بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 7

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور ...
بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 7

  


جیل قوانین کے مطابق ایک قیدی جسے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہو وہ صرف جیل کے کھانے کو بہتر کرنے کیلئے فالتو پیسے دے سکتا ہے لیکن باہر سے پکا پکایا کھانا نہیں منگوا سکتا مگر بھٹوصاحب کو اس معاملے میں حکاّم نے خاص رعایت دے رکھی تھی۔ دوپہر کا کھانا تقریباً بارہ بجے دن جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر پہنچ جاتا۔ سپرنٹنڈنٹ پہلے اس میں سے خود ٹیسٹ کرتے پھر ڈاکٹر کو بلایا جاتا جو آزمائشی نوالہ لیتا اور اس کے بعدبھٹو صاحب کے سیل میں بھیجا جاتا۔ کھانا اتنا زیادہ ہوتا کہ بھٹو صاحب کے بعد مشقّتی اور پھر خاکروب بھی پیٹ بھر کر کھایاکرتے تھے۔

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شام کا کھانا ڈپٹی یا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے سامنے سے ہوتا ہوا بھٹو صاحب کو پہنچتا۔ در اصل جیل میں کسی بھی قیدی کے کھانے وغیرہ کی کوئی بھی چیز پہلے جیل حکاّم سے ہو کرباقی بچی کھچی اس تک جاتی تھی۔ بیگم بھٹو صاحبہ اس بات کا اہتمام ضروری کرتی تھیں کہ کھانے میں کم ازکم ایک ڈش بھٹو صاحب کے مرغوب کھانے کی ضرور ہو۔ بھٹو صاحب سگار ہی پیتے تھے اور انکے سیل میں ہوانا سگار کا اچھا خاصا سٹاک رہتا تھا۔ وہ عموماً سگار باہر نکل کر پیا کرتے تھے تا کہ تنگ سیل میں سگار کا دھواں ان کی آنکھوں کو متاثر نہ کرے۔

سیکیورٹی وارڈ میں ٹھنڈے مشروبات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ مگر بھٹو صاحب کا دل پسند مشروب صرف پیپسی کولا تھا۔ وہ جب بھی مشروب کیلئے کہتے ہمیشہ پیپسی کولا ہی پسند کرتے۔ ایک دو دفعہ ان کیلئے نواب شاہ سے ایک‘ ایک کریٹ شاید تھا دِل شربت بھیجا گیا۔ اسے وہ گرمیوں میں شوق سے پیا کرتے تھے۔ جب رپورٹ میں ایک کریٹ بوتل کا ذکر ہوا تو مجھ سے حکّام بالانے خاص طور پر پوچھا کہ ان بوتلوں میں کیا چیز تھی؟ ان کو جواب میں بتایاگیا کہ یہ تھا دِل شربت کی بوتلیں تھیں اور ان میں کوئی بوتل شراب وغیرہ کی نہیں تھی۔

بھٹو صاحب کی پہلی بھوک ہڑتال

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ 17مئی1978 ء کو جونہی بھٹو صاحب کو جیل میں قیدی گاڑی سے اتار کر سیدھا سیکیورٹی وارڈ میں لے جایا گیا‘ یہ وارڈ دفاعی کانٹے دار تاروں‘ سنتریوں کی پوسٹوں اور جگہ جگہ تالے کنڈیوں اور وارڈروں سے بھر پور تھی اور پھر فوجی فیلڈ ٹیلیفون‘ الارم کی گھنٹیاں اور اپنے سیل کے دروازے پردالان میں جیل وارڈرن کو اپنے سامنے سنتری پایا‘ تو انہوں نے صبح دس بجے کے قریب جیل سپرنٹنڈنٹ کو سیکیورٹی وارڈ میں بلوایا اور مندرجہ ذیل اعتراضات کئے۔

ا۔ فوجی ٹیلیفون دالان میں کیوں رکھا گیاہے۔ ان کے خیال میں شاید اس ٹیلیفون میں کسی قسم کے خاص آلات رکھے گئے تھے۔ انہوں نے چاہا کہ اس ٹیلیفون کووہاں سے فوراً باہر نکال دیا جائے۔ دراصل یہ ٹیلیفون آپریشن روم اور سیکیورٹی وارڈ میں بات چیت کرنے کیلئے نصب کیا گیا تھا تا کہ ضرورت پڑنے پر ڈیوٹی افسر سیکیورٹی وارڈ میں جیل کے ڈیوٹی اسسٹنٹ سیکیورٹی سپرنٹنڈنٹ یا ہیڈ وارڈ سے وہاں سے حال احوال لے سکے۔

ب۔ ان کا دوسرا اعتراض جیل وارڈ کے ان کی کوٹھڑی کے پاس دالان میں کھڑا ہونے پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ اوّل تو سنتری کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر اس کا ہونا ضروری ہے تو اسے باہر صحن میں کھڑ ا ہونا چاہیے۔

ج۔ بجلی اور پنکھے کے سوئچ اور ریگولیٹر وغیرہ کوٹھڑی کے اندر کے بجائے باہر دالان میں نصب تھے تا کہ بجلی کے تاروں سے قیدی خودکشی نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوئچ وغیرہ ان کی کوٹھڑی میں ہونے چاہئیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے ان کو آن‘ آف( On/Off ) کر سکیں۔

د۔ بھٹو صاحب کی کوٹھڑی کے سامنے والا کمرہ ان کے غسل خانے کے طور پر رکھا گیا تھا۔ اس کے دروازے پر قیدیوں کے لباس والے کھدر کا پردہ لٹکایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو صحیح دروازہ ہونا چا ہیے یا کم ازکم چک پر گہرے رنگ کا کپڑالگا کر لٹکاناچاہیے تاکہ غسل خانے میں پردے کا پورا بندوبست ہو۔

ر۔ سیکیورٹی وارڈ پر جیل کی گارڈ مقرر تھی جو اندر ہی ایک فاضل کوٹھڑی میں رکھی گئی تھی۔ بھٹو صاحب نے اس گارڈ کے اندر ہونے کا اعتراض کیا اور کہا کہ لوگ میرے آرام میں خلل انداز ہوتے ہیں اسلئے انہیں وارڈ کے اندر نہیں ہونا چا ہیے۔

بھٹو صاحب نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا کہ ان کے ان اعتراضات کو فوراً دور کیا جانا چاہیے۔ 17مئی1978ء کوبھٹو صاحب نے دوپہر اور شام کا ہلکا سا کھانا تناول کیا۔ جب انہوں نے دیکھاکہ ان اعتراضات پر کوئی ردّعمل نہیں ہوا تو انہوں نے18مئی کی صبح سے بھوک ہڑتال کر دی۔ ادھر مارشل لاء حکّام نے کوئی اعتراض قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے کافی منت سماجت کی مگر بھٹو صاحب نے کھانے سے انکار کر دیا۔ مسٹر دوست محمداعوان‘ بھٹو صاحب کے پہلے وکیل تھے جو 19مئی1978 ء کی دوپہر کو ان سے ملنے جیل میں آئے۔ پھر20مئی کو یحییٰ بختیار اور غلام علی میمن بھی ان سے آکر ملے ۔ ان وکلاء نے سپریم کورٹ میں جا کر کافی شور کیا‘ جس پر سپریم کورٹ نے جیل حکّام سے کہاکہ سیکیورٹی کو مدّنظر رکھتے ہوئے بھٹو صاحب کے اعتراضات کا خیال رکھا جائے۔ 22 مئی کو مارشل لاء حکّام نے اجازت دے دی کہ فیلڈ ٹیلیفون کو دالان سے باہر صحن میں گارڈ کیلئے خیمہ لگا کر اس میں رکھ دیا جائے۔ غسل خانے کے دروازے پر پردے کا پورا انتظام کر دیا جائے۔

جیل کے سنتری کو بھٹو صاحب کے سیل کے دروازے سے ہٹا کرکچھ فاصلے پر دالان میں ہی رکھا جائے اورچونکہ بھٹو صاحب کی اپیل سپریم کورٹ میں زیرِ بحث تھی اس لئے اُن کی خُودکُشی کا امکان کم تھا اسلئے جب تک اپیل کا فیصلہ نہیں ہوتا بجلی کے سوئچ اور ریگولیٹر وغیرہ دالان سے ان کے کمرے میں منتقل کر دیئے جائیں۔ دن کیلئے گارڈکو وارڈکے اندر سے باہر ٹینٹ میں منتقل کر دیا جائے مگر رات کو وارڈ کے اندر ہی رکھا جائے۔ 

بھٹو صاحب نے تمام اعتراضات قبول ہوجانے پر22 مئی1978ء کی شام کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی اورشام کاکھانا تناول کیا۔ یوںیہ نازک معاملہ اختتام پذیر ہوا۔ بہرحال انہوں نے پانچ دن بھوک ہڑتال کر کے حکّام کو یہ بتا دیاکہ ان میں قوّتِ برداشت اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی کتنی طاقت ‘ صلاحیت اور جرأت ہے اور وہ کس حد تک تکالیف برداشت کر سکتے ہیں۔(جاری ہے )

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپوزر: طارق عباس

مزید : کتابیں /بھٹو کے آخری دن


loading...