رحمت علی رازی درویش منش صحافی، اکل کھرا انسان

رحمت علی رازی درویش منش صحافی، اکل کھرا انسان
رحمت علی رازی درویش منش صحافی، اکل کھرا انسان

  


رحمت علی رازی بھی راہیء ملک عدم ہوئے ۔بلاشبہ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن ایک ایسے شخص کا ایکا ایکی اس دنیا سے اٹھ جانا ، کہ جو مرنے سے چند منٹ پہلے تک ٹھیک ٹھاک تھا اور اس کیفیت میں زندہ تھا کہ اس کے بارے میں یہ شائبہ تک نہ تھا کہ ابھی چند منٹ کے بعد وہ داعیء اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ لے گا، ایک حیرت کی بات لگتی ہے۔رحمت علی رازی کا سانحہ ارتحال بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ وہ فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ واپس لاہور آ رہے تھے کہ راستے میں انہیں دل کی تکلیف ہوئی۔انہیں فوری طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق ِ حقیقی سے جاملے۔ان کے انتقال کی خبر سن کو دل کو دھچکا سا لگا اور یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ایک جیتا جاگتا متحرک ا ورفعال شخص یوں اچانک داغ ِ مفارقت دے جائے گا۔

رحمت علی رازی سے پہلی ملاقات آج سے کم وبیس 43 سال قبل 1976ء میں ہوئی جب ہم دونوں صحافت کی تعلیم و تربیت کے ایک ادارے ” پاکستان اکیڈیمی آف جرنلزم “ میں ایک ساتھ داخل ہوئے۔اس اکیڈیمی کے روح ِ رواں تو ایم ارشد تھے لیکن انہیں پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت کے اساتذہ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی ، پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری کی معاونت حاصل تھی۔یہ اکیڈیمی مزنگ اڈہ اور لاہور ہائی کورٹ کو ملانے والی سڑک فین روڈ پر واقع ایک پلازہ میں قائم کی گئی تھی۔ابتدا میں اسے ایک ڈگری کورس کے اجراء کے طورپر قائم کیاگیا تھا لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے منظوری نہ ملنے پر اسے سر ٹیفکیٹ کورس کے اجراء پر قناعت کرنا پڑی۔اس کلاس میں کم و بیش پچیس طلبہ شریک تھے جن میں پانچ چھ خواتین بھی شامل تھیں۔اس کورس میں میرے ا ور رحمت علی رازی کے علاوہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پنجابی کے سابق سربراہ معروف ادیب ، شاعر اور محقق پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض شاہد، سابق ڈائریکٹر تعلقات ِ عامہ سیڈ کارپوریشن ، براڈ کاسٹر اور صحافی نزاکت علی بھٹی بھی شامل تھے۔دیگر کے نام حافظہ سے محو ہوگئے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت (ابلاغیات) کے مذکورہ اساتذہ کے علاوہ پاکستان ٹیلی وژن کے جنرل مینیجر ، ریڈیو کے سینئر پروڈیوسر ز اور میڈیا سے متعلقہ دیگر اہم شخصیات بھی ہمارے جز وقتی اساتذہ میں شامل تھیں جو اکیڈیمی میں آکر مختلف مضامین پر لیکچر دیتے تھے۔اس کورس کے شرکاء میں غالباً رحمت علی رازی وہ واحد ” سٹوڈنٹ“ تھے جو عامل صحافی تھے اور شاید روزنامہ ”وفاق“ میں بطور سٹاف رپورٹر کام کررہے تھے۔ روزنامہ ”وفاق “ کے ایڈیٹر تو مصطفیٰ صادق ہی تھے لیکن اس کے (عملاً) ایڈیٹر استاد ِ صحافت انتہائی شفیق اور نفیس انسان جمیل اطہر قاضی تھے۔انہی کی صحبت فیض اثر نے رازی کو کندن بنا دیا۔یہ انہی کی محبت، شفقت اور اپنائیت کااثر تھا کہ جب جمیل اطہر صاحب نے ”وفاق“ کو چھوڑ کرروزنامہ ”جرات“ اور ” تجارت“ کا اجراء کیا تو رحمت علی رازی بھی ان کے ساتھ نئے ادارے میں چلے آئے۔

