وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 33ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 33ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 33ویں قسط

  

زبیر نے توقیر کی طرف دیکھا اور معنی خیز انداز میں کہا’’یہ نظر انداز کیا جانے والا کوئی روشنی کا ڈاٹ نہیں یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دور سے دکھائی دینے والا ٹمٹماتا ہوا ستارہ۔ جس میں آگ دہک رہی ہو مگر یہ ہے کیا؟‘‘

ساحل ویڈیو بند کرکے ان کے قریب بیٹھ گیا’’میں جو کہنے جا رہا ہوں آپ کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن یہ سب سچ ہے۔

میں نے خود ایک لڑکی کو سفید فراک میں آنٹی ماریہ کے قریب دیکھا تھا جیسا کہ میں نے آپ کر پہلے بتایا ہے کہ جونہی اس لڑکی کے دانتوں پر لہو لگا اس کا لباس سات رنگوں میں بدل گیا اور پھر وہ ایک خوبصورت تتلی کا روپ دھار گئی اس تتلی کے پروں پر بھی وہی سات رنگ تھے جو اس لڑکی کے لباس پر تھے۔ یہ ڈاٹ اسی پراسرار لڑکی کے وجود کی نشاندہی کر رہا ہے۔‘‘

توقیر نے ساحل کی بات کا مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی۔’’تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ جو قتل ہو رہے ہیں ان کے پیچھے کسی انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ مافوق الفطرت مخلوق ہے جیسے آسیب یا روح یا کوئی شیطانی طاقت۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 32ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ظفر بھی کسی گہری سوچ میں کھویا کھویا بولا’’ساحل ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ میں نے شمعون کی گردن پر وہی دو دانتوں کے نشان دیکھے تھے جو ماریہ کی گردن پر تھے۔ شمعون کی اور اس کے ساتھیوں کی اموات بھی بہت پراسرار تھیں ان کے جسم بھی جھلس گئے تھے کوئی ان کی موت کی وجہ نہیں جان سکا اور تابش اور مہک کی اموات بھی اسی طرح سے بہت عجیب تھیں اور پھر حوریہ کا اس واقعہ کا ذکر کرنا جب ایک مردہ لڑکی میں رخسانہ نے حوریہ کی آواز سنی۔۔۔کسی بڑے راز کی طرف اشارہ ہے۔‘‘

زبیر جو خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا ظفر سے مخاطب ہوا’’کوئی رائے قائم کرنے کے لیے یہ سب باتیں کافی نہیں ہیں۔۔۔یہ سب قتل کرنے والا کوئی انسان ہے درندہ ہے یا کوئی ہوائی مخلوق یہ جاننے کے لیے ہمیں کوئی ٹھوس ثبوت ڈھونڈنا ہوگا۔‘‘

ساحل نے زبیر کی طرف دیکھا’’قتل کرنے والا چاہے انسان ہو یا روح، ہمیں ایک ٹیم بنانی ہوگی۔ پولیس پر بھروسا کرکے ہم نے کتنا وقت برباد کیا، ہم خود اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔‘‘

ظفر نے بھی ساحل کی تائید کی ’’میرا خیال ہے کہ ساحل بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ہمیں مزید دیر نہیں کرنی چاہئے۔ ہمیں ایک ٹیم بنانی ہوگی یہ کام پر خطر بھی ہے اور پیچدہ بھی۔ میں توقیر اور زبیر تو اتنے پھرتیلے نہیں میرا خیال ہے کہ ساحل اور عارفین کو ہم بھاگ دوڑ کا کام سونپیں گے باقی جو ہم کر سکے کریں گے۔‘‘ توقیر کسی سوچ میں کھویا ہو تھا۔

ظفر نے اسے ٹوکا’’تم سن رہے ہو نا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تم کس سوچ میں گم ہو۔‘‘

’’میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ساحل اور عارفین کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے تو مجھے پروفیسر حسنان کا خیال آیا ہے۔ ہمیں ویسے بھی سارا معاملہ ان سے ڈسکس کرنا چاہئے ہم نے انہیں بالکل لاتعلق کر رکھا ہے وہ ہماری بہت مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

توقیر کی اس بات پر ظفر نے کہا’’یہ تو تم نے بڑی اچھی بات کہی ہے۔ ویسے بھی میرے ذہن میں کتنے ہی سوال اٹھے ہیں جس کا جواب پروفیسر حسنان ہی دے سکتا ہے۔ تمہیں یاد ہے کہ پروفیسر کو شک تھا کہ ہمارے بچوں نے میوزیم سے کچھ Stuffedچرائے ہیں۔ اگر وشاء ، خیام ، فواد اور حوریہ نے Stuffedچرائے ہوں تو انہوں نے اس کا کیا ہوگا۔‘‘

ایک جھرجھری سی جیسے ساحل کے پورے وجود سے گزر گئی وہ تھرتھراتی آواز میں بولا ’’ہاں۔۔۔ان Stuffedمیں ایک تتلی بھی تھی۔‘‘

ظفر نے سوالیہ نظروں سے ساحل کی طرف دیکھا’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ ہمیں ان ویمپائرز کا پتہ لگانا ہوگا جو لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’مگر ہم کس طرح ان ویمپائرز تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ زبیر نے پوچھا۔

’’حوریہ کے ذریعے ہم ان تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ ساحل نے پر یقین لہجے میں کہا۔

’’مگر حوریہ۔۔۔؟‘‘ توقیر پریشانی میں کچھ کہنے لگا۔

ظفر اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا’’تم نے کہا تھا نا کہ ہم حوریہ کو عامل کے پاس لے جائیں گے۔ تم اپنی بات پر قائم رہو، عامل جو کچھ بھی کرے گا ہمارے سامنے کرے گا حوریہ کو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ سب بہت ضروری ہے تم اس بات پر یقین کر لو کہ حوریہ ذہنی مریض نہیں ہے۔‘‘

توقیر سر جھکائے خاموشی سے بیٹھ گیا۔ ظفر نے دوبارہ بات شروع کی۔’’ہم خواتین کو اس مشن سے دور ہی رکھیں گے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کل ہی پروفیسر حسنان اور عارفین سے ساری بات کریں گے۔ یہاں سے تقریباً تین گھنٹوں کے فاصلے پرایک گاؤں ہے وہاں ایک بزرگ ہیں ہم نے کافی سنا ہے ان کے بارے میں۔ہم حوریہ کو وہاں لے جائیں گے حوریہ کو شک نہ ہو اس لیے رخسانہ اور توقیرکو جانا ہوگا ساتھ میں بھی چلا جاؤں گا۔‘‘

توقیر رضا مند ہوگیا۔ وہ سارے آدھا گھنٹہ اور گفتگو میں مصروف رہے پھر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اگلی صبح ماریہ کے قل تھے۔ دوپہر تک ظفر اور راحت مہمانوں میں اور کچھ مذہبی رسومات میں مصروف رہے۔ توقیر، زبیر اور وقار احمد کی فیملیز بھی وہیں تھیں۔

دوپہر کے بعد ظفر نے ان سب کو رکنے کے لیے کہا اور سارے وسوسے اور خدشات بیان کیے جوان اموات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ جو کچھ ظفر کہہ رہا تھا وہ بھیانک حقائق سب کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔

بحرحال عارفین ان کی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ تقریباً چار بجے وہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے مگر توقیر اور رخسانہ ، حوریہ ، ظفر کے گھر ہی تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد توقیر، رخسانہ اور حوریہ کے ساتھ ظفر اس گاؤں کے لیے روانہ ہوگئے جہاں اس بزرگ کی حویلی تھی۔

تین گھنٹے کا سفر کافی زیادہ تھا۔ ظفر پچھلی سیٹ پر حوریہ کے ساتھ بیٹھا تھا حوریہ اس طرح منہ بنائے بیٹھی تھی جیسے اسے شک ہوگیا ہو۔حالات اور واقعات کی وجہ سے سب ویسے ہی پریشان تھے اوپر سے حوریہ کی مسلسل خاموشی ایک خوف سا پھیلائے ہوئے تھی۔ سفر میں خوامخواہ کی رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں، تین گھنٹے کا سفر چار گھنٹے کا بن گیا تھا۔ بزرگ رحمان سائیں کی حویلی پہنچے تو انہوں نے ان سب کو مہمان خانہ میں بٹھایا۔ ملازم نے چائے پیش کی تو رخسانہ نے ملازم سے پوچھا۔

’’سائیں کی فیملی بھی یہیں رہتی ہے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔بیگم صاحبہ! یہاں سائیں جی اور ان کے ملازم رہتے ہیں۔ سائیں جی کے گھر والے تو دوسرے گاؤں میں رہتے ہیں آپ بس یہ چائے پئیں،سائیں جی آرہے ہیں۔‘‘

ملازم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد سائیں جی مہمان خانہ میں داخل ہوئے۔ سائیں جی کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی حوریہ نے دروازے پر ٹکٹکی باندھ لی تھی۔ اسے جیسے سائیں جی کی آمد کا پہلے ہی پتہ چل گیا تھا۔ سائیں جی بھی کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے پتھر کے ہوگئے ۔وہ مسلسل حوریہ کی طرف دیکھتے رہے اور حوریہ بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے اس طرح گھور رہی تھی جسیے اسے دھمکی دے رہی ہو کہ وہ اس کا راز افشا نہ کرے۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 34ویں قسط پؑڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