کیا وزیراعظم عمران خان ناکام ہو گئے ہیں؟

کیا وزیراعظم عمران خان ناکام ہو گئے ہیں؟
کیا وزیراعظم عمران خان ناکام ہو گئے ہیں؟

  

موجودہ حکومت کے قائم ہوتے ہی یہ باتیں بھی شروع ہو گئیں کہ یہ حکومت مسائل میں گھرسے پاکستان کو سنبھالنے میں ناکام ہو جائے گی، عمران خان کے پاس ٹیم نہیں ہے، یہ وہی پرانے لوگ ہیں، پی ٹی آئی نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، وغیرہ وغیرہ…… اُدھر عمران خان کی حکومت نے 100 روزہ پروگرام کا اعلان کیا، جس میں کئی انقلابی اقدامات کا ذکر بھی تھا۔ اس پروگرام پر کتنا عمل ہوا،یہ تو تاریخ ہے، لیکن 100 روز پورے ہوتے ہی کبھی نہ ختم ہونے والے کئی نئے مسائل نے سر اٹھا لیا اور حکومت کو سارے پروگرام اور وعدے بھی بھولنے لگے…… وہ دن اور آج کا دن، حکومت سمیت پورا ملک ایسی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ ہماری سمجھ میں یہ بات آج تک نہیں آ سکی کہ جو سیاستدان حکومت سے باہر ہوتے ہیں، وہ ہر مسئلے کا حل اپنی جیب میں لئے پھرتے ہیں،مگر حکومت میں آتے ہی ملکی خزانے کے ساتھ ان کی جیب بھی خالی ہو جاتی ہے،

پھر وہ پانچ سال تک(اگر پانچ سال پورے کر پائیں تو) پچھلی حکومت کی کرپشن کی گردان کرتے اور ان کا خالی کیا ہوا قومی خزانہ بھرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پاتے، البتہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی رپورٹوں میں اپنی کارکردگی اور ہندسوں میں بہتری، یعنی شرح نمو، جی ڈی پی، افراط زر میں کمی، ترقی کی شرح میں اضافہ وغیرہ وغیرہ کی گردان شروع کر دیتے ہیں، لیکن اگلی حکومت آتے ہی پھر سے خزانہ خالی، دیوالیہ ہوتے پاکستان کو سنبھالنے کی تگ و دو شروع کردیتی ہے۔ عوام ہیں کہ خود حکومت کو پانچ برس کے لئے منتخب کرتے ہیں (عوام کا خیال ہے کہ حکومت انہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے)،مگر پھر حکومت کو ایک سال کا وقت دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔اس طرح پوری قوم کولہو کے بیل کی مانند آنکھوں پر کھوپے چڑھائے ایک ہی مدار میں گھومے جا رہی ہے……کیا ہم دوسری قوموں کی تاریخ کو ایک نظر نہیں دیکھ سکتے کہ انہوں نے کس طرح اپنے مسائل پر قابو پایا اور ترقی کی منازل کیسے طے کیں؟ اگر تاریخ پڑھنا مشکل کام ہے تو اس خاکسار کے کالم کی چند لائنیں پڑھ کر ان پر عمل کر لیں تو شاید کچھ آفاقہ ہو جائے۔

جناب وزیراعظم صاحب! آپ پاکستان کی حزب اختلاف کے مطابق مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، لہٰذا جتنی جلدی استعفیٰ دیں گے، اتنے فیصد ہی اس ملک کو بچانے کے امکانات ہوں گے۔ آپ کے ووٹروں میں سے بھی 40 فیصد کافی حد تک آپ سے ناامید ہوا چاہتے ہیں، البتہ آپ کے 60 فیصد حمایتی اب بھی (نیم دلی سے ہی سہی) پُر امید ہیں کہ آپ نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، ساتھ ان شاء اللہ بھی۔ آپ کو لانے والوں کے موڈ اور منصوبہ بندی کا صحیح علم تو کسی کو نہیں ہوتا، البتہ بقول حزب اختلاف ان کا دل بھی آپ کی کارکردگی سے بھر چکا ہے اور وہ بھی نئی کٹھ پتلیوں کی تلاش میں ہیں اور شاید پرانی سے ہی نیا تجدید عہد کروا لیں۔ ہماری دعا یہ ہے کہ آپ اپنے پانچ سال پورے کریں اور نئے پاکستان کی گردان چھوڑ کر اسی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں، لیکن اس کے لئے سوچ اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پاکستان آج جن مسائل کا شکار ہے، اس سے بھی زیادہ مسائل سے دنیا کے کئی ممالک گر کر سنبھل چکے ہیں،

