آتے ہیں غیب سے۔۔۔!

آتے ہیں غیب سے۔۔۔!
 آتے ہیں غیب سے۔۔۔!

  

خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر۔۔۔! زیر نظر کتاب کا عنوان دیکھ کر اس مشہورِ زمانہ ضرب المثل مصرعے والا مکمل شعر ذہن میں در آیا۔ ہر عہد پر غالب، میرزا اسد اللہ خاں نے کہا تھا:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

کلامِ انور شعور نوائے سروش کیوں نہ ہو کہ یہ ایک معروف و مقبول، باشعور و باکمال شاعر انور شعور کا پانچواں مجموعۂ غزل ہے۔باکمال یُوں کہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں انور شعور روزانہ ایک قطعہ حالاتِ حاضرہ پر، کمال کا لکھتے ہیں اور یہ تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ کو کئی سال ہو گئے،نہ حالاتِ حاضرہ بدلتے ہیں نہ قطعہ نگاری بدلتی ہے۔ حضرتِ رئیس امروھوی کے بعد انور شعور نے جس خوش سلیقگی سے یہ منصبِ بلند سنبھالا ہے یہ اُن کا کام ہے کہ جن کے حوصلے ہیں زیاد۔۔۔!

مَیں ذاتی طور پر انور شعور کو اُس وقت سے جانتا پہچانتا ہوں جب وہ انور افسری شعور ہُوا کرتے تھے، پھر انور افسر شعور ہو گئے۔مَیں اُن دِنوں بیک وقت چار ماہناموں کا ایڈیٹر تھا جو شاہ عالم گیٹ لاہور کی ’’شمع‘‘ بلڈنگ میں قائم، ادارۂ شمع کے تحت حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے تھے۔ یہ چار رسائل تھے، شمع، بانو آئینہ اور بچوں کی دُنیا منیجنگ ایڈیٹر مولوی محمد امین شرقپوری تھے اور مجھ سے پہلے اِن چاروں جریدوں کے مدیر کمال احمد رضوی تھے۔۔۔! میرے دَور میں رسالہ ’’شمع‘‘ میں انور افسری شعور کا کلام چھپا کرتا، جب ’’افسری‘‘ کی نسوانیت کو ختم کر کے اُنھوں نے افسر لگایا تو نام کی ترکیب انور افسر شعور ہو گئی۔دراصل اُس وقت تک اُن کے فائنل اُستادِ گرامی حضرت افسر امروھوی حیات تھے اور پُرانے اساتذہ کا یہ وتیرہ تھا کہ وہ شاگرد کے نام کے ساتھ اپنے نام کا لاحقہ ضرور لگوا دیتے تھے۔خواہ اچھا لگے یا بُرا۔۔۔ چنانچہ حضرتِ راغب مراد آبادی نے جب اپنے پاس سے ہو کر گزر جانے والے زبردستی کے شاگرد مشہورِ زمانہ حبیب جالب کو شروع میں ’’جالب راغبی‘‘ کِیا تو وہ بدک گئے اور اس بد ہیئت نام سے اور اُستاد سے ہی فرنٹ ہو گئے اور پھر حبیب جالب ہوئے اور ایسے ہوئے کہ بس راغب مراد آبادی کے اکلوتے راغبی شاگرد ’’غنی راغبی‘‘ تھے جو ایک مجموعہ کلام چھپوا کر جوانی میں مر گئے۔یُوں بھی وہ بطور شاعر زندہ ہی کب تھے؟

انور افسری شعور سے انور افسر شعور اور بالآخر انور شعور کا ذکر ہے تو اضافی معلومات دیتا چلوں کہ اسی طرح کے ایک شاگرد، اُستادِ گرامی قدر حضرت احسان دانش کے ابتدائی شاگردوں میں نجمی احسان نگینوی بھی تھے، جو ’’عالمگیر‘‘ جیسے رسالے کے شعبۂ ادارت میں بھی رہے، مگر استاد کی اُستادی سے منحرف ہونے کے بعد ’’احسان‘‘ کے لاحقے سے بھی دستبردار ہو گئے اور صرف نجمی نگینوی کے نام سے مشہور و مقبول رہے اُن کا ایک لازوال شعر ہے جو جگر مراد آبادی سے منسوب کر دیا جاتا ہے:

بے چینیاں سمیٹ کے سارے جہان کی

جب کچھ نہ بن سکا تو مرا دِل بنا دیا

خیر سر دست ذکرِ خیر تھا انور شعور کا اور ان کے ابتدائی تخلص سے موجودہ تشخص تک کے ادبی سفر کا، مگر بقول یوسف ظفر:

