’’پینڈو‘‘ کا جشن آزادی

’’پینڈو‘‘ کا جشن آزادی
’’پینڈو‘‘ کا جشن آزادی

  


اس دن کا انتظار بھی عید جیسا تھا اورپورے سال میں صرف یہی ایک دن ہوتا تھا ہمارے کھل کھیلنے کا۔ شہر میں کچھ نیا دیکھنے کے لیے جانے کا ارمان ۔صبح کے ساتھ ہی فضا میں آزادی محسوس ہوتی۔ہم بڑے پر جوش نکلتے ،ہمیں لگتا آج ہم ہی مہمان خصوصی ہیں۔ساری تقریب ،پریڈ ،رونقیں گھوڑ ناچ ،ٹیبلو اور پہلوانوں کی کشتیاں یہ سب ہمارے اعزاز میں ہے۔نہ گھر والے بھیجنے سے ڈرتے تھے اور نہ ہم جانے سے خوف کھاتے تھے۔ادھرصبح سائرن بجتا، ایک منٹ کے لیے پورے شہر میں خاموشی کاراج ہوجاتا ،اس کے ساتھ ہی ہمارا سال کے بعد آزادی کا جشن شروع ہو جاتا۔ہر طرف سے نعروں کی گونج ،سبز ہلالی پرچم کا لہرانا ،اور اس کے علاوہ بازاروں کی رونقیں دیکھنا۔شہر میں ذرا بڑے پیمانے پر یہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن میں پینڈو بندہ ہوں، اس کی آزادی بھی آپ سے شئیر کرتا ہوں۔بچے جھنڈیاں چراتے بھی تھے اور لگاتے بھی ،چودہاگست کا شعور تھا لیکن جیب میں اتنامال نہیں ہوتا تھا کہ چودہ اگست کو جھنڈیاں لگا سکیں۔پورے گاؤں میں ایک یا دو گھر جھنڈیوں کے لگا کر خوشی کا اظہار کرتے تھے،اور پورا گاؤں اس کو دیکھ کر خوش ہو جایاکرتا تھا۔ شام کو گھر آ کر اپنی ماں سے پوچھتا تھا ماں انہوں نے تو جھنڈا لگایا ہم نے کیوں نہیں۔ماں مسکرا کر اگلے سال کا کہہ دیتی۔ ہم اگلے سال جھنڈیاں لگانے کا وعدہ لے کر آرام کی نیند سو جاتے۔لیکن میرے جیسے پینڈو ایسا نہیں کرتے،وہ فخر سے شہریوں کا مقابلہ کرتے اور جشن آزادی عید میلاد کی طرح مناتے ہیں۔اب تو ویسے بھی فیس بک گھر گھر پہنچ گئی ہے۔گاؤں والے بھی اپنی خوشیا پوری دنیا سے مناتے ہیں ۔لیکن ایک بات ہے ۔ہمارے بچپن کے جشن آزادی میں سکون تھا ،امن تھا ،محبت تھی ،آزادی تھی ،جو آج میں اپنے اندر محسوس نہیں کرتا ،سڑکوں پر پہرے ،بندوقوں والے میری آزادی کو ڈرا دیتے ہیں ،اور میں اس دعا کے ساتھ صبح نکلتا ہو اللہ کرے یہ دن بھی خوف سے آزاد ہی گزر جائے۔ اللہ تجھے سلامت رکھے اے میرے پاک وطن

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...