ٹمٹماتے برقی قمقمے، دھیرے دھیرے نیند میں ڈوبتا بازاراور ہنزہ پر اترتی سرد رات ہمارے ساتھ تھے

ٹمٹماتے برقی قمقمے، دھیرے دھیرے نیند میں ڈوبتا بازاراور ہنزہ پر اترتی سرد ...
ٹمٹماتے برقی قمقمے، دھیرے دھیرے نیند میں ڈوبتا بازاراور ہنزہ پر اترتی سرد رات ہمارے ساتھ تھے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:159

 سمیع کیفے ڈی ہنزہ کی کافی پینا چاہتا تھا اس لیے ہم وہیں آبیٹھے۔ باہر گہری رات تھی اور اندر نیم اجلا پر سکون ماحول، شیلف پر رکھی کتابوں کی قربت، گرم کافی اور ایک دو گاہک۔ بالائی منزل کے شیشوں سے باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اندھیرے کی وجہ سے وہ خوب صورت منظر تاریکی میں گم تھا جو کریم آباد سے زیریں ہنزہ تک پھیلا ہوا ہے۔ راکا پوشی بھی اسی اندھیرے میں گم تھی۔ سیاہ شیشے سے باہر دیکھنے پر اپنی ہی صورت نظر آتی تھی اور یہ منظر زیادہ دیر تک نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ یوں لگتا تھا ہم شیشے کے ڈبے میں بند مچھلیاں ہیں، کھلے پانیوں سے دور۔ 

 ”سمیع تمھیں پتا ہے کچھ سال پہلے ہنزہ میں انٹر نیٹ 600 روپے فی گھنٹا ہو تا تھا۔“ ندیم نے مسکرا کر بتا یا۔

”نہیں۔۔۔؟ قسم کھاؤ۔“ سمیع نے بے یقینی کے انداز میں کہا۔

”چوہان صا حب سے پوچھ لو۔“ اس نے میری گواہی ڈالی۔ سمیع نے میری طرف دیکھا تو میں نے ندیم کی تائید کی۔ 

”اس زمانے میں نیٹ کیفے نئے نئے وجود میں آئے تھے اور اس علاقے میںیہ ایک طرح کی رئیر یٹی(rarity) تھی۔“ میں نے وضا حت کی۔

”اتنا مہنگا نیٹ کون استعمال کرتا ہوگا؟“ 

”زیادہ تر نوجوان یا غیر ملکی سیاح۔ سیاح ضرورت کے لیے اور مقامی نوجوان تجسس اور شوق کے لیے۔“

”تجسس کس چیز کا؟“ 

”جس تجسس اور شوق کے لیے تم روز نیٹ کیفے میں ذلیل ہوتے تھے۔“ طاہر نے سمیع کو جواب دیا تو سب نے قہقہہ لگا یا۔

”ویسے ہوتے ذلیل ہی تھے۔“ سمیع نے تسلیم کیا ”نیٹ کی سپیڈ اتنی کم ہو تی تھی کہ دو دو گھنٹے تو سائٹ ہی نہیں کھلتی تھی۔“ 

اس پر جو گفتگو شروع ہوئی اس کے لیے کیفے ڈی ہنزہ مناسب جگہ نہیں تھی اس لیے ہم کافی ختم کر کے باہر نکل آئے۔ دکانیں بند ہو چلی تھیں۔ بازار تقریباً سنسان تھا۔ہم ”کلرز آف ہنزہ“ کے اونچے اور بڑے تھڑے پر بیٹھ گئے ۔ باقی دوست بھی رفتہ رفتہ وہیں پہنچ گئے۔ اب ہنزہ کی ہوا، ہوا میں گھلی ہنزہ کی رات کی نم خوشبو، سیاہ آسمان کے پس منظر میں راکا پوشی کی سرمئی سلوٹ، وادی میں ٹمٹماتے برقی قمقمے، دھیرے دھیرے نیند میں ڈوبتا بازار، اور ہنزہ پر اترتی سرد رات ہمارے ساتھ تھے۔۔۔ 

بلتیت 

آج ہمارا ہنزہ میں آخری دن تھا۔ ختم ِ ملاقات کا وقت۔ 

کچھ برس پہلے بھی ایسا ہی کھلا کھلا دن تھا، ہنزہ کی ہوا میں فرحت اور شگفتگی تھی۔ پیڑ پھلوں سے اور پودے خوش رنگ پھو لوں سے سج کر مستانہ وار جھومتے تھے اور دھوپ سے راکا پوشی کی چمک آنکھیں خیرہ کرتی تھی۔ہم یو ں ہی گھومتے ہوئے دربار ہو ٹل تک پہنچے تو خیال آیا کہ کیوں نا میر غضنفر علی صاحب، میر آف ہنزہ سے ملا جائے۔گوان کی امارت اب علامت کی حد تک رہ گئی تھی لیکن پھر بھی وہ ایک روایت کا تسلسل تھے اور روایتوں کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔ ان کا محل دربار ہوٹل کے پیچھے تھا۔ ایک مختصر راستہ ہمیں ایک چھوٹے سے دروازے پر لے گیا جس کے اوپر شیروں کے 2 مجسمے نصب تھے۔جسامت کے اعتبار سے وہ شیروں کے بچے جتنے تھے اور سیاسی شیروں کی طرح بے رعب اور مسخرے سے لگتے تھے۔ یہ روایت چین سے آئی تھی۔ چین میں شاہی محلات کے باہر محافظ شیروں کے مجسمے نصب کروانے کا رواج 206 ق م سے 220 عیسوی کے آس پاس ہان سلاطین نے شروع کیا تھا۔ چوں کہ چینیوں نے شیروں کا نام ہی سنا تھا، دیکھے نہیں تھے اس لیے وہ مجسمے میر صاحب کے دروازے پر بنے شیروں کی طرح کافی بے تکے سے ہوا کرتے تھے۔اصلی شیروںسے واقف بدھ مت کے پیروکار ہندوستان سے چین گئے تو ان مجسموں کو نئی خوبصورتی اور مفاہیم ملے اور وہ شان و شوکت اور خوش بختی کی علامت ٹھہرے۔ 

ہم جھجکتے ہوئے اندر دا خل ہوئے تو سامنے ایک پختہ روش تھی جس کے دائیں جانب ذرا نیچائی میں ایک وسیع چمن تھا جس میںجا بجا بہار خیمہ زن تھی۔ بہار کا جو کارواں میدانی علاقوں سے فروری مارچ میں گزرتا ہے وہ سرد موسم کے باعث جولائی اگست میں ہنزہ پہنچتا ہے۔ چمن کے آخر پر پتھر کی ایک عمارت تھی جو اپنے اندرقدامت، روایت اور شوکت دونوں رکھتی تھی۔ایک طرف کو بیٹھے چند لوگوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر ہماری طرف آیا اور وجہ ِ نزول دریافت کی۔میں نے میر صا حب سے ملا قات کی خواہش ظاہر کی تو وہ میرا کارڈ لے کر اندرچلا گیا۔ کچھ دیر میں لو ٹا اور ہمیں اپنے پیچھے آنے کو کہا۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -