وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 49ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 49ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 49ویں قسط

  

سیڑھی زیادہ لمبی نہیں تھی، وشاءنیچے اتر گئی۔ ساحل آخری زینے تک پہنچا تو کافورکی خوشبو اس کے حلق تک اتر گئی۔ وہ نیچے اترا تو اس کے پیروں تلے کچی زمین تھی۔ ساحل نے چاروں اور نظر دوڑائی۔ تو سنسناہٹ کے جھٹکے سے اس کا پورا وجود کانپ اٹھا۔

جس آسمان کو وہ اوپر دیکھ کر آیا تھا وہی آسمان یہاں بھی دکھائی دے رہا تھا مگر یہاں رات کا اندھیرا تھا۔ آسمان میں ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ اس کے دماغ کی رگیں ٹس ٹس کرنے لگیں ،ایک سیڑھی اترنے سے وہ کس دنیا میں آگیا جہاں اس وقت رات ہے۔ دور دور تک سبزے کا نام و نشان نہیں بس ہر طرف مٹی ہی مٹی ہے۔ مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں کے درمیان میں پانی کی ایک جھیل دکھائی دے رہی ہے۔

لفظ بہ مشکل اٹک اٹک کے ساحل کی زبان سے نکلے”دہشت ناک اور پراسرار جگہ ہی دکھانا چاہتی تھی....جہاں پھولوں کی خوشبو کے بجائے کافور کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔“

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 48ویں قسط 

وشاءتمسخرانہ انداز میں بولی”پھولوں کی خوشبو تو ایک فریب ہے جذبوں جیسا فریب۔ جس میں مدہوش ہوکے انسان اپنے آپ کو کھو دیتا ہے۔ لمبا سانس کھینچ کر اس کافورکی خوشبو کو خود میں سرایت کر لو۔ یہی اصل حقیقت باقی سب فریب ہے۔“

”کیا مطلب....؟“ ساحل بوکھلا سا گیا۔

وشاءہنستے ہوئے ساحل کے قریب آگئی”تم تو خوفزدہ ہوگئے۔ میں تو تمہیں یہ جھیل دکھانا چاہتی تھی۔ آﺅ جھیل کے پاس چلتے ہیں پھر واپس اوپر چلے جائیں گے۔ تمہیں یہ جگہ اچھی نہیں لگ رہی تو ہم یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہریں گے۔“

”ٹھیک ہے مگر تم میرا ہاتھ چھوڑ دو میں خود چلنا چاہتا ہوں۔“

وشاءنے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھاا ور نفی کے اشارے میں اپنی انگشت ہلائی۔”ایسی جگہ میرا ہاتھ چھوڑنا ٹھیک نہیں۔ تمہیں ایسا کچھ بھی نظر آسکتا ہے جس سے تم اپنا ہوش کھو دو۔“

”تم مجھے مزید ڈرا رہی ہو....“ ساحل کا حلق خشک ہونے لگا۔

”کیا کروں، یہ جھیل ہے ہی ایسی جگہ اور میں تمہیں یہ جھیل دکھانا چاہتی ہوں....جھیل دیکھتے ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔“

ساحل نے لمبا سانس کھینچا اور حوصلہ کرتے ہوئے وشاءکے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

مٹی اس قدر نرم تھی کہ وہ جس جگہ پاﺅں رکھتا وہاں اس کے قدموں کا نشان بن جاتا، وہ جھیل کے قریب گئے تو عجیب سا شور ساحل کی سماعت سے ٹکرایا۔ جیسے بہت سی عورتیں اور مرد آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ اس نے آوازوں کی سمٹ میں پلٹ کر دیکھا تو اس کا سانس اس کے حلق میں ہی اٹک گیا۔ آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔

سفید کفن میں بہت سے مرد اور عورتیں ہوا میں معلق ادھر ادھر اڑتے پھر رہے تھے ان کے وجود غیر مرئی اور باطنی تھے۔ وہ کسی بھی کثیف چیز سے ہوا کی طرح گزر جاتے۔

ساحل کو جھرجھڑیاں آنے لگی تھیں....اس کی روح کپکپا رہی تھی....اس کی وجدانی اور لاشعور کی سوئی ہوئی قوتیں بھی دھیرے دھیرے جاگ رہی تھیں۔

وشاءنے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا”تم ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہو، سامنے جھیل کی طرف دیکھو جو تمہاری آنکھوں جیسی گہری ہے۔“

ساحل نے کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح فوراً ہی جھیل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔جھیل کا پانی شفاف اور چمکدار تھا۔ ساحل نے جھیل میں اپنا عکس دیکھا تو اسکے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

ساحل نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا”تم میرے شانے پر سر رکھے کھڑی ہو مگر جھیل میں تمہارا عکس کیوں نہیں دکھائی دے رہا۔“

وشاءتمسخرانہ انداز میں ہنسنے لگی”کیونکہ تم انسان ہو اور میں ہمزاد فکر مت کرو آج میں انسان اور ہمزاد کا یہ فرق ختم کر دوں گی۔“

یہ کہہ کر وشاءکے ساحل کو جھیل کی طرف دھکا دے دیا۔ ساحل چیختا ہوا گہری جھیل میں جا گرا۔ اسے تیراکی نہیں آتی تھی۔ جھیل کا گہرا پانی اسے نیچے کی طرف کھینچتا مگر وہ کوشش کرکے بار بار پانی کی سطح پر آتا اور لمبے لمبے سانس لے کر موت سے لڑنے کی کوشش کرتا۔

موت اور زندگی کی اسی کشمکش میں ساحل نے دیکھا کہ ایک جوان وشاءاور حوریہ کے سامنے کھڑا ہے۔ وشاءکی آواز ساحل کی سماعت سے ٹکرائی”خیام تم یہاں کیوں آئے ہو؟“

جبکہ اس جوان کا چہرہ خیام کا نہیں تھا۔ ساحل بس اتنا ہی سن سکا پھر وہ گہرے پانی کے آگے بے بس ہوگیا۔

جونہی اس کے ہاتھ پاﺅں بے جان ہوئے وہ پانی کی تہہ کی طرف گرتا چلا گیا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں سانس کی جگہ منہ سے بلبلے نکل رہے تھے۔ وہ اپنی موت کو بالکل سامنے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں تھا۔

اسے خیال میں اپنی ماں جائے نماز پربیٹھی نظر آرہی تھی۔ موت سامنے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی اور سماعت میں ردا اور ماں کی باتیں گونج رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ہاتھ سے پھسلتی زندگی کی ڈور کو کیسے تھامے رکھوں، شاید اب چندلمحوں کا فاصلہ تھا اس کی زندگی اور موت ہے۔

اس کا جسم تیزی سے تہہ کی طرف گر رہا تھا۔ اچانک اس کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا ایک ساعت میں ہی سب کچھ بدل گیا....وہ جھیل میں نہیںتھا۔

وہ جس جگہ پرتھا....وہ تنگ سی جگہ تھی اس کے چاروں طرف مٹی ہی مٹی تھی۔ اس نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی کھلی ہوئی قبر میں لیٹا ہے۔ اس کھلی ہوئی قبر کے دہانے پر وہی جوان کھڑا ہے۔ جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔

جوان نے اپنا دایاں ہاتھ ساحل کی طرف بڑھایا ساحل بمشکل قبر سے باہر نکلا۔ وہ مبہوت نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔ قبرستان میں سوائے اس کے اور اس جوان کے اور کوئی نہیں تھا اس نے قبر کے قریب کوٹھری کی طرف اشارہ کیا۔

”وہاں کون رہتا ہے؟“

جوان سیخ پا کر بولا”اندر تمہاری دلہن بیٹھی ہے اس کوٹھری میں کوئی نہیںرہتا۔ ابھی تک تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔ آﺅ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آﺅں۔“

”تم کون ہو“

”اسامہ “

ساحل کا جسم نڈھال تھا۔ اسامہ اسے سہارا دیتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گیا۔

”میری موٹر بائیک....“ ساحل نیم غنودگی کی حالت میں بمشکل بولا۔

”وہ میں منگوا لوں گا۔ تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تمہیں گاڑی میں ہی جانا ہوگا۔“ یہ کہہ کر اسامہ نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔ اسامہ ساحل کے گھر پہنچا تو راحت نے دروازہ کھولا۔

”کیا ہوا میرے بیٹے کو....؟“ بیٹے کو اس طرح اسامہ کے کندھے سے لٹکے ہوئے دیکھا تو وہ تڑپ کے رہ گئی۔

”کچھ نہیں ہوا۔ بس غنودگی ہے۔“ یہ کہہ کر اسامہ ساحل کو اس کے کمرے تک لے گیا۔ اس نے ساحل کو بستر پر لٹا دیا۔

ساحل کو کچھ ہوش نہیں تھا کہ اس کی ماں کیا کہہ رہی ہے اس نے تو جیسے نشہ آورچیز کھائی ہوئی تھی۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی سوگیا۔

راحت کچھ بولنے لگی تو اسامہ نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں کمرے سے باہر آگئے۔

راحت مسلسل رو رہی تھی۔ اس نے اسامہ کا بازو پکڑا”بیٹے تم مجھے بتاتے کیوں نہیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔“

ساحل نے راحت کی بے چین آنکھوں میں جھانکا”جائے نماز بچھالیں اوراپنے رب کا شکر ادا کریں جس کے آپ نے بیٹے کو اس شیطان کے شکنجے سے بچا لیا جس کے کالے جادو کے کھیل میں آج ساحل نے اپنی زندگی ہار دینی تھی۔ جس وشاءکے لیے ساحل دیوانہ ہوا پھر رہا ہے وہ زرغام کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے۔ جو زرغام کے اشارے پر ساحل کے لیے جال بچھاتی ہے اگر میں وقتپر نہ پہنچتا تو آپ کا بیٹا اس دنیا میں نہ ہوتا۔“

راحت نے اس کا ہاتھ تھام لیا”تم کون ہو، میں تمہیں نہیں جانتی مگر جو احسان تم نے اس بے بس ماں پر کیا ہے اس کا بدلہ تمہیں خدا دے گا۔“

”آپ مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ ساحل کے پاس بیٹھیں مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔ ساحل کی موٹر بائیک بھی منگوانی ہے۔“ یہ کہہ کر اسامہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا۔ راحت ساحل کے پاس جا کے بیٹھ گئی۔(جاری ہے)

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 50ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