خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی چوہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ

خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی چوہوں کیخلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ

ملتان (سپیشل رپورٹر ) محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ چوہے ہر سال کھیتوں میں موجود فصلوں کے علاوہ ذخیرہ شدہ اجناس اور فارم پر موجود زرعی آلات کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ چوہے غذائی اجناس میں اپنا فضلہ شامل کرتے ہیں جس سے انسانی صحت کو نقصان کے علاوہ ان کی مارکیٹ ویلیو بھی کم ہوجاتی ہے ۔بل بنانے اور کترنے کی عادات کے باعث چوہے پیک شدہ سامان خصوصاََ کپڑوں ،گھریلو استعمال کے لکڑی کے فرنیچراور بجلی کے سامان کی تاروں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ یہ چھتوں ، (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

عمارتوں ، پلوں ، کھیت کے وٹوں اور کھالوں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ چوہے انسانی و حیوانی اور پرندوں کی 60سے زائد خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتے ہیں۔گھروں ، گوداموں اور کھیتوں میں چوہوں کے پیروں کے نشانات ، فضلہ اور مٹی کی ڈھیریوں سے ان کی موجودگی کا آسانی سے پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔ترجمان کے مطابق چوہوں سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے ان کی تلفی کے لیے پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر بھرپور مہم شروع کی جائے۔گھروں ،دفاتر ، گوداموں اورکھیتوں میں ان کی افزائش نسل کی جگہوں کو ختم کیا جائے ۔ چوہوں کے بلوں کو مٹی یا پانی سے بھر دیا جائے تاکہ ان کا خاتمہ ہو سکے۔ چوہوں کے خاتمہ کے لیے گوداموں اور زرعی فارموں پر بلیاں پالی جائیں اور چوہوں کے انسداد کے لیے مخصوص پھندے لگا ئے جائیں۔ زنک فاسفائیڈ فوری اثر کرنے والی زہر کا طعمہ (ایک حصہ زنک فاسفائیڈ + تین حصے آٹامیں تھوڑا سا گڑ ملا کر )تیار کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائی جائیں ۔ ان گولیوں کو بعد از غروب آفتاب چوہوں کے بلوں اور ان کی گزرگاہوں کے قریب رکھ دیا جائے ۔محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی صوبہ بھر میں چوہوں کی تلفی کیلئے خصوصی ہدایت پر ضلع مظفر گڑھ میں ایک عملی اور موثر مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ چوہوں کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے زرعی رقبہ جات، نیم شہری علاقے، گاؤں، دفاتر، مکانات اور ان کے مختلف چھپنے کی جگہوں پر ان کے خاتمے کی مہم چلائی ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے کاشتکار، دیہی و شہری عوام کو محکمہ زراعت کی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ ضلع مظفر گرھ میں محکمہ زراعت توسیع کی 100سے زائد ٹیمیں کاشتکاروں کو کپاس کے تربیتی پروگراموں میں کپاس کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چوہوں کے کیمیائی طریقہ انسداد بارے عملی تربیت فراہم کررہی ہیں۔ ایک دن میں 40سے زائد تربیتی پروگراموں میں01ہزار سے زائد کاشتکاروں کو چوہوں کے نقصانات اورکامیاب تدارک بارے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ضلع بھر میں متعلقہ پمفلٹس، اشتہار اور ہینڈ بلز کی کاشتکاروں کو تقسیم اور فراہمی کا سلسہ بھی جاری ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر