خیال کا سفر!

خیال کا سفر!
 خیال کا سفر!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایک جیسے اشعار، قدرے ملتے جلتے اشعا قدیم و جدید شعرا کے مجموعہ ہائے کلام پڑھتے ہوئے نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔مختلف رسائل و جرائد و اخبارات میں شائع ہونے والی غزلوں، نظموں میں یہ معاملہ خاص نمایاں ہے۔مَیں ایسے اشعار کو حاصلِ مطالعہ کے طور پر نشان زد کرتا ہوں اور جب ایک کالم بھر، اشعار اکٹھے ہو جاتے ہیں تو یہ پٹاری کھولنی پڑتی ہے، یہ پلندہ پھرولنا پڑتا ہے اور اپنے اِس کالم کے خوش ذوق قارئین کے تفنن طبع کی خاطر یکجا کر کے اشاعت پذیر کرانا پڑتا ہے۔

یُوں اہلِ ذوق کی تسکین بھی ہو جاتی ہے اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دو بڑے ذہن بیک وقت ایک طرح سوچ سکتے ہیں یا پھر قدیم سے جدید تک خیال کا سفر، پیچھا کرتا ہوا کالم کے قارئین کو خوش وقتی کے ساتھ ساتھ ہی نئی معلومات میں بھی حصہ دار بناتا ہے تو لیجئے آج ایک اور اِسی طرح کے کالم میں گو ناگوں اشعار کی بہار۔۔۔!
چلاؤں تیر مَیں کیسے، کمان کیا کھینچوں؟
کہ ہو گیا ہے صفِ دشمناں میں تُو شامل
محترمہ ناصرہ زبیری
دشمنوں کا تو کوئی تیر نہ پہنچا مجھ تک
دیکھنا اب کے مرا دوست کماں کھینچتا ہے
احمد فراز
ملے ہیں یُوں کہ کبھی جس طرح ملے ہی نہ تھے
وہ لوگ جن سے تعلق بہت پرانا تھا
قاسم جلال
وہ یُوں ملا ہے کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ تھا
ہماری ذات پہ جس کی عنایتیں تھیں بہت
ناصر زیدی
ایسا گُماں دے اُن کی رضا میں خدا ہمیں
ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
احمد رضا بریلوی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرزا غالب
ہم نے جسے سمجھا ہے تری خاص توجہ
وہ چشمِ عنایت ترا معمول ہو شاید
ناصِرہ زبیری
مَیں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
ساحر لدھیانوی
ہوش و حواس تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
داغ دہلوی
تاب و طاقت، صبرو راحت، جان و ایماں، عقل و ہوش
ہائے کیا کہیئے کہ دِل کے ساتھ کیا جاتا رہا
حکیم مومن خاں مومن
ہر تمنّا دِل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گی
اویس جعفری
ہر تمنّا دِل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گی
مجذوب لکھنوی
یہی تو دُکھ ہے کہ مَیں اس کی نمازِ صبح تھی
مگر وہ پڑھتا رہا ہے مجھے عشا کی طرح
تمثیلہ لطیف
پڑھتا تھا مَیں نماز سمجھ کر اُسے رشید
پھر یُوں ہُوا مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص
رشید قیصرانی

کہاں ہیں فیض شبِ غم کے جاگنے والے
ستارۂ سحری ہمکلام کب سے ہے
فیض احمد فیض
مَیں تیرے ڈر سے نہ دیکھا اِدھر اُدھر شبِ وصل
ستارۂ سحری مجھ کو آنکھ مار رہا
مصحفی
دِل کو لگتا رہا اچھا کوئی اَور
اور مقدر میں لکھا تھا کوئی اَور
احمد صغیر صدیقی
یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ مِلا
کسی کو ہم نے ملے اور ہم کو تُو نہ مِلا
ظفر اقبال
تیرا کہلاتے رہے پھر بھی تہی دست سعید
اِتنا دِلوا دو کہ کوتاہئ داماں ہو جائے
قاضی شاہ سعید الدین فاروقی،
]گھائم پور، بھارت[
دینے والے تجھے دینا ہے تو اِتنا دے دے
کہ مجھے شکوۂ کوتاہئ داماں ہو جائے
بیدم وارثی
حَبس ایسا ہے کہ پّتے بھی نہیں ہلتے ہیں
کیسے کہہ دیں کہ سکوُں ہے کبھی سوچا تُم نے
امجد اسلام امجد
دیارِ شوق میں کوسوں کہیں ہوَا بھی نہیں
اُمس ہے ایسا کہ پتا کوئی ہلا بھی نہیں
ناصر زیدی

***

مزید :

کالم -