لیکن ان ممالک نے تاریخ سے سبق سیکھا اور تمام سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں نے ملکی مفاد میں سر جوڑے، کیونکہ بڑے سے بڑا لیڈر بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک سارا ملک اس سے تعاون نہ کرے، اور یہ تعاون لینا ہی لیڈر کی ذہانت کا اصل امتحان ہوتا ہے…… جناب وزیراعظم صاحب! اس بات سے مفر ممکن نہیں کہ آپ کے پیش رو حکمرانوں نے کرپشن کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پچھاڑا، لیکن آپ اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ان کے ساتھ اب بھی عوام کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان کے ہمدردوں میں بیوروکریسی، سرمایہ دار اور مختلف شعبوں کے لوگ ہیں، لہٰذا آپ ان کے بارے میں ”نہیں چھوڑوں گا“ کے صفحے پر سے نظریں ہٹا کر ان سے تعاون لینے کا کلیہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں، کیونکہ جب تک بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ملکی مفاد میں بات چیت اور مل کر کام کرنے کا کوئی پائیدار معاہدہ نہیں ہوگا، اس وقت تک ملک درست راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور نہ ووٹ کی عزت اور ریاست کی رٹ بحال ہو سکتی ہے۔ اب آپ سب سیاستدانوں کو اپنی ذلت سے نجات حاصل کرنے اور ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا زہر پینا ہوگا،مگر یہ ایسا زہر ہے جو آگے چل کر تریاق بن جائے گا۔

جناب وزیراعظم صاحب! آپ دیکھیں کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو سوئے ہوئے بیٹے کا منہ چومنے کے مصداق چھوڑنا تو آپ کو ویسے بھی ”مہنگا“ پڑ گیا، تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ساری حزب اختلاف کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتے اور ان کو ملک کا واسطہ دے کر اپیل کرتے کہ جو کرپشن آج تک کر چکے ہو، اس کی آپ کو معافی دیتے ہیں، لیکن آئندہ ملکی ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ایک میثاق پاکستان کر لیتے ہیں۔ اس طرح سب مل کر ہر شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھاتے، ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن تشکیل دیتے، عدالتی نظام کو درست کرتے، تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نئے سرے سے جدید طرز پر تربیت کرتے، تمام اداروں کی چھان بین اور تربیت کرکے ان کو فعال بناتے، بیروزگاری کے خاتمے کے لئے نجی شعبے کو ترقی دے کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرتے اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے انتخابات کو عام آدمی کے لئے سہل بناتے، نیز ایک مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک لا کر جمہوریت کی بنیادیں مضبوط کر دیتے……جناب وزیراعظم صاحب! ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا،آپ کے پاس تین برس ہیں اور دو راستے ہیں …… یا تو حزب اختلاف کے ساتھ مل کر ملک میں سیاسی مکالمہ شروع کریں یا پھر اسمبلیاں توڑ کر عوام کی طرف رجوع کریں، ورنہ آپ اپنے لانے والوں اور اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر اگر پانچ سال پورے کر بھی گئے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بیرونی دنیا اور حزب اختلاف آپ کی طرف دیکھنے کی بجائے راولپنڈی کی طرف دیکھتے رہیں گے اور عوام آپ کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -