ہندکو زبان کے عظیم صوفی شاعر احمد علی سائیں کی82 ویں برسی کے حوالے سیتقریب

ہندکو زبان کے عظیم صوفی شاعر احمد علی سائیں کی82 ویں برسی کے حوالے سیتقریب

پشاور( پاکستان نیوز ) گندھارا ہندکو بورڈ پشاورکے زیر اہتمام ہندکو زبان کے عظیم صوفی شاعر احمد علی سائیں کی82 ویں برسی کے حوالے سے ایک تقریب گزشتہ روز گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کانفرنس روم میں منعقد ہوئی جس میں علی اویس خیال کی مایہ ناز تحقیقی کاوش ’’گنجینہ سائیں‘‘ کی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔تقریب کی صدارت اقبال علی اخونزادہ نے کی جبکہ مہمان خصوصی ہندکو زبان کے شاعر، ادیب سید سعید گیلانی تھے ۔تقریب میں گندھارا ہندکو بورڈ کے وائس چےئرمین ڈاکٹر صلاح الدین، جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین،گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد عادل،ضیاء الحق سرحدی، احمد ندیم اعوان،ماہر تعلیم سہیل انجم ،نذیر بھٹی، وسیم شاہد، فاروق جان بابر ،سکندر حیات سکندر،نورین اخونزادہ،رخشاں انجم، قدسیہ قدسی،مشرف مبشر سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے کہا کہ احمد علی سائیں کا کلام آفاقی حیثیت کا حامل ہے اور اس سے ہر بندہ فیض حاصل کر سکتا ہے ۔ احمد علی سائیں ہندکو زبان کے صوفی شاعر تھے اور شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ نے احمد علی سائیں کوغالب ہندکو کا خطاب دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈ کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے اسلاف اور اکابرین کے دن اور برسیاں بڑے اہتمام کے ساتھ مناتا ہے اور یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔محمد ضیاء الدین نے کہا کہ کسی بھی زبان کے ادب و ثقافت کی ترویج و ترقی کیلئے اس زبان کے صوفی شاعر کا ہونا ضروری ہوتا ہے، گندھارا ہندکو بورڈ نے احمد علی سائیں کے کلام کونہ صرف اکٹھا کیا بلکہ اسے کتابی صورت بھی دی ۔تقریب میں موجود دیگر شرکاء نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہہندکو ادب میں احمد علی سائیں کا منفرد مقام ہے اور انہوں نے اپنے کلام میں حمد و نعت کے علاوہ حسن و عشق کے رموز اور تصوف کے اسرار و حقائق پر قلم اُٹھایا ہے جو اُن کے منفرد ہونے کی دلیل ہے۔گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد عادل نے کہا کہ سائیں کے کلام کی اینڈرائیڈ ایپ پر بھی کام جاری ہے انشاء اﷲ عنقریب کلامِ سائیں پر مشتمل اینڈرائیڈ ایپ منظرعام پر آجائیگی۔تقریب میں موجود شرکاء احمد ندیم اعوان، سکندر حیات سکندر، سعید پارس، سہیل انجم، سردار فاروق احمد جان بابر، علی اویس خیال،وسیم شاہد، علاؤ الدین عدیم، پروفیسر حامد الرحمن، نذیر بھٹی، صادق حسین صبا، اشفاق حسین،شاد محمد انشاء، طاہر محمود،نواز صابر ،یونس صابر،استاد بشیراور دیگر نے سائیں کے صوفیانہ کلام کے حوالے سے بات چیت کی اور احمد علی سائیں کومنظوم و منثور خراج تحسین پیش کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر