توقیر کی صُورتِ مُجسّم۔۔۔سر سید احمد خاں

توقیر کی صُورتِ مُجسّم۔۔۔سر سید احمد خاں
 توقیر کی صُورتِ مُجسّم۔۔۔سر سید احمد خاں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سر سید احمد خاں ۔۔۔کون سر سید احمد خاں ؟۔۔۔وہی جن کے لئے، حضرت اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا:
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سیّد کام کرتا تھا
ایسا ویسا کام، کام سا کام،ایک قوم کی آنے والی نسل در نسل کے لئے اکیلے وہ لاتعداد عظیم کام کر گئے، جو بہت سُوں کے کرنے کے تھے۔

سوئی ہوئی مسلمان قوم کو خوابِ غفلت سے جگایا۔راہ گم کردہ قوم کی رہنمائی کی تو ایسی کی کہ نسلیں سنوار دیں۔ انہوں نے مسلمان قوم کے لئے خصوصاً اور برصغیر کے عام انسانوں کے لئے عموماً ایسا کام کیا، ایسا کام کیا، جو رہتی دُنیا تک اُن کو اچھے لفظوں میں یاد کرنے کے لئے کافی ہے۔انہوں نے علم و ادب و آگہی کی روشنی پھیلائی، ذہنی بیداری دی۔

غلام ابنِ غلام بننے والوں کو حاکمیت کی راہ پر لگایا۔انگریزوں کی تعلیم تو محض چپڑاسی اور کلرک بنانے کے لئے تھی، سرسید احمد خاں نے اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کر کے انہیں نئی منزلوں کی نوید دی۔نہ صرف راغب کر کے، بلکہ عملی طور پر عظیم تعلیمی درس گاہ بنا کر مسلمانانِ برصغیر کے لئے کامیابی و کامرانی کے نئے اُفق دِکھلائے۔ وہ17اکتوبر 1817ء کو پیدا ہوئے۔اِس سال یعنی2017ء میں 17اکتوبر کے دن اُن کے دو سو(200) برس پورے ہو رہے ہیں۔

اِس موقع پر اُن کے نام اور کام کو اُجاگر کرنے کے لئے200ویں سالگرہ کے موقع پر پاک و ہند میں سرسید احمد خاں کے نام لیوا قلم بکف ہیں۔اِس محسنِ عظیم کو خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرنے کے لئے اہلِ فکر و نظر مکمل تیاریوں میں ہیں!


سر سید احمد خاں کی تحریکِ بیداری نے برصغیر پاک و ہند میں ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کیا۔علمی، تعلیمی، ادبی، ثقافتی،سماجی،سیاسی، غرض ہر ہر شعبے میں اُن کی اپنے زمانے سے آگے کی سوچ نے عظیم الشان فکری انقلاب برپا کیا۔اس بطلِ عظیم و جلیل نے پورے برصغیر کے عام و خاص لوگوں پر وہ احسان کئے، جو اُتارے ہی نہیں جا سکتے۔اُن سے بے حد اختلاف کیا گیا،اُنہیں ’’کرسٹان‘‘ ہونے کا طعنہ دیا گیا،انگریزوں کا زلہ خوار کہا گیا،کفر کے فتوے لگائے گئے،حتیٰ کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لئے دن رات ایک کر دینے والے پر چندہ کھانے کا الزام بھی بعض دریدہ دہنوں نے عائد کیا،جبکہ چندہ جمع کرنے کی ایک عجیب مثال ان کے تذکرے میں یُوں ملتی ہے۔ایک بار انہوں نے سرِ بازار کسی شخص سے چندہ مانگا تو اُس نے وعدہ کیا وہ کل صبح گھر آ کر پیش کرے گا، اگلے روز سر سید احمد خاں نے صبح سویرے گھر کا دروازہ کھولا تو باہر ٹوٹے ہوئے جوتوں کا ایک جوڑا، اِس چٹ کے ساتھ رکھا پایا ’’میری مقدرت میں یہی کچھ ہے، جو حاضر ہے‘‘۔

پرانے ٹوٹے ہوئے جوتوں کے اس جوڑے کو مرمت کرا کے سر سید احمد خاں نے فروخت کیا، جوکچھ حاصل ہُوا اُسے فنڈ میں جمع کرا کے رسید حاصل کی۔ایسے ایماندار شخص پر چندہ کھانے کی تہمت،ہرزہ سراؤں کی ریشہ دوانیوں میں سے ایک کہی جا سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سر سید احمد خاں کے فنڈز ریزنگ پروگرام کے جواب میں ٹوٹے ہوئے جوتوں کا جوڑا اشاراتی طنز ہو،مگر سر سید احمد خاں نے اُس کا بُرا منانے کے بجائے اسے بھی مثبت انداز میں بدل ڈالا۔

سر سید احمد خاں کو حصولِ مقصد کے لئے کام،کام اور کام کی دھن تھی،وہ اپنوں اور پرایوں کے تیر ستم سینے پر کھاتے رہے اور مسکراتے رہے۔سب و شتم مسلسل سہتے رہے،مگر لگن کی ڈھن میں مگن رہے اور کسی ایک لمحے کے لئے بھی ہراساں نہ ہوئے کہ وہ جانتے تھے:


مشکلے نیست کہ آساں نہ شوَد
مَرد باید کہ ہراساں نہ شوَد
سر سید احمد خاں نے ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے سٹیج پر اداکاری بھی کی اور چندہ اکٹھا کیا،’’مینوں نچ کے یار مناون دے‘‘ کی عملی صُورت گری کر کے دکھائی۔ طوائفوں تک کے سامنے چندے کا کشکول بڑھایا اور بھر بھر کے لا کے دکھایا، یار لوگوں نے طوائفوں کے چندے کو حرام قرار دینا چاہا تو کہا ’’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں متعدد باتھ روم، واش روم بھی تو بننے ہیں،یہ چندہ وہاں کام آئے گا‘‘۔کسی بھی عظیم مقصد کے لئے چندہ لینے اور تہمتیں برداشت کرنے کا تجربہ فرشتہ صفت سماجی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کو بھی ہُوا۔


دراصل یہ کام اپنی ذات کی نفی کر کے ہی کیا جا سکتا ہے اور واقعی عظیم لوگ ہی یہ کام کر سکتے ہیں۔1867ء میں اُردو، ہندی تنازع نے سر اٹھایا تو سر سید احمد خاں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے دو الگ الگ قومیں ہونے کا شعور دیا۔ یہی شعور آگے چل کر دو قومی نظریہ کہلایا اور تحریک و قیام پاکستان کا بڑا سبب بنا۔مسلمانانِ برصغیر کی فکر، سیاسی، ذہنی بیداری میں سر سید احمد خاں کا کردار لاثانی ہے۔ بے عدیل ہے، بنیادی ہے، لازوال ہے، انمٹ ہے، ناقابلِ فراموش ہے۔! اُردو زبان و ادب بھی سر سید احمد خاں کے احسانوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

سر سید احمد خاں نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھ کے، مستقبل کے بہت سے تاباں و درخشاں علمی، ادبی، لسانی، تہذیبی اداروں کی آبیاری کی۔

اُن کی اِسی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ کو پلیٹ فارم مہیا کیا اور آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک مثبت لائحہ عمل کے تحت حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں حصولِ مملکت خدادادِ پاکستان کی کوششوں کو ممکنات میں شمار کرایا۔ ان تمام مقاصدِ بلند میں سر سید احمد خاں کی سوچ، عملی جدوجہد اور مستقبل بینی کے خاص ادراک کا عمل دخل رہا۔اُس سوچ کو، اُس فکر کو، اُس جدوجہد کو، باشعور، پڑھے لکھے عوام اور اہلِ فکر و نظر، دانشور اور مستند اہلِ قلم کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں؟بقولِ رئیس فروغ:
حُسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے
سر سید احمد خاں گزشتہ دو سو برس سے چھائے ہوئے ہیں اَور نجانے کب تک چھائے رہیں گے۔جن دِنوں سرسید احمد خاں کُفر والحاد کے فتوؤں کی زد میں تھے اور اپنی مشہورِ زمانہ ’’تفسیر القرآن‘‘ کے سبب مولویوں کا خصوصی ہدف تھے،اس زمانے کے حوالے سے مولانا الطاف حسین حالی کا بیان ہے ’’ایک مولوی صاحب نے سر سید احمد خاں کو خط لکھا ’’مَیں معاش کی طرف سے بہت تنگ ہوں،عربی جانتا ہوں، انگریزی سے نا بَلد ہوں،کسی ریاست میں میری سفارش کر دیجئے‘‘! سر سید احمد خاں نے مولوی صاحب کو جواب میں لکھا ’’سفارش کی میری عادت نہیں،معاش کی تنگی دُور کرنے کا آسان حل یہ ہے کہ میری ’’تفسیر القرآن‘‘ کا رَد لکھ کر آپ چھپوا لیں۔ کتاب خوب بکے گی اور آپ کی معاشی تنگی دُور ہو جائے گی‘‘۔۔۔!


مولانا حالی کے ذکر پر یاد آیا اُنہیں مُسدس’’مدو جزرِ اسلام‘‘ لکھنے کی ترغیب سر سید احمد خاں ہی نے دی تھی اور اِس سلسلے میں اُن کا یہ مشہور زمانہ فرمان یاد گار چلا آ رہا ہے کہ ’’روزِ حشر جب نامۂ اعمال داورِ محشر کے آگے پیش کیا جائے گا تو مَیں فخر سے اپنی بخشش کے لئے کہہ سکوں گا کہ ’’مولانا حالی سے ’’مدو جزرِ اسلام‘‘ لکھوا کے لایا ہوں‘‘۔۔۔ ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ نامی معرکہ آرا کتاب بھی تاریخِ ادب کو سر سید احمد خاں کے قلم کی دین ہے۔

سرسید احمد خاں نہ ہوتے تو ہم1857ء کی جدوجہدِ آزادی یا ’’عذر‘‘ یا ’’بغاوت‘‘ کے اسباب و علل سے کما حقہ طور پر واقفیت نہ حاصل کر سکتے۔سر سید احمد خاں نے اپنے قلم سے جو بھی عبارت آرائی کی، جو کچھ بھی لکھا، جو بھی صفحۂ قرطاس پر رقم کیا، اُسے ایک وقار، ایک اعتبار حاصل ہُوا۔ یہ معتبر اور منفرد اہلِ قلم، مصلحِ قوم، مجددِ عصر، ماہر علم و تعلیم ایک طویل مدت تک مسلمانانِ برصغیر کے لئے نمایاں کارِ آشیاں بندی کرتے ہوئے بالآخر 27مارچ1898ء میں80برس کی عمر میں اِس جہانِ فانی سے عالم جاودانی کو سدھارا،مگر اِس کسمپرسی میں کہ کفن بھی چندے ہی کا میسر آیا۔۔۔ رہے نام اللہ کا:

ہر گز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شُد بہ عشق
ثبت است بر جریدۂ عالم دَوامِ ما

سر سید احمد خاں کے والدِ گرامی میر متقی دہلی کے ایک آزاد مزاج، روشن خیال اور قناعت پسند بزرگ تھے۔سر سید احمد خاں نے ابتدا میں فارسی،عربی کی مروجہ تعلیم دہلی میں حاصل کی۔1838ء میں محض20،21 برس کی عمر میں وہ انگریز سرکار کے میر منشی مقرر ہوئے اور 1841ء میں منصفی کا امتحان پاس کر لیا، پھر1846ء سے 1854ء تک دہلی کے صدر امین رہے۔

1855ء میں بجنور ( یو۔ پی) تبادلہ ہو گیا۔بجنور وہ مشہورِ زمانہ شہر ہے جس کی نسبت سے مرزا غالب کے ایک بہت بڑے مداح عبدالرحمن بجنوری نے یہ کہہ کر لازوال شہرت و مقبولیت حاصل کی کہ بھارت میں دو ہی چیزیں لازوال ہیں، ایک تاج محل، دوسرا دیوانِ غالب۔اِسی شہر ’’بجنور‘‘ سے مولانا وارث کامل کا سہ روزہ ’’مدینہ‘‘ بجنور بھی ادب و صحافت میں دھومیں مچائے رہا۔

سر سید احمد خاں نے 1857ء کے ہنگامے، غدر یا جدوجہدِ آزادی میں بہت سے انگریزوں کی جان بچائی اور پھر اپنا مشہورِ زمانہ رسالہ ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ کے نام سے رقم کیا۔1861ء میں جب وہ سرکاری فرائض کے سلسلے میں مراد آباد میں مقیم تھے تو ایک انگریزی سکول بھی قائم کیا۔1862ء میں مراد آباد سے غازی پور بھیج دیئے گئے جہاں انہوں نے 1864ء میں ایک انجمن ’’برٹش انڈین ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ وہاں سے1864ء میں تبادلے کے بعد علی گڑھ پہنچے اور ایک ماہانہ رسالہ ’’علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔اِسی دوران شہنشاہ جہانگیر کی فارسی خود نوشت کو ’’تزکِ جہانگیری‘‘ کے نام سے اُردو کے قالب میں ڈھالا۔

1869ء میں اپنے دوبیٹوں سید حامد اور سید محمود کو لندن میں کالج میں داخل کرانے کی غرض سے سفر انگلستان پر روانہ ہوئے۔انگلستان میں اُنہیں اِسی دوران میں سی ایس آئی کا خطاب ملا۔ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں میں سر سید احمد خاں نے وہاں کے طریقہ تعلیم کا بغور معائنہ و مشاہدہ کیا اور 1870ء میں ہندوستان واپس آ کر مسلمانوں کے لئے اسی قسم کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ٹھانی۔

ابتدا میں علی گڑھ میں اپنے قریبی دوستوں کے تعاون سے1875 میں ایک سکول کھولا جو دو سال بعد 1877ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ کے نام سے موسوم ہوا۔ بعدازاں یہی سکول علی گڑھ مسلم یونیوسٹی جیسے عالمی شہرت کے حامل درسی ادارے میں تبدیل ہو گیا۔ عزم و ہمت اور مسلسل جہدو عمل سے ایک خواب حقیقت بن گیا۔!


