داعش کا قیام اور ارتقاء

داعش کا قیام اور ارتقاء
داعش کا قیام اور ارتقاء

  



اس سال ماہِ جون میں عراق اور شام کے کچھ علاقوں پر مشتمل دولتِ اسلامیہ عراق و شام کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ تب سے مسلسل ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس نام نہاد مملکت کے بارے میں خبریں اور تبصرے شائع کئے جا رہے ہیں ۔ ان خبروں میں اگر ایک طرف دولتِ اسلامیہ کی فتوحات کا ذکر ہے تو دوسری طرف ان کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی کہانیاں ایک خاص اہتمام اور تفصیل سے شائع کی جاتی ہیں۔ ان تمام خبرو ں اور تبصروں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو جو پوری تصویر اُبھرتی ہے وہ بڑی غیر منطقی بھی ہے اور ناقابلِ یقین بھی۔

دولتِ اسلامیہ ، جس کے اب تک تین مختلف نام سامنے آ چکے ہیں ، کے قیام کا اعلان ابو بکر البغدادی نے جون 2014ء میں کیا۔ البغدادی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ پانچ سال کے اندر اندر پرتگال سے لے کر انڈیا تک پھیلے ہوئے تمام ملکوں پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کو وسعت دے گا۔ ابو بکر البغدادی نے اپنے لئے خلیفہ ابراہیم کا نام یا لقب اختیار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ابو بکر البغدادی شمالی عراق کے شہر سمارا میں1971ء میں پیدا ہوا۔ اس کہانی کے مطابق ابوبکر البغدادی نے بغداد کی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اور اپنے آبائی شہر میں امام مسجد اور مبلغ کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ اس کہانی کی تصدیق کے لئے ابھی تک کوئی چشم دید گواہ میسر نہیں آ سکا ۔ نہ ہی اس کے والدین یا دیگر رشتہ داروں کا کوئی اتہ پتہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے خلیفہ کے اعلان کے بعد اس کے گھر والے کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔

مختلف ذرائع ابلاغ کی طرف سے مہیا کردہ معلومات کے مطابق داعش نہ صرف القاعدہ سے زیادہ ظالم اور متشدد تنظیم ہے، بلکہ اس سے بالکل مختلف انداز میں کام کر رہی ہے۔ اس کے پاس 25سے 30ہزار تربیت یافتہ جنگجو ہیں، جن میں 2سے 3 ہزار مختلف یورپی ممالک سے بھرتی کئے ہوئے افراد شامل ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ داعش کی فوج میں زیادہ تر افراد صدام کے دور کے سابقہ فوجی ہیں۔

داعش کے پاس امریکی فوج کا چھوڑا ہوا بے پناہ اسلحہ موجود ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے ہاتھ یہ اسلحہ کیسے لگا ۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج نے جان بوجھ کر یہ اسلحہ ان کے لئے چھوڑ کر اپنا علاقہ خالی کر دیا، چونکہ اس کے پاس اپنا ایک علاقہ بھی ہے، فوج اور وسائل بھی اس لئے اس کے کام کرنے کا انداز واقعی ایک ریاست جیسا ہے۔ اپنے زیر قبضہ علاقے میں وہ لوگوں کو باقاعدہ تنخواہیں ادا کرتے ہیں اور اپنی آمدنی کا ایک معتدبہ حصہ فلاحی کاموں پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ ان کے ذرائع آمدنی میں غیر قانونی طریقے سے فروخت کردہ پٹرول ، زرعی اجناس اور محصولات شامل ہیں۔ داعش کی آمدنی کروڑوں میں نہیں اربوں میں بیان کی جاتی ہے۔

یہاں تک تو کہانی کا صرف ایک رُخ ہے، لیکن دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر یہ اعلان بھی کر رہے ہیں کہ داعش کا قیام دراصل امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کا مرہونِ منت ہے ۔ امریکی قومی تحفظ کے ادارے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے جو دستاویزات افشاء کی ہیں ان کے مطابق ابو بکر البغدادی ایک یہودی ماں باپ کا بیٹا ہے جس کا نام ایلیٹ شمعون ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق ایلیٹ شمعون کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے عراق اور شام کی سرحد کے قریب اردن کے علاقے میں سخت فوجی تربیت مہیا کی۔ اس تربیت میں ابوبکر البغدادی کو مختلف ہتھیاروں کا استعمال سکھایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے اسلام کے بارے میں وسیع تر معلومات، عربی زبان کی تربیت اور فن ِ تقریر و خطابت کی تربیت دی گئی۔ اس کے بعد اسے امریکی نگرانی میں چلنے والی بکعہ جیل میں،جو ام قصر کے نزدیک واقع تھی، ایک نامعلوم جرم کی پاداش میں کچھ عرصہ کے لئے قید کیا گیا۔ اس جیل میں ابو غریب جیل کے سابقہ قیدی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ابو بکر البغدادی کو اس جیل میں اس لئے ڈالا گیا تاکہ وہ دیگر خطرناک لوگوں سے اپنے روابط بڑھا سکے اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے بھرتی کر سکے۔ بعض جرائد نے اس کی تصاویر امریکی سینیٹر جان مکین کے ساتھ چھاپی ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق یہ تصاویر جان مکین کے ساتھ شام کے ایک باغی جنرل سلیم کی ملاقات کے وقت لی گئیں،جس میں ابو بکر البغدادی اور بعض دوسرے افرا د موجود ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کو یہ تنظیم قائم کرنے کا خیال کیوں کر آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ دس سال تک امریکی فوج کے عراق پر قبضہ کے باوجود القاعدہ کا مکمل طور پر صفایا نہیں کیا جا سکا۔ اس خطے میں اپنے قیام کے جواز کے لئے ایک اور خطرے کی نشاندہی ضروری تھی اور وہ داعش کے قیام کی صورت میں پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنے ارد گرد کے علاقوں میں ایک نئے دشمن کی تلاش تھی تاکہ اس کی توسیع پسندانہ کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔ داعش کے قیام سے اسرائیل اور دیگر مغربی ملکوں کو عراق ، شام اور خطے کے دیگر ممالک میں مداخلت کا حق حاصل ہو جاتا ہے اور اس سے وسیع تر اسرائیل کے قیام کا خواب پایا تکمیل کو پہنچتا دکھائی دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ داعش کی بھی شام اور عراق میں پالیسی مختلف ہے اور امریکہ کی بھی ،جہاں شام میں داعش کی کاروائیوں کا ہدف سنی مسلمان ہیں وہاں عراق میں اس کا نشانہ شیعہ اور یزیدی فرقے کے لوگ ہیں۔ اِسی طرح امریکہ عراق کے علاقے میں ہوائی حملے کر رہا ہے، لیکن شام کے علاقے میں نہیں۔

بعض ذرائع کی طرف سے یہ بھی سوال اٹھا یا جا رہا ہے کہ اگر داعش کی کارروائیوں کا مقصد اور اسلامی سلطنت کے قیام کا مقصد سنی مسلمانوں کا دفاع ہے یا اسلامی حکومت کا احیاء ہے تو پھر داعش نے یااس کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے غزہ اسرائیل جنگ کے دوران مکمل خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی اور غزہ کے دفاع میں اپنی قوت کو استعمال کیوں نہیں کیا ؟

ابو بکر البغدادی کے بارے میں یہ دعوے اگر سچ ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے؟ کیا عرب خطے میں ایک اور لارنس آف عریبیہ پیدا ہو گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہاں کے ممالک کے مستقبل کی تصویر کیا ہو گی؟ کیا پھر کچھ ملکوں کی سرحدیں سکڑ جائیں گی اور کیا ان کا مقدر وہی ہو گا جو سلطنت عثمانیہ کا ہوا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو ، یہ ممالک کونسے ہوں گے؟

مزید : کالم