برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے:وزیر اعظم

برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے:وزیر اعظم
برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے:وزیر اعظم

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کابینہ سے منظور کی جانے والی ای کامرس پالیسی اور نیشنل ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کے لئے حکمت عملی کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ پالیسی پر عمل درآمد ہو اور اسکے ثمرات سے کارباری برادری مستفید ہو۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کامرس ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس۔ اجلاس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داود، سیکرٹری کامرس سردار احمد نواز سکھیرا و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔وزیرِ اعظم کو کامرس ڈویژن کی جانب سے طے کردہ اہداف پر عمل درآمد، مستقبل کے لائحہ عمل اور خصوصاً پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور ملکی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری کامرس سردار احمد نواز سکھیرا نے گذشتہ چند ماہ میں کامرس ڈویڑن کی جانب سے کی گئی پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیرف ریفارمز، لیگل اصلاحات، ٹریڈ بیلنس کی درستگی، برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات پر کنٹرول کے حوالے سے اقدامات اور ٹریڈ ڈپلومیسی کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کابینہ کی جانب سے ای کامرس پالیسی اور نیشنل ٹیرف پالیسی منظور کی جا چکی ہے جبکہ تذویراتی ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2020-25کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔

سیکرٹری کامرس نے بتایا کہ ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو بھی حتمی شکل دی جا چکی ہے جبکہ ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے ضمن میں بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل ڈویژن کو کامرس ڈویڑن میں ضم کیا جاچکاہے۔نیشنل ٹیرف کمیشن میں ٹیرف پالیسی سنٹر کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، صنعتی شعبوں کے فروغ کے لئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی از سر نو تشکیل کی گئی ہے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں کارپوریٹ کلچر متعارف کرایا جا رہا ہے۔اسی طرح مختلف ادارے مثلاً پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائننگ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ وغیرہ کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کو وزارت فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کو منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ٹیرف اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ بجٹ 2019-20میں 1635خام اشیاءپر کسٹم ڈیوٹی ہٹا لی گئی تھی۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری کے علاوہ ٹیرف پالیسی بورڈ بھی قائم کیا جا چکا ہے۔ نیشنل ٹیرف کمیشن کے تحت ٹیرف میں اصلاحات کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔قانونی اصلاحات کے ضمن میں بتایا گیا پاکستانی مصنوعات کے تحفظ کے لئے جیوگرافیکل انڈیکیشن قانون بنانے کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ کابینہ سے مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد اسے متعلقہ ذیلی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ٹریڈ بیلنس کی درستگی کے حوالے سے کی گئی کوششوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2018-19میں تجارتی خسارے میں پندرہ فیصد سے زائد کمی آئی جبکہ موجودہ مالی سال میں جولائی سے دسمبر کے اعدادو شمار کے مطابق تجارتی خسارے میں 30.58فیصد کمی سامنے آئی ہے۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ پاکستانی مصنوعات کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لئے گذشتہ چند ماہ میں ڈیڑھ سو ٹریڈ فیئرز اور نمائشوں میں شرکت کی گئی۔ اس کے علاوہ پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لئے شنگھائی، بیجنگ اور ٹوکیو اور سیول میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنسز منعقد کرائی گئیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ معروف اٹالوی ڈیزائنر سٹیلا جین نے میلان میں پاکستان کے لئے مخصوص فیشن ویک میں کیلاش، چترال، ہنز ہ کے زنانہ لباس کی نمائش کی اس کے ساتھ ساتھ ٹرک آرٹ کی بھی نمائش کی گئی۔سیکرٹری کامرس کی جانب سے برآمدات میں اضافے اور برآمدات کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں چائنا، افریقہ، روس، ساوتھ امریکہ اور انڈونیشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظور کی جانے والی ای کامرس پالیسی اور نیشنل ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کے لئے حکمت عملی کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ پالیسی پر عمل درآمد ہو اور اسکے ثمرات سے کارباری برادری مستفید ہو۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ برآمدات بڑھانے کے ضمن میں اہداف مقرر کیے جائیں اور تمام متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مقرر کردہ اہدف کا سہ ماہی اور ششماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جا ئے تاکہ ان کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...