؒ نے زندگی بھر اپنی نافرمان بیٹی سے قطعِ تعلق کئے رکھا۔ اپنی مرضی کرنے والی خود سر، باغی، نافرمان بیٹی نے اگر اپنی قیام گاہ پر قائداعظمؒ کی متعدد تصاویر آویزاں کئے رکھیں تو یہ احساسِ تفاخر اور دُنیا کے دکھاوے کو ہوں گی۔

دِل کے آئینے میں ’’تصویرِ باپ‘‘ والی بات نہ تھی کہ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔۔۔ اُدھر حد سے زیادہ محبت کرنے والے اور اکلوتی بیٹی کے ناز نخرے اٹھانے والے بااصول باپ نے تمام عمر دِل پر پتھر رکھے رکھا اور یوں بیوی اور بیٹی کے دیئے ہوئے صدموں کے سبب ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا کر کے خود کو سپردِ قضا کِیا۔۔۔!

مَیں سمجھتا ہوں جذباتیت سے قطع نظر حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کو اس ’’المناک ایپی سوڈ‘‘ کو فراموش کر دینا چاہئے۔یوں بھی قائداعظمؒ موروثیت کے قائل نہ تھے کہ انہوں نے مملکتِ خدا داد پاکستان کا گورنر جنرل بننے کے بعد یہ اعلامیہ دیا تھا کہ آج سے اُن کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔۔۔یہ اِس لئے کہا تھا کہ:

’’ماموں کے کان میں بالیاں بھانجے اینٹھے اینٹھے پھریں‘‘

والا معاملہ نہ ہو۔کوئی رشتے داری کا تعلق جتا کر کسی سے مراعات نہ لے سکے۔

کھرب پتی تاجر ’’ڈنشا پٹیٹ‘‘ کی اکلوتی بیٹی رتی بائی کو مریم کے نام سے اسلام قبول کرا کے شادی کی تھی، پھر بھی مفسدین وقت فتنہ پردازی سے باز نہ آئے اور اُن کے خلاف گز بھر کی زبانیں چلتی رہیں۔

قائداعظمؒ فی الحقیقت قائداعظم ہی تھے محسنِ قوم، اصولوں کے پابند، صحیح معنوں میں صادق و امین۔۔۔!!

ناصِر زیدی

0332-4423335 0301-4096710

مزید : کالم