سر عام گٹکے اور ماوے کی فروخت پر حنید لاکھانی کا تشویش کا اظہار

سر عام گٹکے اور ماوے کی فروخت پر حنید لاکھانی کا تشویش کا اظہار

  

کراچی(سٹاف رپورٹر) سماجی رہنما و ماہر تعلیم حنید لاکھانی نے کہا ہے کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں گٹکے اور ماوے کی فروخت جاری ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ پولیس کو معلوم نہ ہو کہ گٹکا اور ماوا کہاں کہاں فروخت ہورہا ہے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ گٹکے اور ماوے کی تیار ی میں سپاری کی بجائے کھجور کی گھٹلیوں کوتیزاب میں جلا کر استعمال کیا جاتا ہے گٹکا اور ماوا کھانے والوں کو خطرناک بیماریاں لا حق ہورہی ہیں، ان خیالات کا اظہارا نہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، حنید لاکھانی نے کہا کہ گٹکے کی تیار ی میں بنیادی طور پر خشک چھالیہ، تمباکو، کتھا اور چونے کا استعمال کیا جاتا ہے گٹکے میں جو سپاری استعمال ہوتی ہے وہ سی گریڈ یعنی سب سے زیادہ ناقص اور مضر صحت ہوتی ہے ایسی چھالیہ کھانے والوں میں منہ، جگر سمیت مختلف اقسام کے کینسر پھیل رہے ہیں گٹکے اور ماوے کا زیادہ استعمال منہ کے

کینسر کی بڑی وجہ ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ گٹکے اور ماوے کی فروخت سر عام ہورہی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں تو پولیس کی سرپرستی میں گٹکا، ماوا اور مین پوری جیسی نشہ آور اور مضر صحت اشیاء فروخت کی جارہی ہیں، بدقسمتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل نہایت تیزی سے گٹکے اور ماوے جیسی گندی لت کے عادی ہوتی جارہی ہے ملک دشمن عناصر ہماری نوجوان نسل کو نشے کی لت میں لگا کر تباہ کردینا چاہتے ہیں سندھ حکومت گٹکے اور ماوے کی روک تھام کے لیئے اقدامات کر ے اور عدالتی احکامات کے مطابق ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کرے جو لوگ گٹکے اور ماوے کی فروخت کر رہے ہیں اور عوام کی جانوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -