جنرل ضیاء الحق، ایک صابر حکمران (1)

جنرل ضیاء الحق، ایک صابر حکمران (1)
جنرل ضیاء الحق، ایک صابر حکمران (1)

  

دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن کی اچھائیوں کا اعتراف ان کی زندگی ہی میں زبان زد عام ہو جاتا ہے اور اہل دنیا ان کی حسنات کا اعتراف دل کی گہرائیوں سے کرتے ہیں۔ جو محض دکھاوا نہیں، بلکہ اعتراف حقیقت ہوتا ہے۔ ایسی شخصیتوں میں مرحوم صدر ضیاء الحق کی شخصیت ایک حقیقت ہے۔ یقیناًان کی ذات میں ان کی حسنات غالب تھیں۔ وہ پاکستان میں بسنے والے نیک طبع نیک طینت لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ ان کی زندگی میں مردمؤمن مرد حق کا لاحقہ ان کے نام کا حصہ بن چکا تھا۔ لوگ ان کا نام انتہائی عقیدت و احترام سے لیتے تھے۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف صرف دوست ہی نہیں، بلکہ ان کے بارے میں کد رکھنے والوں کو بھی تھا۔ وہ اسلامی مملکت پاکستان کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ اس پروقار عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ایک عام آدمی بھی ان کے روبرو ان کو برا بھلا کہہ دیتا تو ان کی جبین کبھی شکن آلود نہ ہوتی۔ وہ ہر ایک سے عفو و درگزر سے کام لیتے۔

ان کے دور کا واقعہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی اخبارات کے ایڈیٹروں کی کانفرنس بلائی۔ تمام مدیران جرائد کو دعوت نامہ بھیج کر بلایا، سب مدیران جمع ہو گئے۔ ضیاء الحق نے مدیران سے خطاب کیا۔ ان کے فرائض پر گفتگو کی اور کہا کہ اخبارات معاشرے کی ذہنی تشکیل میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اخبارات کو اپنے فرائض پوری دیانتداری اور امانت داری سے ادا کرنے چاہئیں کہ عوام کی ذہنی تشکیل ملک کو راہ راست سے ہم کنار کرتی ہے، لیکن اگر اخبارات میں راست روی نہ رہے تو پوری قوم کے بھٹک جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ کانفرنس کے آخر میں صدرِ مملکت نے حاضرین کو سوالات کرنے کی دعوت دی۔ اس مجلس میں بڑے بڑے اخبارات کے بڑے بڑے قدآور ایڈیٹر موجود تھے۔ ایک بہت معروف اخبار کے ایڈیٹر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے بڑے طمطراق سے اپنی گفتگو کی۔ اس اخبار کی لوح پر ایک عرصے سے یہ الفاظ طبع ہوتے تھے۔۔۔’’ ایک جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے‘‘۔

مذکورہ ایڈیٹر نے ضیاء الحق مرحوم کے سامنے بہت سخت باتیں کیں،بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہو گا ’’کھری کھری سنائیں‘‘۔ یہ باتیں کرتے ہوئے موصوف دیگر حاضرین کی طرف داد طلب نظروں سے بھی دیکھتے رہے۔ صدرِ پاکستان ضیاء الحق نے تمام باتیں انتہائی اطمینان سے سر جھکا کر سنیں اور موصوف کے اشاروں کنایوں کو بھی بھرپور انداز میں دیکھا، لیکن سکون وسکوت سے جملہ باتوں کو اطمینان سے سنا اور مسکراتے بھی رہے۔ آخر میں صدر و مارشل لاء انڈمنسٹریٹر نے خطاب کیا۔ سارے حاضرین دم بخود تھے کہ جانے صدر کیا کہیں، لیکن مذکورہ ایڈیٹر کو مخاطب کرتے ہوئے ضیاء الحق نے مسکراتے ہوئے صرف اتنا فرمایا: ’محترم ایڈیٹر صاحب آپ نے یہ سب باتیں ایک جابر حکمران کے سامنے نہیں، بلکہ ایک صابر حکمران کے سامنے کہی ہیں‘‘۔ اس ایک جملے کی جامعیت اور معنویت نے مذکورہ ایڈیٹر صاحب کی ساری تقریر کو ایسے گلا کر رکھ دیا جس طرح اخباری کاغذ پانی میں بھیگ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ شہید صدر ضیاء الحق اپنے اندر فاعفوا و اصفحوا کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے مذکورہ ایڈیٹر صاحب کو اسی حکم الہٰی کے تحت کبھی منتقمانہ جذبے کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اسی طرح ایک بزعم خود انقلابی شاعر نے ضیاء الحق ؒ کے بارے میں ایک نظم لکھی جس میں ضیاء الحق کی ذات پر انتہائی رکیک اشعار لکھے۔

وہ اپنی نجی محفلوں میں یہ نظم لہک لہک کر سنایا کرتے تھے۔ یہ خبر اعلیٰ احکام کے ذریعے صدر صاحب تک بھی پہنچی۔ فوجی حکام نے ملکی نظم کی بہتری کے لئے صدرِ مملکت سے اس کا نوٹس لینے کا مشورہ دیا۔ مذکورہ شاعر کو طلب کیا گیا۔ شہید صدر نے شاعر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اشعار پڑھے۔ شاعر گھبرا یا، پریشان ہوا، لیکن حکم چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا تھا۔ انکار کی گنجائش نہ تھی۔ شہید صدر نے پورے اطمینان سے اشعار سنے، نظم ختم ہوئی۔ شاعر ڈرا سہما ہوا تھا، جانے کیا حکم ہو گا۔صدر ضیاء الحق نے بس اتنا کہا کہ تم نے یہ اشعار ضیاء الحق کے بارے میں کہے ہیں، اگر صدرِ پاکستان کی شان میں گستاخی کی ہوتی تو میں تمہیں سزا دیتا، لیکن تم نے صدر پاکستان کو برا بھلا نہیں کہا ، ضیاء الحق کو کہا ہے۔ جاؤ میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ حاضرین اس جذبۂ عفو و درگزر کو سن کر حیران و ششدر رہ گئے۔ شہید ضیاء الحق کے اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جو ان کی عالی ظرفی کی دلیل ہیں۔

جنرل محمد ضیاء الحق ؒ 5جولائی 1977ء کو برسر اقتدار آئے۔ آپ نے مذکورہ تاریخ کو پاکستان میں مارشل لاء نافذ کیا۔ سیاست کار کچھ بھی کہیں، لیکن ہم علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ مرحوم اگرچہ مارشل لاء نافذ کرکے برسر اقتدار آئے تھے ،لیکن اس وقت کے معروضی حالات کے تناظر میں ان کا یہ اقدام بڑا بروقت اور ضروری تھااور یہ دورِ حکومت اہل پاکستان کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ثابت ہوا۔ اگرچہ آپ نے مارشل لاء نافذ کیا تاہم یہ مارشل لاء پاکستان کے لئے اللہ کی نعمت تھا جس پر ہزار جمہورتیں قربان کی جاسکتی ہیں۔ جولائی 1977ء کا زمانہ پاکستان کے لئے بہت پر آشوب تھا۔ اگر وہ یہ اقدام نہ اٹھاتے تو ملک میں خانہ جنگی ہوتی اور جانے حالات کیا رخ اختیار کر جاتے۔ جب ملک میں افراتفری انتہا کو پہنچی، لا الہ الااللہ کے متوالوں کی زندگی ایک قلیل طبقے نے اجیرن کر دی، دن دیہاڑے ڈاکے، ظلم و جور کا دور دورہ ہو گیا،

شرفاء کا جینا حرام کر دیا گیا، مہینوں تجارتی سرگرمیاں ختم رہیں،بازار بند، سکولوں اور کالجوں کی عمارتوں پر تالے پڑ گئے، شرفاء کا مسجدوں میں جانا، نماز روزہ کی پابندی کرنا انتہائی مشکل ہوا، شریف عورتوں کا گھروں سے نکلنا ناممکن ہوا، دن دیہاڑے بچے اغوا ہونے لگے، دہلیز پر کھیلتے نونہالوں کا اغوا اور قتل معمول بن گیا، تو پاکستان کے شہریوں کی پکار پر واحسرتا یا حجاج این انتکی شکل بن گئی تو لوگوں نے فوج کو مدد کے لئے پکارا۔ ایسے عالم میں فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق ؒ نے فوج کے دیگر افسروں کے مشورے سے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور ملک و قوم کے لئے ٹھنڈی چھاؤں اور بہار کا سایہ مہیا کیا۔ لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ معصوم بچوں کو گھر کے باہر سے اغوا کرنے والے درندے کو سرعام پھانسی دی گئی،گندے عناصر کو کوڑوں کی سزا ملی، اس کے بعد کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ملک میں امن و امان کا دوردورہ ہوا، بازار کھل گئے، تجارتی سرگرمیاں جاری ہوئیں، سکولوں کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں، بدمعاشوں لٹیروں پر کوڑے برسنے لگے تو وہ چلا اٹھے اور مظلومیت کی دھائی دینے لگے۔ (جاری ہے)

پاکستان میں داخلی استحکام کی کامیابی کے بعد ضیاء الحق مرحوم مقصد تخلیق پاکستان کی حکمت عملی کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس بات کا عندیہ انہوں نے مارشل لاء کے نفاذ کے وقت اپنی پہلی ریڈیائی تقریر میں دے دیا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ’’ملک میں تحریک نظام مصطفےٰ سے لوگوں کے اندر اسلامی نظام کو قائم کرنے کا جذبہ دیکھنے میں آیاجو بہت قابل قدر ہے۔ ہم اپنی بساط کے مطابق اس نظام کو قائم کرنے کے لئے کوشاں ہوں گے‘‘۔ اس سلسلے میں ضیاء الحق ؒ نے ملک کو اسلامی تشخص دینے کے لئے بہت سے مثبت اقدام کئے۔ پی آئی اے کی پروازوں میں شراب مہیا کرنے پر پابندی عائد کی۔ شہروں کے اندر کھلے ہوئے شراب خانوں کی بندش کے لئے قانون بنایا اور تمام شراب خانے بند کرا دیئے۔ شراب کی رسیا ایک خاص جماعت کے لوگوں نے اس اقدام کو بنیادی حقوق کی پامالی قرار دیا، لیکن ضیاء الحق ؒ نے کسی کی نہ سنی اور ا نما الخمرو المیسر و الانصاب الازلام رحبس من عمل الشیطن فاجتنبوہ (شراب، جوا اور جوئے کی تمام اقسام شطانی عمل ہیں، لہٰذا ان سے اجتناب برتو) حکم الہٰی پر عمل کرایا۔ عام لوگ اس قانون سے خوش ہوئے، البتہ شراب خانہ خراب کے رسیا ضرور ناراض نظر آئے۔ سرکاری تقاریب میں نمازوں کا اہتمام ہونے لگا۔

مختلف افتتاحی مواقع پر آخر میں اللہ کی بارگاہ میں اجتماعی طور پر دعا کرنے کا رواج عام ہوا جو رجوع الی اللہ کا ظاہری عنوان تھا، جبکہ اس سے قبل ایسے موقع پر دعا کرنے کا رواج نہیں تھا، بلکہ کسی بھی تقریب کے اختتام پر انگریزی رواج کے مطابق ہاتھوں سے تالیاں بجائی جاتی تھیں جو مردانہ نہیں، بلکہ زنانہ طریق تھا۔ دعا کا طریقہ فطرت کے مطابق تھا، اس لئے اس طرز عمل کو قبول عام حاصل ہوا۔ ضیاء الحق کے دور سے لے کر آج تک تمام تقاریب کے اختتام پر اسی طرز عمل کو اپنایا جاتا ہے جس سے پاکستان کا اسلامی تشخص واضح ہوتا ہے۔ اس نیک عمل کا ثواب ہمیشہ روح ضیاء الحق ؒ کو پہنچتا رہے گا۔اس کے ساتھ ساتھ مرحوم نے صلوٰۃ کمیٹیاں اور زکوٰۃ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم بھی دیا جو لوگوں کو نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ کے احکام پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی تھیں۔

اس سے نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کو معاشرے میں فروغ ملا۔یہ دونوں احکام اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہیں۔ سرکاری محکموں میں نمازوں کے اوقات میں نماز کی پابندی کا رواج بھی عام ہوا۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ہوٹلوں کی بندش کا حکم دیا گیا اورسرعام کھانے پینے پر پابندی لگا دی گئی۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ اس سے پہلے سرکاری ملازمین پر پابندی تھی کہ وہ حج پر جانے سے پہلے متعلقہ محکمے سے تحریری اجازت نامہ حاصل کریں۔ یہ اجازت نامہ حاصل کرنے میں مہینوں گزر جاتے اور حج کے ایام بھی گزر جاتے۔ ضیاء الحق مرحوم نے طریق کار میں تبدیلی پیدا کی اور حج پر جانے والوں کو سہولت دی کہ وہ سرکاری اجازت نامے کا انتظار نہ کریں، بلکہ حج کی فرضیت کے بعد متعلقہ محکمے کے سربراہ کو صرف درخواست دے کر حج پر روانہ ہو جائیں ،تاکہ بروقت حج کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے بینکوں میں موجود مالیت کو ہی نصاب زکوٰۃ قرار دے دیا گیا اور اس مال پر زکوٰۃ کی کٹوتی کا نظام رائج کیا گیا۔ البتہ اہل تشیع کو سہولت دی گئی کہ وہ بینک میں موجود اپنی مالیت پر زکوٰۃ کی ادائیگی اپنی حسب منشا مدات پر خرچ کر سکیں۔ بعد میں اس سہولت کا دائرہ دیگر مکاتب فکر کے لوگوں تک بڑھا دیا گیا۔ اس طرح اقیموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ کے قرآنی حکم پر عمل آسان ہو گیا اور پاکستانیوں میں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی میں خوب اضافہ ہوا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ شہید صدر جنرل ضیاء الحق ؒ ایک عادل، انصاف پسند، محب وطن حکمران تھے۔ وہ گیارہ برس تک پاکستان کے حکمران رہے۔ ملک کا پورا خزانہ ان کے قلم کی زد میں تھا۔ چاہتے تو خوب دولت اکٹھی کر سکتے تھے۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملکی دولت کے مالک بن سکتے تھے۔ اپنے لئے محلات نما کوٹھیاں ہر بڑے شہر میں بنوا سکتے تھے ،لیکن ان کے مزاج کی صالحیت نے ان کے اندر حلال و حرام کی تمیز کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔

وہ ملکی خزانے کو اللہ کی امانت خیال کرتے تھے۔ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس رہنے کے لئے اپنا مکان تک نہیں تھا۔ ان کا جنازہ سرکاری رہائش گاہ ہی سے اٹھایا گیا، جس میں وہ اپنے منصب کے سبب رہائش پذیر تھے۔ شہادت کے بعد ان کے لواحقین نے ان کی پنشن کے پیسوں سے اپنا مکان تعمیر کرایا اور پھر اپنے تعمیر کردہ مکان میں منتقل ہوئے۔ حکمران ایمان دار اور منصف ہو تو اللہ تعالیٰ آسمانی اور زمینی بلاؤں سے رعایا کو محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے گیارہ برس حکمرانی کی۔ ان گیارہ برسوں میں ملک کے اندر ایک بار بھی سیلاب نہیں آیا۔ گیارہ برس انتہائی سکون و اطمینان سے گزرے، جبکہ اگلے ہی برس ان کی شہادت کے بعد انتہائی پریشان کن سیلاب نے پورے ملک میں تباہی مچا دی۔ یہ ضیاء الحق شہید کی صالحیت اور اللہ کے ہاں قبولیت اعمال کا ثمرہ تھا۔یہ عظیم انسان 17اگست کو بہاولپور کے قریب ایک طیارے کے حادثے میں اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ آپ جس جہاز میں سوار تھے اس میں کسی ظالم نے بم رکھ دیا اور وہ بہاولپور کے قریب گر کر پاش پاش ہو گیا۔ ان کے ہمراہ تیس چوٹی کے جرنیل بھی رتبہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ اللہ ان کی قبر پر رحمت کی بارش فرمائے:

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

ضیا الحق مرحوم کو شہید ہوئے نصف صدی ہونے کو آئی ۔ انصاف پسند نیک پاکستانی آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔ ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے حاضر ہوتے ہیں اور ہر وقت قبر پر فاتحہ پڑھنے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -