بزم جہاں سے رخصت

بزم جہاں سے رخصت
بزم جہاں سے رخصت

  

شکرِ خدا ہے سالِ رفتہ، بالآخر گزشتہ ہوا، 2017ء کے ہنگامہ خیز سال کے وقفہِ روز و شب نے متعدد شاعر، ادیب، دانشور، اہلِ قلم ہمیشہ کے لئے چھین لئے، ان باکمال، بے مثال، نابغہ ء روزگار شخصیتوں میں ’’آواز دوست‘‘ والے جناب مختار مسعود، راجہ گدھ کی مصنفہ محترمہ بانو قدسیہ، منفرد افسانہ نگار سابق ایڈیٹر ادبِ لطیف ذکا الرحمن، شاعرِ کمال حسن اکبر کمال، اداکار صداکار فاروق ضمیر، ماہر تعلیم سیاستدان، سابق وزیر محترمہ حمیدہ کھوڑو، شاعر بے مثال جمال نقوی مُدیرادیب سہیل، احمد صغیر صدیقی، ظفر خان نیازی، انیس شاہ جیلانی، نیساں اکبر آبادی، محترمہ فردوس حیدر استادوں کے استاد سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھی استاد پروفیسر مشکور حسین یاد، ڈائجسٹوں کے کامیاب لکھاری ناصر رضا، محمد ابراہیم جوئیو، عرفان الحق صائم، نعت خواں غزل میں پی ایچ ڈی سکالر محترمہ منیبہ شیخ، مسعود احمد برکاتی، (مدیر ہمدرد نونہال) پروفیسر احمد جاوید، (افسانہ نگار) نعمان پارس، احساس فکری، یوسف قمر، تصدق سہیل، پروفیسر طارق زیدی، محترمہ فرزانہ ناز، مصور و مصنف بشیر کنور، تاب اسلم، احمد خان طارق، فضل الٰہی قریشی، ’’جادوگر قانون دان‘‘ مصنف شریف الدین پیرزادہ، ریاض حسین چودھری، ایم اے راحت (ناول نگار)، نثار احمد نثار (فائن جیولر راولپنڈی) اور بھی بہت سے ہیں ہم یاد کریں گے ضرور، بھلائیں گے ہرگز نہیں۔!

نیا سال کیا آیا، ملک الموت کو ساتھ لایا، نئے سال کے پہلے ہی مہینے جنوری میں کتنے ہی یگانہ و فرزانہ اہلِ قلم شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کی سناؤنی آگئی۔ ابھی نئے سال کا پہلا مہینہ جاری ہی ہوا تھا کہ ’’تو چل میں آیا‘‘ کے مصداق، جانے والوں کی ’’لین ڈوری‘‘ لگی رہی، اس ماہ میں یار عزیز و قدیم ظہیر جاوید، ثقلین جعفری، نجم الحسن رضوی، گرامی قدر، شاعرِ بے بدل رسا چغتائی، ساقی فاروقی،ایر مارشل(ر) محمد اصغر خان، محترمہ زبیدہ طارق (جگت زبیدہ آپا) محمد علوی اور شاہد حمید کا ذکرِ خیر کرنے کو تھا کہ ہمارے، آپ کے، سب کے ہر دلعزیز منو بھائی بھی منوں مٹی تلے جا سوئے، اور زبانِ حال سے پوچھتے ہی رہ گئے:

سُپرد خاک ہی کرنا تھا مجھ کو؟

تو پھر کا ہے کو نہلایا گیا ہوں؟

منو بھائی نے لگ بھگ ساٹھ برس صحافت اور ادب سے تعلق جوڑے رکھا، ’’گر یبان‘‘ جیسا مقبولِ عام کالم بڑی مستقل مزاجی سے نصف صدی سے اوپر تک لکھتے رہنا ان کا ایک منفرد کارنامہ ہے، انہوں نے اپنے کالموں میں تقریباً ہر بچھڑ جانے والے کا نوحہ لکھا، وہ اپنی تحریروں کی توانائی کے ذریعے عوام الناس کے دکھوں اور مستقل غموں میں ہمیشہ شریک رہے۔

دامے درمے سخنے ہی نہیں عملی طور پر فلاحی ادارے سندس کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خون کی کمی کے شکار نونہالوں کی دلجوئی، اشک شوئی ہی نہیں، عملاً ہر طرح مدد کرتے رہے۔

منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا، احمد ندیم قاسمی نے انہیں قلمی نام ’’منو بھائی‘‘ سے نجانے کس سمے مُتصف کیا کہ وہ پھر سب کے ’’منو بھائی‘‘ ہی رہے، حتیٰ کہ اپنی بیگم کے بھی، ان سے جب پوچھا گیا ’’آپ کی بیگم بھی، آپ کو ’’منو بھائی‘‘ کہتی ہیں؟ تو بے ساختہ انہوں نے جواب دیا تھا، کہتی کیا؟ اب تو سمجھتی بھی ہیں‘‘۔۔۔! منو بھائی نے کالم ہی یاد گار نہیں لکھے، پی ٹی وی کے لئے بہت سے ڈرامے اور ڈراما سیریل بھی لکھے جن میں سونا چاندی، کو کسی دور میں بھی فراموش نہیں کیا جاسکا، وہ مختلف ملکی اخبارات سے مختلف حیثیتوں سے وابستہ رہے، ایک اخبار عباس اطہر کے ساتھ مل کر خود بھی نکالا مگر ان کی شناخت ہر طرح کے عہدوں سے ہٹ کر کالم نویس کے طور پر انمٹ رہی، ’’گریبان‘‘ ہمیشہ ان کا دامن گیر رہا، منو بھائی ریڈیو لاہور سے مدتوں ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کا پروگرام بھی کرتے رہے، ہر بدھ کو وہ ریڈیو آتے تو میں بھی کتابوں کے تبصرے پر مبنی اپنا پروگرام براہِ راست نشر کرنے ہر بدھ کو جاتا، یوں ہر ہفتے ملاقات کبھی ہیلو ہائی سے آگے بھی ہوجاتی، یہ زندہ پروگرام اپنی دیگر مصروفیتوں کے سبب انہوں نے چھوڑا، ایکسپو سنٹر میں ان سے ایک کتاب میلے میں آخری بار ملاقات ہوئی ’’جمہوری پبلی کیشنز‘‘ والے فرخ سہیل گوئندی لوگوں کو مائیک پر متوجہ کررہے تھے کہ بکسٹال پر منو بھائی اور ناصر زیدی بھی موجود ہیں، آئیے ان سے ملیئے، چنانچہ قدر دانوں نے ان کی کتابیں بھی ان کے دستخطوں سے خریدیں میں نے خود بھی خریدیں اور زاہد ڈار کو بھی خرید کر دیں، دستخط منو بھائی سے کرائے ان کے ادارے ’’سندس‘‘ کے حوالے سے گفتگو ہوئی میں نے کہا: دیکھیئے میں نے پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر کیسی زندہ نظم ’’سندس‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے؟

وہ ایک لڑکی

جو نرم و نازک ہے حد سے بڑھ کر

وہ نام ’’سندس‘‘ بتا رہی ہے

کہ اس کے معنی ہیں ’’نرم و نازک‘‘

اس ایک معنی کے ساتھ

جنت کا وہ لبادہ

کہ قیمتی ہے بہت زیادہ

جو عام لوگوں کی دسترس میں نہیں ہے ممکن

مگر یہ شاعر!

وہ ایک لڑکی!!

نظم سن کر کہنے لگے ’’توں میرے ادارے دے بہانے اپنا الو سِدھّا کرلیا ہن رائلٹی مینوں دے‘‘۔۔۔!

منو بھائی بہت بذلہ سبخ، باغ و بہار شخصیت کے مالک ’’ہکلا گروپ‘‘ (جاوید شاہین، احمد مشتاق اور عبدالعزیز خالد) کے اہم رکن تھے مگر اپنے ہکلے پن کی وجہ سے احساس کمتری میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے بلکہ تینوں متذکرہ شعراء کی طرح مشاعروں میں کلام سناتے ہوئے ہکلاتے بھی نہیں تھے، اور یہ بھی بتلاتے تھے کہ وہ پہلی بار ایک مشاعرے میں جاوید شاہین سے نظم مانگ کے اور اپنے نام سے سنا کے شاعر بنے اور پھر بالآخر خود شاعر بن ہی گئے، خصوصاً پنجابی شاعری میں مقام بنایا یہ کہہ کر:

حق دی خاطر لڑنا پیندا

جیون دے لئی مرنا پیندا

انسانیت کی عملی خدمت کے لئے اپنے فلاحی ادارے ’’سندس‘‘ کے ذریعے بچوں کو صحت یاب ہوتے دیکھ کر خوش ہوتے اور کہتے مرنے کے بعد مجھے جنت کی خواہش نہیں، میں نے زندگی ہی میں ان معصوم بچوں کی صورت میں اپنی آنکھوں سے جنت دیکھ لی ہے۔۔۔!

صحافت کا آغاز انہوں نے راولپنڈی کے اخباروں سے کیا تھا، ’’پنڈی میل‘‘، ناقوس‘‘، تعمیر، کوہستان وغیرہ مگر اصل پذیرائی انہیں ’’شہرِ زندہ دلاں‘‘ لاہور میں آکر ملی، 59 برس تک کالم ’’گریبان‘‘ اور وہ لازم و ملزوم رہے۔ اپنی کالم نگاری کے ذریعے ہمیشہ عورتوں کے حقوق کے لئے لڑے، کالم نگاری کے آغاز کی وجہ بھی عورت ہی کو قرار دیتے ہوئے لکھا:

سچ تو یہ ہے کہ مجھے کالم نویس بھی ایک عورت نے بنایا، اخبار میں ایک عورت میرے پاس آئی، جس کا بچہ گم ہوگیا تھا، میں نے اس بچے کا نام پوچھنے کے بعد سوال کیا ’اس نے کپڑے کس رنگ کے پہنے ہوئے تھے؟‘‘ کہنے لگی، اس نے پہنے تو سفید ہوئے تھے مگر اب تو میلے ہوگئے ہوں گے‘‘۔

اس جملے کا بہت اثر ہوا، مجھ پر، یہ جملہ کوئی ماں ہی کہہ سکتی تھی، جو بچے کو دھلے ہوئے صاف کپڑے پہناتی ہے تو جانتی ہے کہ سات دن بعد ان کا کیا حال ہوگیا ہوگا، اگر بچے کا والد خبر لکھوانے آتا تو وہ کپڑوں کا رنگ بس سفید ہی بتاتا، کپڑوں کا میلا ہونا صرف ماں ہی بیان کرسکتی تھی۔

مزید :

رائے -کالم -