انہوں نے کچھ عرصہ ”مساوات “ میں بھی کام کیا تھا۔ہماری صحافتی کلاس کے کچھ لوگ جزوی طورپر سے صحافت سے وابستہ تھے اور باقی طالب علم تھے یا پرائیویٹ ملازمت کرتے تھے اور شوقیہ طورپر کورس میں داخلہ لے رکھا تھا۔کورس ختم ہوگیا ، اسناد تقیسم ہوگئیں اور تمام شرکاء ” پرامن طورپر منتشر “ ہوگئے لیکن رحمت علی رازی کے ساتھ ایک کلاس فیلو کی حیثیت سے جو تعلق پیدا ہوا تھا وہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ روز بروز مستحکم ہوتا چلا گیا۔اس فقیر نے اس دوران معروف صحافی محمد یٰسین بٹ بہادر کے اخبار روزنامہ ”وقت “ لاہور اور بعد ازاں دبنگ صحافی شوکت حسین شوکت کے اخبار ”روزنامہ آفاق “ میں بالترتیب سٹاف رپورٹر اور نیوز ایڈیٹر وابستگی اختیار کر لی جبکہ رحمت علی رازی نے روزنامہ ”نوائے وقت “ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یوں مختلف پریس کانفرنسوں کے دوران بھی ہماری ”مڈ بھیڑ“ ہوجاتی تھی۔

میں نے روزنامہ ” جنگ “ لاہور جوائن کیا تو کچھ عرصہ کے بعد رحمت علی رازی بھی اسی اخبار سے منسلک ہوگئے۔ وہ جنگ میں سینئر کارسپانڈنٹ اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ۔ اس طرح ایک ہی ادارے میں رہتے ہوئے ہمارے درمیان ملاقاتوں کاسلسلہ بھی بڑھ گیا۔یہ تعلق اور رشتہ ان کے انتقال تک قائم رہا۔رحمت علی رازی نے اس دوران کالم نویسی بھی شروع کر دی اور طویل کالم لکھنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ انویسٹی گیٹو رپورٹر کے طورپر انہوں نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس ) کی طرف سے سات مرتبہ بہترین انویسٹی گیٹو رپورٹر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا جو الگ سے ایک ریکارڈ ہے۔صحافت میں ان کی اعلیٰ خدمات پر حکومت پاکستان کی طرف سے 2000ء میں انہیں صدارتی تمغہء حسن کارکردگی عطا کیاگیا۔

رحمت علی رازی تقریبا ً ساڑھے چار عشرے قبل بہاول پور سے یہاں لاہور آئے تو اپنی ہیئت اور وضع قطع کے اعتبار سے وہ ” خالص پینڈو “ دکھائی دیتے تھے۔ چہرے پر چھوٹے سائز کی سیاہ داڑھی، کھلے پائجامے والی شلوار اور پاوں میں کھسہ یا پشاوری چپل ان کی اولین شناخت تھی۔گفتگو بڑے دیسی لہجے اور سادہ انداز میں کرتے۔اپنے لباس کی طرح وہ طبیعت کے بھی بڑے کھلے ڈلے ، اکل کھرے انسان تھے۔وہ یاروں کے یار تھے۔رکھ رکھاؤ  والے آدمی تھے بہت محنتی اور سیلف میڈ انسان۔ ”دھانسو قسم کے “ رپورٹر ہونے کے باوجود تکبر ، رعونت ان میں نام کو بھی نہ تھی۔فیچر رائٹر، رپورٹر ، ایڈیٹر انویسٹی گیشن اور کالم نویس کی حیثیت سے صحافت میں منزلوں پر منزلیں مارتے ہوئے انہوں نے ایک اور زقند لگائی اور ہفتہ روز ”عزم “ کے نام سے جریدہ اور ” طاقت “ کے نام سے روزنامہ کا اجراء کرلیا۔جیل روڈ لاہور پر پاکستان اخبار کے دفتر کے بالمقابل اپنا دفتر قائم کیا اور اس میں مزید جرائد کو شامل کرکے ” عزم میڈیا گروپ “ کا نام دے دیا ،اس کے 

