درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 31

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 31
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 31

  

دوسرے دن کسی کو وہاں جانے کا موقع نہ ملا۔کوئی اہم پریڈیا انسپکشن تھی۔ تیسرے دن بارہ بجے کے بعد سب ڈیویٹوں سے فارغ ہو کر پہنچے۔پتھر سب اپنی جگہ پر قائم تھے اور پتوں کے دھوئیں سے کالے پڑ گئے تھے۔ بہت سونگھا، مگرگوشت کے سڑنے یا جلنے کی بو نہ آئی۔کتوں نے اندر جانے سے قطعی انکار کر دیا۔شاہجہان پور کے دیوانگی کی حد تک دلیر پٹھان افراط علی خان مرحوم پتھروں کو ہٹوا کر ریوالور ہاتھ میں لیے اندر گھسے لیکن اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہ آیا نہ آواز آئی۔

گوی کے منہ پر جو مثلث نما پتھر کھڑے تھے اور ڈائنا میٹ کا کارتوس رکھ کر اڑا دیے گئے۔ پھر خان صاحب ایک ہاتھ میں قندیل اور ایک ہاتھ میں ریوالور لیے بیٹھے بیٹھے آگے بڑھے تو اندر سے گوی خاصی چوڑی نظر آئی مگر بوربچے دکھائی نہ دیے۔گوی اردو کے حرف واؤ کی شکل میں تھی اور تقریباً چار گز لمبی۔واؤ کے سرے پر غالباً یہ بوربچے آڑ میں بیٹھے ہوں گے۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 30  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ ماجرا دیکھ کر خان صاحب ایک تجویز لیے باہر آئے کہ گوی کے اندر دو کارتوس ڈائنا مائیٹ کے ایک دم اڑا دیے جائیں۔اس طرح گوی کی چھت تباہ ہو جائے گی۔اس تجویز پر سب متفق ہوئے مگر مجھے میگزین کی کنجی دینے کے لیے بنگلے پر جانے اور کارتوس لانے میں خاصی دیر ہوئی۔مغرب سے کچھ قبل فلیتے میں آگے دی گئی۔پتھر اور مٹی کا ڈھیر کئی ٹن کے قریب اس طرح گرا کہ واؤ کے سرکا منہ بند ہو گیا۔شوق اور وہ بھی جوانی کا۔یہ ٹھہری کہ کھانا کھا کر آئیں گے اور رات کو گوی کھدوائیں گے۔دس بجے رات سب وہاں پہنچ گئے۔

ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ہمارے ساتھ قندیلیں بھی تھیں۔رسالے کے سائیسوں نے مٹی کھودنا شروع کی۔ گیارہ بجے کے لگ بھگ کتے کی دھم ملی۔اسے کھنچیا تو ہاتھ میں آگئی۔دس بیس پھاؤڑے اور چلائے گئے تو بوربچے کی دم ملی۔ اسے کھینچا تو نہیں نکلی۔معلوم ہوا کہ جسم میں لگی ہوئی ہے۔قصہ مختصر بارہ بجے دونوں بوربچوں کی لاشیں مل گئیں۔یہ نہ سڑے تھے نہ بھونے گئے تھے۔ غالباً ان کو مرے دوچارہی گھنٹے ہوئے ہوں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ڈائنا مائیٹ کی زہریلی گیس اور دھماکے کے صدمے سے مرے ہوں۔بہرحال یہ نہایت نامعقول شکار تھا اور بہت غیر شکاری طریق پر یہ دونوں بوربچے ہلاک ہوئے۔

عام طور پر بوربچے رات کے وقت شکار کے لیے نکلتے ہیں مگر ایسے درندے جو انسانی بستیوں کے قرب وجوار میں رہنے کے عادی ہوں،دن دہاڑے بکریاں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔میں نے خود ایک درندے کو عین دوپہر کے وقت بکری پکڑ کر لے جاتے دیکھا ہے۔ایک روز سوج ڈوبنے سے کچھ پہلے میں اپنے نئے گھوڑے کو پہاڑ پر چلنے کی مشق کرانے کی غرض سے پہاڑ کے دامن میں لیے جارہا تھا۔ایک پتھر کے قریب گڑھے میں کچھ آواز آئی۔ گھوڑا بدک گیا اور اس نے آگے بڑھنے سے انکار کرکے ہنہنانا شروع کر دیا۔میں نے رسالے کے ایک جوان کو اشارہ کرکے بلایا اور گھوڑا دے کر کہا کہ جلد میرے بنگلے سے بندوق لاؤ۔یہاں سے میرا بنگلہ کوئی دوسو گز دور ہو گا۔جوان بندوق لے کر آیا۔میں نے گھوڑا ایک تیسرے شخص کو دیا اور اس جوان سے کہا کہ اس گڑھے میں پتھر پھینکو ۔میں بندوق تانے کھڑا رہا۔