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

یا ’’لذیذ‘‘ بُود حکایت دراز تر ’’گفتم‘‘ سمجھ لیجئے۔ انور شعور سے تعارف و تعلقِ خاطر اپنے زیر ادارت جریدے شمع، اور پھر ادب لطیف میں اُن کے کلام کی اشاعت تک محدود نہیں، متعدد کل پاکستان مشاعروں میں بھی ہمارا ان کا ساتھ رہا،وہ ایک عالمِ سرشاری میں تحت اللفظ کلام سنا کر بھی مشاعرہ لوٹ لیتے ہیں،کبھی ترنم سے بھی پڑھا کرتے تھے۔ یہ ’’افسری اور افسر‘‘ کے لاحقے کا زمانہ تھا۔ اب تو اُن کے اکثر و بیشتر اشعار اُن کی ظاہری و باطنی کیفیت کی یوں غمازی کرتے ہیں:

تو کیا مَیں نے نشے میں واقعی یہ گفتگو کی تھی

مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا جو سوچتا تھا مَیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات لُغاتِ عمر سے مَیں نے چُنا تھا ایک لفظ

لفظ بہت عجیب تھا یاد نہیں رہا مجھے

ملی تھی مجھے زندگی خودبخود

لہٰذا گزرتی رہی خودبخود

نجانے یہ دانستہ اقدام تھا

کہ اُن سے محبت ہوئی خودبخود

اور انور شعور کا ایک شعر پڑھ کر ہمیں احمد ندیم قاسمی کا یہ مشہور زمانہ شعر یاد آیا:

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

انور شعور کا شعر ہے:

اُڑاتے ہیں اہلِ جنون کی ہنسی لوگ

مگر دفن کرتے ہیں روتے بلکتے

زمانے کی رَوش یا عام مشاہدہ انور شعود کے ہاں یُوں غماز ہے:

اس نے سب کے سامنے بے عزتی کی اور پھر

تخلیے میں معذرت کر کے ازالہ کر دیا

انور شعور کے اس پانچویں مجموع�ۂ غزل سے پہلے جو شعری مجموعے چھپ کر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں اُن میں بالترتیب:

اندوختہ، مشقِ سخن۔ می رفتم اور ’’دِل کا کیا رنگ کروں‘‘ ہیں۔ان تمام مجموعوں پر مشتمل کلیات بھی ’’کلیاتِ انور شعور‘‘ کے نام سے چھپا اور ختم ہوا اب یہ پانچواں مجموعہ اُن کے نُدرتِ کلام اور قدرتِ بیان کا ثبوت پیش نظر ہے۔فلیپ پر ڈاکٹر فاطمہ حسن۔ شکیل عادل زادہ، مبین مرزا اور اندر کتاب کے ناشر شاعر علی شاعرکی آراء سے ہٹ کر ڈاکٹر تحسین فراقی کا ’’مقدمہ‘‘ بعنوان ’’تقدیم‘‘ انور شعور کی ساحرانہ شاعری کی تفہیم کے لئے رہنمائی کرتا ہے۔ سہل ممتنع میں چھوٹی بحروں میں بعض غزلیں عدم کے رنگ ِ سخن کی طرح مکالمہ کرتی بلکہ روبرو گفتگو کرتی ہوئی ملتی ہیں،بے ساختہ پن اور موضوع کا اچھوتا پن ان پر مستزاد ہے۔

مثلاً:

ہم سے پوچھو مزے محبت کے

ہم یہی روز گار کرتے ہیں

مری بیوی سے پوچھ لو جو سلوک

شوہرِ نامدار کرتے ہیں

ممکن نہیں عشق اب دوبارا

یہ واقعہ ہو چکا ہُوا ہے

رش آج بھی ہے وہی سڑک پر

کل حادثہ ہو چکا ہُوا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر بھر کچھ نہیں کیا ہم نے

عاشقی کی ہے، شاعری کی ہے

ایک دَم ہم نہیں مرے اُس پر

ہاں بتدریج خود کشی کی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد، امید، انتظارِ، دُعا

ہجر میں ہیں یہی سہارے پاس

عیش کرنا ہے کیا کوئی مشکل

صرف کچھ نوٹ ہوں کرارے پاس

اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارا نیست‘‘۔ ادبی عیاشی کرنا ہو اور مفت میں عیش بھی تو انور شعور کو پڑھیئے کہ واقعی آتے ہیں غیب سے۔۔۔!‘‘

مزید :

کالم -