ساتھ ہی وہ مدیران اخبارات و جرائد کی تنظیم ”سی پی این ای“ میں بھی شامل ہوئے اور سینئر صحافیوں ( یعنی مالکان و مدیران ) کے حلقہ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔

وہ سی پی این ای کے مختلف عہدوں کے ساتھ ساتھ ذیلی کمیٹیوں میں بھی شامل رہے اور بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔رحمت علی رازی نے شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ اور کھسہ کے ساتھ اپنی شخصیت کو انفرادیت بخشی اور ہر بڑی سے بڑی محفل میں بھی اسی لباس کو عزت بخشی۔انہیں جس طرح صحافی حلقوں میں عزت اور توقیر حاصل تھی اسی طرح انہوں نے اعلیٰ حکومتی حلقوں اور بیوروکریسی میں بھی مقبولیت اور ہر دلعزیزی پائی تاہم ان کا کمال یہ تھا کہ ایک بڑا اخباری گروپ قائم کرنے اور میڈیا ایمپائر کھڑی کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے دامن پر کوئی دھبہ نہیں پڑنے دیا ۔رحمت علی رازی کے کالموں نے قومی سطح پر بڑی مقبولیت حاصل کی۔انہوں نے اہم قومی ایشوز پر کھل کر لکھا اور حکمرانوں کو آیئنہ دکھاتے رہے۔

رحمت علی رازی بلاشبہ پیار کرنے والے ہر ایک کے ساتھ محبت سے پیش آنے والے ایک نفیس انسان تھے۔ہمارا یارانہ چار عشروں پر محیط رہا لیکن اس طویل مدت کے دوران کبھی ہمارے درمیان شکر رنجی پیدا نہ ہوئی۔ رحمت علی رازی عامل صحافیوں کی تنظیم پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس میں بھی رہے اور راقم بھی ان تنظیموں میں بطور جوائنٹ سیکرٹری اور سینئر نائب صدر شریک رہا۔ رحمت علی رازی ان سینئر صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے پی یو جے کے انتخابات میں مجھے بھرپور سپورٹ کیا ۔انتقال کے وقت وہ سی پی این اے (اسلام آباد) کے نائب صدر تھے اور کئی ایک مواقع پر وہ قائم مقام صدر کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

پولیس سروس سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہوں کے ساتھ ان کے قریبی مراسم تھے اوربہت سے ان کے ذاتی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔رحمت علی رازی کو دل کا عارضہ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے دو سٹنٹ ڈلوا رکھے تھے جب کہ انہیں شوگر کی شکایت بھی تھی۔ان کے انتقال سے ہم ایک محنتی ، محب وطن انسان اور بہتری صحافی اور منفرد کالم نویس سے محروم ہوگئے ہیں۔دعا ہے خدائے بزرگ وبرتر انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جس میڈیا گروپ کو انہوں نے پروان چڑھایا وہ نہ صرف قائم رہے بلکہ مزید ترقی کی منازل طے کرتا رہے۔( آمین)

(شہباز انور خان کا شہرِ لاہورکے بزرگ صحافیوں میں شمار ہوتا ہے ،علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے شہباز انور خان تین دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے  اہم قومی اخبارات میں رپورٹنگ کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے آ رہے ہیں ،فیڈ بیک  کے لئے اُن کے موبائل نمبر 03208421657 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید : بلاگ