پتھر پھینکتے ہی بوربچہ نکلا اور اس قدر تیزی سے پہاڑ پر چڑھا کہ پچاس گز تک میں اس کا نشانہ نہ لے سکا حالانکہ اس زمانے میں متحرک ہدف پر میری مشق خوب بڑھی ہوئی تھی اور میں بڑے بڑے نشانہ بازی کے مقابلوں میں متعدد انعام حاصل کر چکا تھا۔بہرحال میں اس بھاگتے ہوئے بوربچے پر نشانہ نہ لے سکا۔

پہاڑ کے اوپر اس درندے کی رفتار ہرن سے بھی زیادہ تھی مگر پچاس گز دوڑنے کے بعد تو یہ تھک گیا یا کسی اور وجہ سے رکا اور پلٹ کر دیکھا۔ بس یہی پلٹ کر دیھنا اس کی موت کا بہانہ بن گیا۔ میں نے دھائیں اور فائر کیا۔ گولی دل پر لگی اور چار پانچ فٹ کی ناکام چھلانگ کے بعد قلابازیاں کھاتا ہوا نیچے گرا۔

عادل آباد کا قصہ ہے کہ میں ایک خوبصورت انگریز لیڈی کو سیر کرانے بلند پہاڑ پر لے گیا۔دور سے ایک سانبھر پہاڑ کے نیچے نالے میں سے گزرتا ہوا دکھائی دیا۔جب وہ رکا تو میم صاحب نے اس پر فائر کیا۔سانبھر کی ٹانگ میں گولی لگی اور لنگڑاتا ہوا بھاگا۔مجھے اچھا نہ لگا کہ اس نے بتائے بغیر گولی کیوں چلا دی ہے۔اس نے فورا مجھ سے کہا کہ اب تم اس پر فائر کرو ۔میں خوش ہوگیا اورمیں نے گولی چلائی تو میرا نشانہ انتہائی برا ثابت ہوا۔گولی پیٹ کے نچلے حصے پر پڑی۔سانبھر کی آنتیں باہر آگئیں اور وہ وہیں بیٹھ گیا۔میم صاحب اور میں تنہا تھے۔ایسی جگہ جہاں تھوڑی دیر پہلے ہم شیر کے ہونکنے کی آواز سن چکے تھے،ایک عورت کو اکیلا چھوڑ کر سانبھر کے پیچھے جانا ممکن نہ تھا۔اس لیے میں نے گاڑی والے ہمراہی شکاری اور چپراسی کو آواز دی۔یہ لوگ بیس منٹ میں پہاڑ میں پہاڑ پر پہنچے،میں نے کہا:

’’دیکھو،اس درخت کے پاس نالے کے اندر سانبھر پڑا ہے۔اسے ذبح کرو بنڈی لے جاکر اٹھا لاؤ۔‘‘

ان لوگوں کو وہاں جانے میں راستہ نہ ہونے کی وجہ سے دیر لگی۔میں اور میم صاحب اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہوئے اور راہ میں شکار کھیلتے ہوئے بنگلے پر پہنچ گئے۔یہ شکاری اور چپراسی چار گھنٹے بعد واپس آئے اور کہنے لگے کہ جب ہم اس نالے میں اترے تو سانبھر کو دو بوربچے لپٹے ہوئے تھے۔ہم ذرا رکے تھے کہ شیر آگیا۔دونوں بوربچے غرائے مگر دم دبا کر بھاگ گئے۔ہم درختوں پر چڑھ کر تماشا دیکھتے رہے کیونکہ سانبھراب مردار ہو چکا تھا اور ہمارے کسی کام کا نہ تھا۔شیر نے خوب پیٹ بھر کر گوشت کھایا اور چلا گیا۔ شیر کے جانے کے بعد ہم نالے میں اترے اور اس سانبھر کی گردن سینگ لے آئے ہیں۔میں نے دیکھا کہ سانبھر کی گردن پر بوربچے کے دانتوں کے نشان تھے۔یہ بڑی قسم کا بوربچہ یا گل باکھ تھا۔

اس جانور کی قوت شامہ قوی نہیں ہوتی،پھر بھی شیر سے زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح بوربچے کی سماعت اور بصارت بھی شیر سے اعلیٰ درجے کی ہے۔جو بوربچے عام طور پر آدمیوں کو چلتے پھرتے دیکھتے رہتے ہیں،وہ ہرہئیت میں اور چھپ کر بیٹھے ہوئے آدمی کا پتا لگا لیتے ہیں۔میں تیس فٹ بلند ڈٹان پر بکری باندھ کر نیچے لیٹا ہوا تھا، بوربچہ اپنی گوی سے نکل کر آیا۔پچاس گز دور بیٹھ کر خوب غل مچایا۔ادھر بکری بھی چیخ رہی تھی لیکن اس طرف نہ آیا۔یقیناً اس موذی نے اپنی بصارت یا شامہ کے ذریعے معلوم کر لیا تھا کہ کوئی شخص چٹان کے قریب موجود ہے۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور