کلام اقبالؒ : پوری انسانیت کے لئے پیغام

اسلامی ادیبوں کی عالمگیر تنظیم عالمی رابطہ ادب اسلامی اس وقت پوری دُنیا میں اسلامی ادب کے فروغ کے لئے سرگرم عمل ہے، اس کے بانی سید ابو الحسن علی ندویؒ المعروف علی میاںؒ نے شاعر اسلام علامہ محمد اقبال کوعرب دُنیا میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیااور علامہ محمد اقبال کی شخصیت وشاعری پرفصیح عربی زبان میں اِس قدر خوبصورت انداز میں لکھا کہ عرب دُنیا بھی علامہ اقبال کی گرویدہ ہوگئی۔ عراق،شام، مصر اوردیگر ممالک کے نامور ادباء اور علمی شخصیات کی ’’مجلس امناء‘‘ میں یہ اعلان کیا گیا کہ سید ابو الحسن علی ندویؒ کی تحریریں پڑھ کرہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقبال آج ہمارے لئے زندہ ہوا ہے۔۔۔عرب دُنیا کے نامور علمی و ادبی شخصیات کے اصرار پر پاکستان میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کی شاخ کے اس وقت کے صدر مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی زیرنگرانی و سرپرستی گزشتہ دنوں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیراہتمام ایوان اقبال لاہور میں دو روزہ شاعر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کانفرنس منعقدہوئی، جس میں پاکستان کی نامور علمی ، ادبی شخصیات کے علاوہ سعودی عرب، مصر، شام ، اُردن، ساؤتھ افریقہ، الجزائر سمیت 15 کے قریب ممالک سے معروف اُدبا اور شعراء نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے سیشن سے سینیٹر راجہ ظفر الحق ، ڈاکٹر محمد سلمان ندوی (ساؤتھ افریقہ) منیب اقبال، اوریا مقبول جان، پروفیسر مولانا محمد یوسف خان،سردار یٰسین ملک، ڈاکٹر اسامہ(جامعہ ازھر مصر)پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی ملک اور دیگر نے خطاب کیا۔معتمرعالمی اسلامی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال منفرد عالمی شخصیت ہیں، جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں،بلکہ پوری انسانیت کے لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اہم پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، وہاں اقبال کی فکر نظر آئے گی۔ مصر میں لوگ اپنے آپ کو اقبال کا درویش کہتے ہیں۔ ترکی میں انہیں مرشد رومی کے بعد دوسرا درجہ حاصل ہے، جبکہ بوسنیا اور ایران کے لوگ بھی علامہ اقبالؒ کے عاشق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنے کلام کو عشق رسولؐ میں ڈوب کر لکھا ہے۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ علامہ اقبالؒ نے سیاست اور جمہوریت کی جس طریقے سے تشریح کی، وہ بھی لاجواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ دور اندیش شخصیت تھے، انہوں نے بہت پہلے اپنے کلام میں واضح کر دیا تھا کہ اگر افغانستان خوشحال اور پُر امن ہو گا تو ایشیا میں امن اور خوشحالی ہو گی۔ اگر افغانسان میں فساد ہو گا تو پورے ایشیا میں فساد ہو گا، جس کی صورت آج آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے ہمیشہ احترام آدمیت اور احترام انسانیت کی بات کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اسلام کو غیر مسلموں سے خطرہ نہیں، اگر خطرہ ہوا تو اسلام کی روح سے ناواقف باہم دست و گریبان مسلمانوں کے گروہوں سے ہوگا۔ آج پوری اسلامی دُنیا تقسیم ہے اور باہم برسر پیکار گروہ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
عالم اسلام کے ممتاز سکالر ڈاکٹر سید سلمان ندوی (ساؤتھ افریقہ) نے اپنے خطاب میں علامہ محمد اقبالؒ کو ایک مُلک تک محدود نہیں کیا جا سکتا، وہ عالمگیر شخصیت، بلکہ عصری تعلیم رکھتے تھے۔اقبال مدرسے سے پڑھے ہوئے نہیں تھے، لیکن وہ سچے مسلمان تھے اور ان کا دل اور ذہن اسلامی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کو سمجھنا ہے تو اسلام کے آئینے میں سمجھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے جہاں مغربی تعلیم پربھی تنقید کی، وہاں انہیں جمہوریت سے بھی شکایت تھی۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پوتے منیب اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ پوری دُنیا کے مسلمانوں کی آواز تھے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے تخلیق پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا، دو قومی نظریہ پیش کیا اور قائداعظم کو مسلمانوں کی قیادت کے لئے بیرون مُلک سے واپس آنے پر قائل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’علامہ محمد اقبال کے قائداعظمؒ کے نام خطوط‘‘ میں واضح لکھا ہے کہ مُلک کی بقا نفاذ شریعت میں ہے۔ آج ہم اقبال کے ر استے سے بھٹک گئے ہیں اور ان کی فکر کو بھی بھول چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر مجھے آزاد اسلامی ریاست کی حکمرانی اور اقبال کی فکرمیں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو میں فکر اقبال کوترجیح دوں گا۔ منیب اقبال نے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر علامہ محمد اقبالؒ کی خود ساختہ شعر و شاعری کی جا رہی ہے۔ اوریا مقبول جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام بچانے کے لئے موجودہ نظام سے نکلنا ہو گا، دورحاضر میں فکر اقبال کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سودی نظام اور موجودہ سسٹم سے نکلے بغیر ہم کامیابی اور ترقی نہیں کر سکتے۔ ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی ڈاکٹر طاہر تنولی کا کہنا تھا کہ اقبال کی فکر سنگ میل اور نکتہ وحدت ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ اجتہاد کے داعی اور انسانیت کے علمبردار تھے۔ سعودی عرب کے احمد بن یوسف الدرویش نے علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر اپنامقالہ پیش کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔ سردار یٰسین ملک نے کہا کہ ہماری نسل نو کو فکر اقبال سے روشناس کروانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔ڈاکٹرحافظ زاہد علی ملک نے اپنے مقالے میں علامہ اقبالؒ کی شخصیت اور ان کے مختلف ادوار کا تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ اسلام کے علمبردار اورعقیدۂ ختم نبوت کے محافظ تھے۔ مصری سکالر ڈاکٹر اُسامہ نے اپنے مختصر سے خطاب میں علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی عوام کومصری عوام کا سلام پیش کیا۔ ڈاکٹر سعد ابو رضا محمد،حافظ عبدالقدیر، حافظ رضوان محمد چوہان نے بھی تحقیقاتی مقالے پیش کیے۔
کانفرنس کے پہلے روز جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے ’’عورت اقبال کی نظر میں‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی اور کہا کہ مرد و عورت کو اسلام اور افکار اقبال کی روشنی میں اپنے مقام کو پہچاننا ہو گا۔ وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ، خالدہ جمیل، خواجہ احمد سکا، اقبال احمد قرشی، ڈاکٹررانیا محمد فوزی مصر، نافضہ عبداللہ حنبلی، ڈاکٹر خنسہ محمد ادیب الجاجی پشاور، ڈاکٹر محسنہ منیر، ڈاکٹر آسیہ شبیر لاہور، سیدہ سعدیہ نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے دوسرے روز عالمی رابطہ ادب اسلامی کے مرکزی صدر مولانا حافظ فضل الرحیم، قاری محمد حنیف جالندھری، جسٹس (ر) خلیل الرحمن،سیکرٹری اوقاف نوازش علی، ڈی جی اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری‘ ڈاکٹر محمد سعد صدیقی، ڈاکٹر ظہور احمد اظہر، ڈاکٹر خالق داد ملک، ڈاکٹر عنایت اللہ سعید، پروفیسر مولانا محمد یوسف خان، ڈاکٹر حافظ عبد القدیر پروفیسر سمیع اللہ فراز، پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی ملک، مفتی ابوہریرہ و دیگر نے خطاب کیا۔جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے ملت اسلامیہ کو شعور دیا ،اس کو جگایا اور بتایاکہ مغرب کی مصنوعی روشنی میں کامیابی نہیں،بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن اور ثقافت میں ہی کامیابی ہے۔ دنیا کا نقشہ آپ کے سامنے ہے، ایک طرف کفار نے مسلمانوں پر یلغار کی ہوئی ہے اور دوسری طرف کچھ شدت پسند گروہوں نے حالات خراب کر رکھے ہیں۔ نئے پاکستان سے مراد وہ پاکستان ہے، جس کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا اور قائد اعظمؒ کی قیادت میں حاصل کیا اور ایسا ہی پاکستان ہمیں چاہئے۔ نیا پاکستان بنانے والوں کو بھی نئے پاکستان کا پتہ نہیں۔عالمی رابطہ ادب اسلامی کے مرکزی صدر مولانا حافظ فضل الرحیم نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے، انہی کے کلام سے معاشرے میں حقیقی انقلاب، نسل نوکی آبیاری کی جاسکتی ہے۔وفاق المدارس کے جنرل سیکرٹری قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کے کلام میں عشق رسولؐ کی جھلک اور اتحاد امت کی تڑپ ملتی ہے۔ وہ وحدت امت کی بات کرتے تھے۔ اتحاد امت‘ وقت اور دین کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فکر اقبالؒ کی روشنی میں عالمی سطح پر توہین رسالتؐ کے خلاف ایسا قانون بننا چاہئے جس سے گستاخ رسول کو سخت سزا ملنی چاہئے۔
ڈاکٹر ظہور احمد اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ فکر اقبال کو عالمی سطح پر عام کرنے اور نسلِ نو سے متعارف کرانے کے لئے والدین،اساتذہ اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو اپنا اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے قادیانیت کے کفر ودجل کو بروقت سمجھ لیا اور اپنی شاعری میں اس کا بھرپور رد کرتے ہوئے تمام زندگی عقیدۂ ختم نبوت کا دفاع کیا۔پروفیسر مولانا محمد یوسف خان نے مولانا سید ابوالحسن ندوی کی علامہ محمد اقبالؒ کے حوالے سے عرب دنیا میں خدمات پر روشنی ڈالتے ہو کہا کہ مولانا ابوالحسن ندوی نے عرب دُنیا میں علامہ محمد اقبال کے افکار و نظریات اور شاعری کو جدید اور فصیح عربی کے ذریعے عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔سیکرٹری محکمہ اوقاف حکومت پنجاب نوازش علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام علامہ اقبالؒ کانفرنس قابلِ تحسین ہے، جو علامہ اقبالؒ کے پیغام و فکر اور نظریے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مددگار ثابت ہو گی، ایسے پروگرام تسلسل کے ساتھ جاری رہنے چاہئیں۔ڈی جی محکمہ اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے کہا کہ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے قائدین نے اس کانفرنس کے ذریعے نسل نو کو فکر اقبال سے روشناس کرانے کی کامیاب کو شش کی ہے۔پروفیسر سمیع اللہ فراز نے خطاب کرتے کہا کہ علامہ اقبالؒ تہذیبوں کے اشتراک کے داعی تھے، تصادم کے نہیں۔ علامہ اقبالؒ کو جو روشنی اللہ تعالیٰ نے دی تھی ، وہ پورے یقین کے ساتھ حق کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اشعار و افکار اور عمل کے ذریعے قادیانیت کا رد کیا۔ مفتی ابوہریرہ کا کہنا تھا کہ علامہ محمداقبال نے فلسفہ خودی کو قرآن و حدیث کی روشنی سے اخذ کیا۔موجودہ حالات میں علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
کانفرنس میں خواتین کی نشست سے چیئر پرسن نیشنل کمیشن برائے ہیومن ڈویلپمنٹ رزینہ عالم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ علامہ اقبال ؒ عالمگیر شخصیت کے مالک تھے ۔ ایک سچا مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کا دل اور ذہن اسلام سے تروتازہ تھا۔ تخلیقِ پاکستان میں اقبال ؒ کے کردار سے انحراف ممکن نہیں۔مشرق و مغرب میں وہ ہر مسلمان کی آواز ہیں ۔ نوجوان نسل اقبال ؒ کے کلام سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے ۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے ذکیہ شاہنواز،شائستہ پرویز ملک، ڈاکٹر محسنہ منیر، ڈاکٹر سعدیہ گلزار، ڈاکٹر سائرہ عبدالقدوس، نبیلہ ملک اور خالدہ اعوان نے علامہ اقبال ؒ کی شخصیت ، کردار اور اسلام کے لئے اُن کی خدمات پر روشنی ڈالی، جبکہ اسلامی ممالک سے کانفرنس میں آئی مصر، مراکش،الجزائر،اردن اورترکی سمیت دیگر ممالک کی خواتین نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس میں سعودی عرب سمیت 15سے زائد ممالک سے غیر ملکی مندوبین نے بھی شرکت کی۔بین الاقوامی دو روزہ علامہ محمد اقبالؒ کانفرنس کے اختتام پر مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کی گئیں۔عالمی رابطہ ادب اسلامی میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ پاکستان کے نصاب تعلیم میں فکر اقبال کو شامل کیاجائے۔ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں، سکولوں، یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے طلبہ کی ذہنی‘ فکری اور اخلاقی تربیت کے لئے ’’مجلس اقبال‘‘ قائم کی جائے ۔ فکر اقبال کے فروغ کے لئے قائم مختلف سرکاری و غیر سرکاری ادارے فکر اقبال کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کی صحیح رہنمائی کریں ،خصوصاً سوشل میڈیا پر شعر و فکر اقبال کو جس غلط اور نامناسب انداز میں پیش کیا جارہا ہے، اس کی موثر روک تھام اور مناسب رہنمائی عمل میں لائی جائے۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے دفتری زبان اردو قرار دی جائے۔شاعر اسلام کو خراج تحسین پیش کرنے والی یہ عالمی کانفرنس اور رابطہ ادب اسلامی قرارداد پیش کرتی ہے کہ سال 2017ء کو ’’اقبال کا فلسفہ خودی‘‘ کا سال قرار دیا جائے اور نوجوان نسل کو اس سے آگاہ کرنے کے لئے تمام سال اقبالؒ اکیڈمی اور دیگر اداروں کے تعاون کے ساتھ مختلف پروگرام منعقد کئے جائیں۔ کانفرنس میں شریک غیر ملکی مندوبین کو بادشاہی مسجد، مزار علامہ اقبالؒ ، جامعہ اشرفیہ لاہوراور دیگر جگہوں کا بھی دورہ کرایا گیا۔