رَفتید وَلے نہ از دلِ ما

رَفتید وَلے نہ از دلِ ما
رَفتید وَلے نہ از دلِ ما

جنوری سے جون آیا موت کا سفر لیکن آج تک نہ تھم پایا۔ بلکہ اب تو جون بھی ختم ہوا۔ جولائی آگیا یہ مہینہ ہر لحاظ سے بے حد اہم ہے، قومی دھارے کو انتخابات کے ذریعے ایک نئے موڑ کی طرف لے جانے کا اہم مہینہ مگر بہت سے نابغۂ روزگار حضرات و خواتین اس بار اِس کا حصہ نہ بن سکیں گے۔یکم جنوری 2018ء سے 30جون تک دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھارنے والوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے، تُو چل مَیں آیا کی کیفیت حاوی رہی کچھ کے بارے میں اِکا دُکا سطر دو سطرمیں لکھا جاسکا، اکثریت ایسوں کی ہے جن کو خاطر خواہ آخری ’’پروٹوکول‘‘ تو کیا دیا جاتا مختصراً بھی ذکر خیر نہ کیا گیا چنانچہ اب میں جمع کررہا ہوں جگرِ لخت لخت کو کہ یہ سب مسافران عدم نازشِ جہاں تھے، فخرِ ادب تھے، شیریں زباں تھے، غنچہ دہاں تھے، خوش بیاں تھے۔۔۔

سال رواں کے آغاز یعنی پہلے ہی مہینے جنوری 2018ء کی پانچویں تاریخ کو حضرتِ رَسا چغتائی 90برس کی عمر 1928ء تا 2018ء میں راہئی مُلکِ عدم ہوئے۔ انہوں نے کراچی میں عمرِ عزیز کا بیشتر حصہ گزارا، وہیں سُپردِ خاک کئے گئے، ایک شعر ایسا لازوال چھوڑ گئے، جو انہیں تا ابد زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے:

تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسمِ بہار رہا

’’ریختہ‘‘ پہلامجموعہ تھا جسے شکیل عادل زادہ نے اپنے اشاعتی ادارے ’’سب رنگ‘‘ پبلی کیشنز کراچی سے سادگی کا پُرکاری کا دلکش نمونہ بناکر چھاپا مجموعہ آتے ہی ]محتشم بیگ[ رَسا چغتائی نے اہلِ علم و ادب اور سخنو رانِ نامور کو اپنی طرف بھرپور اندازمیں متوجہ کیا۔ترتیب وار نہ سہی جس جس کا نام یاد آتا جارہا ہے، مَیں لکھ رہا ہوں کہ سکھر میں اپنی طرز کے منفرد شاعر حافظ رشید، 18مارچ 2018ء کو دنیا چھوڑ گئے وہ 2مئی 1946ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد سے سکھر میں اپنے نام اور مقام کے ساتھ بھرپور ادبی زندگی میں فعال رہے۔ ابتدا میں احمد سعید خان پیلی بھیتی سے اصلاحِ سخن کراتے رہے، پھر خود اُستاد ہوگئے۔ حافظ رشید کے دو شعر:

جو گفتگو پسِ دیوار ہونہیں سکتی

وہ سر پھرے سرِ بازار کرنا چاہتے ہیں

عداوتیں بھی وہ رکھتے ہیں ساتھ ساتھ مگر

محبتوں کا بھی اظہار کرنا چاہتے ہیں

مشہور سندھی انقلابی رہنما مصنف سیاست دان اور ’’ایکٹیوسٹ‘‘ رسول بخش پلیجو طویل بیماری کے بعد بالآخر 88برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ اُن کی تمام عمر عام آدمی کی بھلائی کی جدوجہد میں گزری!

مشہورِ زمانہ مصّور، آرٹسٹ، پینٹر، ڈیزائنر انعام راجا ماہِ اپریل کی آخری تاریخ یعنی 30اپریل 2018ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ وہ 20جولائی 1956ء کی پیدائش تھے۔ یوں انہوں نے کل 60برس کے لگ بھگ عمر پائی اور اپنے فن کے اَنمِٹ نقوش جریدہ عالم پر ثبت کرگئے۔

ایک زمانے میں اُن کی السٹریشن ’’سب رنگ‘‘ ڈائجسٹ کی جان ہوا کرتی تھیں، اب نہ وہ سب رنگ ہے نہ انعام راجا، رہے نام اللہ کا۔ ’’سب رنگ‘‘ کے بانی مدبر، پہلے قلم کار اُردو نثر نگاری، خصوصاً اداریہ نویسی میں حرفِ آخر شکیل عادل زادہ کو اللہ تعالیٰ صحت و تندرستی کے ساتھ قائم و دائم رکھے! غالباً اپریل 2018ء ہی کے شب و روز میں کسی دن شاعر خوش نوا اظہر ضیا بھی رخصت ہوئے، وہ اسلام آباد کی ادبی محافل کی میزبانی میں یکتا تھے!

28جون 2018ء میں پروفیسر یوسف حسن، راولپنڈی میں انتقال کرگئے۔ وہ بہت اچھی غزل کہتے تھے۔ میرے اکثر مرتبہ ’’ انتخابِ غزل‘‘ میں ان کی غزل شامل رہی۔ اس سلسلے میں دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ’’1982ء کی منتخب غزلیں‘‘ میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے ’’ی‘‘ کی پٹی میں سب سے آخری غزل یوسف حسن کی شامل تھی کہ ادارۂ مطبوعاتِ حرمت راولپنڈی کے مالک، پبلشر زاہد ملک نے وہ صفحہ نکال دیا میں نے احتجاج کیا تو پوچھا۔

’’یہ حکیم یوسف حسن ہیں نا، جونیرنگ خیال کے مالک و مدیر رہے، مَیں نے بڑی مشکل سے سمجھایا کہ حکیم یوسف حسن اور ہیں وہ شاعر نہیں، یہ شاعر، اُردو کے پروفیسر اور یوسف حسن ہیں۔ جو اُن دنوں گورنمنٹ کالج چکوال میں شعبۂ اُردو کے صدر تھے،یہ واقعی اُن کی شاعری کے عروج کا زمانہ تھا۔ یوسف حسن کی غزل کے چند شعر یہاں قارئین کے ذوقِ طبع کے لئے درج کرتا ہوں :

اِسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا

یہ دل کا دَرد مگر زادِ رہگزر بھی تھا

اسی پہ شہر کی ساری ہوائیں برہم تھیں

کہ اک دیا میرے گھر کی مُنڈیر پر بھی تھا

مجھے کہیں کا نہ رکھا سفید پوشی نے

میں گرَد گرد اُٹھا تھا تو معتبر بھی تھا

اپنی جانب سے کیا ترکِ تعلق اُس نے

اور مجھے عہدِ وفا یاد دلانے آیا

یوسف چھلک رہا ہوں میں اپنے وجود میں

دریا کی دُھن میں دل کی صدا اور ہوگئی

ساہیوال کے ایک خوش گو اور خوشگوار شاعر غضنفر عباس سیدّ بھی اسی سال 2018ء کی ششماہی میں ’’رخصت اے بزمِ جہاں‘‘ کہتے ہوئے رخصت ہوئے ان کے اکلوتے مجموعہ ’’زیرِ آب چراغ‘‘ کو ساہیوال کے معتبر غزل گو شعراء جعفر شیرازی اور گوہر ہوشیار پوری کی تحریری طور پر پذیرائی حاصل تھی۔ خصوصاً ان دو تین اشعار کے حوالے سے:

فصیلِ جبر گرِا کر عوام تک پہنچا

مرا امام ہی عالی مقام تک پہنچا

واجب ہے اس لئے بھی بہاروں کا احترام

سبزہ مرے وجود کا پہلا لباس تھا

اب بدن حائل ہے جن کی صورتوں کے درمیاں

مَوت پر اُن رفتگاں سے رابطہ ہوجائے گا

اور آخر میں ایک ایسا شعر جس میں رُوح کے قفسِ عنصری سے پرواز کر جانے کی اطلاع ہے:

عجب طرح سے ہوئی اب کے میری ذات اسیر

بدن قفس میں ہے سایہ قفس سے باہر ہے

لکھنے والوں کی صَف کے ایک مقبولِ عام مصنف مظہر کلیم ایم اے 80برس کی عمر میں 26مئی 2018ء کو ملتان میں انتقال کرگئے۔ وہ مقبولِ عوام و خواص ناولوں کی سیریز ’’ عمران سیریز‘‘ کے خالق تھے ابنِ صفی اور اشتیاق احمد کی قبیل کے مشہور اور پسندیدۂ عوام مصنف، حق مغفرت کرے!

زندگی میں ایک بار مرحوم سے ملاقات ہوئی میں اُن دنوں بھی ادب لطیف کا ایڈیٹر تھا اور ایک رسالے بیسویں صدی لاہور کا بھی، کلاس فیلو (بلیغ الدین) جاوید ہوشیارپوری مجھے ملانے لے گئے تھے وہ ملتان سے لاہور آکر ایک بہت ہی غلیظ سے پلازا کی دوسری منزل کے ایک گندے سے کمرے میں فروکش تھے۔

یہ پلازا انار کلی میں قطب الدین ایبک کے مزار کے سامنے پان گلی کی طرف جانے والے راستے میں واقع تھا۔ یہ مظہر کلیم کی کس مپرسی کا دَور تھا پھر تو اُن پر جوہُن برسا وہ عالم نے دیکھا اللہ دے اور بندہ لے!

اسی ششماہی میں، اسی سال میں ’’دوہے‘‘ کے ایک بڑے اچھے شاعر طاہر سعید ہارون بھی چل بسے۔طاہر سعید ہارون کے وودو ہے:

پیارنہ کرنا بانوری لگ جائے گا روگ

پتھر کی دیوار میں چُن دیتے ہیں لوگ

پریت دھرم نہ دیکھتی پریت نہ جانے ذات

کس کے دل میں گھر کرے، جانے اک ہی بات

ہم اپنے رفتگاں کو یاد کرتے رہتے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے بقولِ فردوسی:

اے ہم نفسانِ محفل ما

رَفتید وَلے نہ از دلِ ما

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...