بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق!

بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق!
 بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انڈیا کے مشہور شہر میرٹھ ]یو۔ پی[ کے قریب ایک تاریخی جگہ ہے ہاپوڑ۔ہاپوڑ کے پاپڑ بہت مشہور ہیں ’’ہاپڑ کے پاپڑ‘‘ اور وہاں ہاپوڑ ہی کے مشہور غزل گو اور مزاح نگار شاعر بوم ہاپوڑی بھی تھے،جو بوم میرٹھی بھی کہلاتے تھے،جن کا ایک مشہورِ زمانہ مقطع ہے:


اِن حسینوں نے اُجاڑیں بستیاں
بوم سالا مفت میں بدنام ہے
بُوم کے معنی اُلّو کے ہیں اور اُلّو ویرانہ پسند کرتا ہے۔اس پس منظر میں متذکرہ شعر کا مزہ لیں۔اسی ہاپوڑ کے قرب و جوار کے مشہور افسانہ نگار انتظار حسین بھی تھے جن کا تعلق ہاپوڑ کی ایک بستی ڈُبائی سے تھا جہاں کے ایک شاعر حضرتِ دُعا ڈبائیوی بھی مشہور گزرے ہیں۔ کراچی میں ایک اُمید ڈبائیوی بھی تھے جو بعدازاں امید فاضلی ہو گئے تھے اور اسی نام سے مشہور و مقبول رہے۔اب امید ڈبائیوی کو کوئی نہیں جانتا، تو یُوں سمجھ لیں کہ زیر تذکرہ ہاپوڑ کے پاپڑ ہی مشہور نہیں تھے بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق،بوم ہاپوڑی اور انتظار حسین بھی یکتائے زمانہ شخصیتوں میں شامل ہیں۔۔۔!’’بابائے اُردو‘‘ کہلانے والے مولوی عبدالحق ’’فنافی الارُدو‘‘ تھے۔اُردو کے لئے جئے اُردو کے لئے مَرے۔اُن کا جینا مرنا اس میٹھی زبان اُردو کے ساتھ تھا، جسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے اور جو فارسی،ہندی سنسکرت،ترکی،انگریزی اور نجانے کتنی زبانوں سے مل کر بنی ہے،مگر ماشاء اللہ کیا زبان ہے!کیسی کیسی شاعری اس زبان میں ہوئے چلی جا رہی ہے۔ تبھی تو داغ دہلوی نے کہا تھا:


اُردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ!
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اب یہ زبان ہندوستان سے نکل کر دُنیا کے پونے دو سو ممالک میں بولی سمجھی پڑھی لکھی جاتی ہے اسی لئے یار لوگوں نے داغ کے دوسرے مصرعے میں تحریف کردی ہے اور اسے ’’سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے‘‘۔۔۔ بنا لیا ہے۔اس عالمگیر زبان کے اسیر ’’بابائے اُردو‘‘ ڈاکٹر مولوی عبدالحق تھے۔ زیادہ تر انہوں نے تجردّ کی زندگی گزاری،بس اُردو کے گیسو سنوارنے نکھارنے میں شب و روز گزارے،وہ سمجھتے تھے:بقولِ اقبال :
گیسوئے اُردو ابھی منت پذیرشانہ ہے


اُردو یونیورسٹی قائم کرنا بھی بابائے اُردو کا خواب تھا جو بالآخر تعبیر کا روپ دھار چکا۔ کراچی اور اسلام آباد میں اُردو یونیورسٹی کو آج برسر عمل دیکھتے تو بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق یقیناًبہت خوش ہوتے یا اُن کی روح بہرحال شاداں ہو گی کہ وہ جس اُردو یونیورسٹی کے لئے پائی پائی پس انداز کرنے کے خوگر تھے وہ بالآخر بن گئی۔یہ واقعہ ہے کہ اگر کبھی کوئی عقیدت مند بابائے اُردو کو دعوتِ طعام دیتا تو وہ اُس سے پوچھتے کہ میرے علاوہ بھی آپ کے گھر کے افراد سمیت جو چند لوگ دعوت نوشِ جاں فرمائیں گے اُن پر کل کتنا خرچہ آئے گا؟ مدعو کرنے والا تخمینہ بتاتا تو کہتے اُتنی ہی رقم اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے چندے میں دے دو!‘‘ اور سمجھ لو کہ مَیں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے۔یوں دعوت دینے والا عموماً دعوت بھی دیتا اور جی بھر کے مولوی صاحب کو چندہ بھی پیش کرتا۔چندہ لیتے وقت وہ واضح کر دیتے کہ یہ اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے ہے یوں انہوں نے اُردو کالج تو1949ء ہی میں قائم کر لیا تھا اُردو یونیورسٹی کا خواب اُن کی وفات کے بعد شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔۔۔!


بابائے اُردو مولوی عبدالحق اُردو کے صفِ اول کے نقاد،محقق،انشا پرداز،ادیب، ماہر لسانیات، لُغت نویس ماہر صَرف و نَحو، منفرد خاکہ نگار اور کسی حد تک شاعر بھی تھے۔بابائے اُردو مولوی عبدالحق1870ء میں ہاپوڑ ضلع میرٹھ ]یو۔پی[ انڈیا میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔


O 1888ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور1894ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ پھر حیدر آباد دکن آ گئے،جہاں مدرسۂ آصفیہ کے صدر معلم مقرر کئے گئے۔رفتہ رفتہ ترقی کر کے انسپکٹر آف سکولز ہو گئے۔۔۔1912ء میں انجمن ترقئ اُردو کی بنیاد رکھی اور خود سیکرٹری مقرر ہوئے۔اس انجمن کی شاخیں مُلک بھر میں قائم کیں۔سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں اُردو کو اس کا جائز مقام دلوانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔دو سہ ماہی رسالے ’’اُردو‘‘ اور ’’سائنس‘‘ کے نام سے جاری کئے۔انجمن کے تحت ہزاروں ہی نادر ونایاب کتب کی اشاعت کا اہتمام کِیا۔۔۔! حیدر آباد]دکن[ میں عثمانیہ یونیورسٹی قائم کرائی، جس میں تعلیم اُردو زبان میں دی جاتی تھی۔تعلیم کے مختلف شعبوں سے ریٹائر ہو کر بابائے اُردو مولوی عبدالحق،عثمانیہ یونیورسٹی کے صدر مقرر ہو گئے اور وہاں ایک معیاری دارالترجمہ قائم کرایا،جہاں تمام تر جدید علوم و فنون اور سائنسی موضوعات پر مبنی کتابیں اُردو میں ترجمہ کرائی جاتی تھیں۔ایسی ہی سینکڑوں کتابوں کے مختصر و طویل دیباچے اور تعارفی سطور بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے لکھیں۔


O قیامِ پاکستان کے بعد مولوی عبدالحق کراچی تشریف لے آئے اور تادَم مرگ اسی شہر میں مقیم رہے۔ پاکستان آ کر سب سے پہلے اُنہوں نے کُل پاکستان انجمن ترقیئ اُردو کی بنیاد ڈالی۔ایک موقر ماہانہ رسالہ ’’قومی زبان‘‘ کے نام سے جاری کیا۔جس کی مدیر اعلیٰ آج کل معروف، ممتاز شاعرہ محترمہ ڈاکٹر فاطمہ حسن ہیں[۔


O اُردو کالج قائم کِیا اور اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے تَن مَن دَھن کی بازی لگا دی۔ اُردو کالج اب اُردو یونیورسٹی کے قالب میں ڈھل چکا ہے،مگر بابائے اُردو اپنی زندگی میں اسے یونیورسٹی کی شکل میں نہ دیکھ سکے۔ 16اگست1961ء کو 92برس کی عمر میں راہ�ئ ملکِ عدم ہوئے اور اُردو کالج کراچی کے احاطے میں ہی دفن کئے گئے!


O بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے یاد گار مستقل نوعیت کی تصانیف زیادہ تعداد میں نہیں چھوڑیں کہ وہ لُغت نویسی کو زیادہ وقت دیتے رہے۔اُردو،انگلش ڈکشنری بھی اُن کا کارنامہ ہے جس کے لئے ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی بھرپور معاونت اُنھیں حاصل رہی۔


O ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی چند تصانیف و تالیفات میں ’’خطباتِ عبدالحق۔سر سید احمد خان‘‘۔قواعدِ اُردو۔۔۔ ’’اُردو کی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ‘‘۔ اور باالخصوص شخصی خاکوں کا ایک شاہکار مجموعہ ’’ چند ہمعصر‘‘ شامل ہیں۔’’چند ہمعصر‘‘ میں اپنے مالی پر لکھا گیا خاکہ کمال کا ہے۔۔۔اور خاکے بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔


O بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق جب ملازمت کے سلسلے میں اورنگ آباد میں مقیم تھے تو انجمن کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گئے۔حیدر آباد (دکن) انجمن کا مرکز ٹھہرا مگر دلی میں بھی انجمن ترقی اُردو کی شاخ بہت فعال رہی اور ہزاروں کتابیں انجمن کے مختلف مراکز سے شائع ہوتی رہیں۔پاکستان آ کر انہوں نے اُسی عزم و حوصلے اور ہمت و استقامت سے انجمن کو بے حد فعال رکھا اس کے پہلے صدر سر شیخ عبدالقادر تھے، جو علامہ اقبالؒ کے بانگِ درا‘‘ کے دیباچہ نگار اور سابق ’’مدیر ’’مخزن‘‘ لاہور بھی تھے۔


O بابائے اُردو ہر صورت میں کام اور کام کے قائل تھے کہ یہ بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا بھی فرمان تھا:
کام۔کام۔اور کام


O بابائے اُردو پیرانہ سالی میں بھی عزم جواں رکھتے تھے اور کام سے تھکتے نہیں تھے۔بیوی،بچوں کا ٹنٹا اُنہوں نے نہیں پالا تھا کہ اُن کے لئے اُردو کی کتابیں اور اُردو ہی سب کچھ تھی۔۔۔اپنے جواں عزم،جواں حوصلہ ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ ’’بڑھاپا سفید بالوں اور جُھکی ہوئی کمر سے نہیں آتا،بلکہ جوان وہ ہے جس کا دِل جوان ہے اور جس کا عزم جوان ہے،حوصلہ بلند ہے اور وہ کام اور کام کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے۔


O مجھے یاد ہے لگ بھگ نوے برس کی عمر میں بابائے اُردو ہمارے اسلامیہ کالج لاہور میں آئے۔ اُنہوں نے تقریر کے دَوران طلباء کو نصیحت کی اُردو سیکھنے کے لئے باقاعدگی سے ’’نوائے وقت‘‘ کا ادارتی صفحہ پڑھا کریں اور ہم نے اِس نصیحت کو حرز جاں بنایا مگر آج کل کے ’’نوائے وقت‘‘ میں وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی؟مَیں نے بابائے اُردو کی نصیحت سُن کر اچھی اُردو سیکھنے کے لئے ’’نوائے وقت‘‘ کا ادارتی صفحہ باقاعدہ پڑھنا شروع کر دیا اور ایک دن اخبار کے دفتر جا پہنچا کہ دیکھوں وہاں لکھنے والے کون کون ہیں؟۔۔۔پتا چلا کہ حبیب اللہ اوج (حیدر آباد،اورنگ آباد دکن کے ہیں)، عرفان چغتائی ہیں۔بشیر احمد ارشد ہیں،وقار انبالوی ہیں اور نجانے کون کون اُردو کے ’’مُڈ‘‘ ہیں؟۔۔۔

مزید :

کالم -