اس تعلیمی درس گاہ میں ہر طرح کے علوم وفنون کی تدریس ہونے لگی،بی اے، ایم اے،ایل ایل بی کر کے قانون دان بھی اس یونیورسٹی سے نکلنے لگے یہاں کے فارغ التحصیل طلباء فخریہ اپنے نام کے ساتھ،’’علیگ‘‘ کا لاحقہ لگانے لگے۔ایک زمانے میں مولوی، مُلا، مولانا اور علیگ ہونا ایک نمایاں اعزاز اور وقار کی علامت تھا۔ جسٹس آنند نرائن مُلا۔۔۔ مولوی بشیر احمد(ڈپٹی نذیر احمد کے والد ِ گرامی) اور عہدِ ماضیئ قریب میں مولانا حامد علی خاں داڑھی مونچھ صَفا چٹ مگر مولانا۔ یہ سب تقدیس کے لاحقے ایک طرف، علیگ ہونا ایک طرف۔ورنہ اس سے پیشتر میاں بشیر احمد بی۔ اے (آکسن) صاحبِ تقدیس تھے۔ پاکستان کے ترکی میں پہلے سفیر بھی ہوئے۔ ’’آکسن‘‘ کے لاحقے سے سرفراز ہونے کا افتخار علیگ کے لاحقے نے کم کر دیا۔یہ سب عزت و وقار، ناز و ادا و اعتبار اور فخرِ مباہات ہونے کا سبب دراصل سر سید احمد خاں ہی تھے،اُن کی معیاری تعلیمی درس گاہ نے دُنیا بھر میں الگ شناخت بنائی اور بڑی بڑی سول سروسز میں یہاں سے فارغ التحصیل طالب علموں نے اپنی ذکاوت و فطانت و ذہانت کے جھنڈے گاڑے،یہیں سے آئی سی ایس کے طبقے نے جنم لیا جس کے اراکین پاکستان کے قیام کے فوری بعد مختلف محکموں میں سربراہ ہوئے اور اپنے نام اور کام سے پاکستان کو منزلِ مُراد کی طرف گامزن کیا،اُس کے بعد اپنی فصل،یعنی سی ایس پی افسران کی مقامی طور پر تیاری ہوئی۔

اب آئی سی ایس (انڈین سول سروس) کے افراد تو اِکا دُکا ہی حیات ہوں گے۔ البتہ سابق سی ایس پی(سول سروسز آف پاکستان) کے لائق و فائق، دانا و بینا و ریٹائرڈ افسران اکثر مل جاتے ہیں۔


غنیمت ہے،پاکستان میں سر سید احمد خاں کی یہ سوچ برقرار ہے کہ مسلمانوں کو انگریزی کی اعلیٰ تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہئے۔ سر سید احمد خاں کی علمی و تعلیمی و علمی خدمات میں یہ سب سے اہم اور مرکزی نکتہ ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام سے مسلمان اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے اور وہ انگریزی جس کے پڑھنے والوں پر طنز و طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے اور ’’کرسٹان‘‘ ہونے کی پھبتی کسی جاتی تھی یا منظوم صُورت میں کہا جاتا تھا:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ تماشا دکھائے گا کیا سِین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
پردہ اُٹھ چکا ہے،وہ پردہ جو اکثریت کی آنکھوں پر پڑا ہُوا تھا،اب قص�ۂ پارینہ ہُوا اور بقول غالب کیفیت یہ ہے:
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہُوا


سر سید احمد خاں محاورتاً ہی قد آور شخصیت کے حامل نہیں تھے، بلکہ وہ جسمانی قدو قامت کے اعتبار سے بھی پُروقار تھے۔آخری دَور میں طویل قامتی کے سبب کمر میں کچھ جھکاؤ آ گیا تھا، مگر جُھکی ہوئی کمر اُستاد قمر جلالوی کے اِس شعر کے مماثل نہ تھی:


پیری میں خم کمر میں نہیں ہے یہ اے قمر!
مَیں جُھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
بلکہ سر سید احمد خاں کی کمر اُن کے میز کرسی پر بیٹھ کر جھک کے گھٹنوں مطالعے کی عادت کے سبب تھی۔ وہ حد سے زیادہ کثیر المطالعہ شخص تھے۔انگریزی، اُردو فارسی، عربی کے علاوہ بہت سی زبانوں پراُنھیں عبور حاصل تھا۔ آخری دورِ حیات میں اُن کی جھکی ہوئی کمر پر شبلی نعمان نے چھوٹی بحر کے ایک شعر میں بڑی حقیقت یُوں قلمبند کر رکھی ہے:

پیری سے کمر میں ایک ذرا خم
توقیر کی صُورتِ مجسّم!

مزید :

کالم -