بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 6

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور ...
بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 6

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وقتاًفوقتاً یا جب بھی ضرورت پڑے جیل کا ڈاکٹر بھٹو صاحب کے علاج کیلئے حاضر رہتا تھا۔ تاہم کسی نہ کسی وجہ سے وہ جیل کے ڈاکٹر کو پسند نہیں کرتے تھے اور دوسرے ڈاکٹروں سے علاج پرمصرر ہتے تھے جن کاذکر بعد میں کیا جائے گا۔ حفظانِ صحت کی خاطر بھٹو صاحب کے سیل اور اس کے ارد گرد اچھی کوالٹی کی خوشبودار کیڑے مار دوائیں باقائدگی سے چھڑکی جاتی تھیں۔

بھٹو صاحب کو جیل کے حکام کی طرف سے روزانہ دو اخبار ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور’’جنگ‘‘ مہیا کئے جاتے تھے۔ انہیں جیل میں کتابیں وصول کرنے اور رکھنے کی کھلی اجازت تھی۔ بھٹو صاحب کے افرادِ خا نہ یا ملاقاتی قومی یا بین الاقوامی رسائل و جرائد جس قدر چاہتے ہمراہ لاتے اور بھٹو صاحب کو بے روک ٹوک دیا کرتے تھے۔ تاہم بعض موقعوں پر تلاشی لینے کا عمل ملاقاتیوں کیلئے مشکل اور ناگوار صورتحال پیدا کر دیا کرتا تھا جس کا ذکر کتاب میں کسی اور جگہ آئے گا۔

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 5پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

روز مرہ معمولات۔ اگرچہ بھٹو صاحب کی سی شخصیت سے روز مرہ معمولات میں باقاعدگی کی توقع نہیں کی جاسکتی مگر ایک تنگ کمرے میں اسیری کے باعث ان کے روزانہ کے معمولات معین ہو گئے تھے اور پنڈی جیل میں اپنے گیارہ مہینوں کے قیام کے دوران وہ ان معمولات کے پابند ہوگئے تھے۔ وہ رات دیر تک جاگتے رہتے اور دن چڑھے سو کر اٹھتے تھے۔ موسم گرمامیں وہ عموماً آٹھ صبح بیدار ہوتے اور موسم سرما میں نو‘ ساڑھے نو بجے جاگتے تھے۔ چائے کی ایک پیالی پینے کے بعد وہ شیونگ کِٹ طلب کرتے ۔ ان دنوں کو چھوڑ کر جب وہ احتجاج پر ہوتے تو وہ بڑی باقاعدگی اور نفاست کے ساتھ ہر روز شیو کرتے تھے۔ میں نے آج تک بھٹو صاحب کی طرح مکمل اور صاف ستھری شیو کرنے والے آدمی کم ہی دیکھے ہیں۔ بعدازاں کچھ وقت غسل خانے میں گزارتے اور اپنے کی صفائی وغیرہ کاخاص خیال رکھتے تھے۔ وہ ہر مرتبہ نفیس آفٹر شیو لوشن اور کولون( After Shave Lotion ) وغیرہ استعمال کیا کرتے تھے۔ چارلی کولون اور شالیمار( Charlie Cologne & Shalimar ) ان کے پسندیدہ ترین عطریات میں سے تھے۔ 

وہ بالعموم گہرے رنگوں کے شلوار کُرتے میں ملبوس رہنا پسند کرتے تھے اور سیاہ رنگ کے ہلکے پشاوری چپل پہنتے تھے۔ سردیوں میں سینٹ مائیکل کی ہلکی بادامی رنگ جرسی ہی پہنا کرتے تھے۔ غسل کرنے کے بعد گیارہ ساڑھے گیارہ بجے ناشتہ کیا کرتے تھے۔ 

بھٹو صاحب عموماً بہت کم خور شخص تھے۔ عام طور پر ان کا ناشتہ ڈبل روٹی کے ایک یا دو ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا تھا‘ جن پر مکھن شاذونادر اور کبھی کبھا ر ہلکا سا جام لگایا جاتا تھا۔ بس یہ دو لقمے اور کافی یا چائے کی ایک پیالی۔ البتہ وہ کبھی کبھا ر صرف ایک آدھ ابلا ہوا انڈا بھی کھا لیا کرتے تھے۔ کئی دفعہ تو وہ صرف چائے یاکافی کے ساتھ ایک آدھ بسکٹ ہی پر اکتفا کر لیتے تھے۔ یہ تھا ان کا ناشتہ!

ناشتہ کے بعدوہ اسی دفتر ی قسم کی کرسی پر بیٹھ جاتے جو انہیں مہیا کی گئی تھی اور اخبارات کا مطالعہ کرنے لگتے تھے۔ وہ اخبارات کو الف سے ی تک تفصیلاً پڑھا کرتے تھے۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بھٹوصاحب جیسا آدمی اتنا وقت صرف ایک انگریزی اور ایک اردو اخبارپر کیسے صرف کر دیتا تھا۔ ان کی بیگم اور بیٹی ان کیلئے ٹائم‘ نیوز ویک اور دوسرے رسائل و جرائد لایا کرتی تھیں۔ میں ان کے مطالعہ کی عادت پر حیران ہوتا تھا کہ وہ بڑے انہماک کے ساتھ پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔ وقتاً فوقتاً وہ مطالعہ کے دوران چائے یا کافی کا ایک آدھ پیالہ طلب کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو وہ دوپہر کا کھانا سرے سے کھایا ہی نہیں کرتے تھے اور اس کے بدلے صرف چائے یا کافی اور ایک دو بسکٹ پر گزارہ کر لیتے تھے۔

وہ عموماً دوپہر کا کھانادو تین بجے کھایاکرتے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ بستر پر دراز ہوکر سگار پیتے اور جاگتے رہتے۔ انہیں دوپہر کے وقت سونے کی عادت بالکل نہیں تھی۔ اس طرح لیٹے لیٹے وہ کتابوں اور رسالوں کے مطالعہ میں محو رہتے یہاں تک کہ ان کے وکلاء آ جاتے۔ وکلاء نے سپریم کورٹ سے بھٹو کے ساتھ بحث وتمحیص کیلئے صحن میں بیٹھنے کی اجازت لے رکھی تھی۔ وکلاء کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ بھٹو صاحب کی کوٹھڑی میں گفتگو کو ٹیپ کرنے کے آلات پوشیدہ طور پر نصب ہیں اور ایسے آلات کی موجودگی میں وہ مقدمہ کے قانونی پہلوؤں پر گفتگو نہیں کرنا چا ہتے۔ 

سپریم کورٹ نے وکلاء کے اندیشوں کے پیشِ نظر انہیں باہر صحن میں بیٹھ کر گفتگو کی اجازت دے دی تھی۔ یوں بھی وہ شام ٹہلائی کیلئے نکلتے تھے اسلئے وکلاء کے ساتھ بھی صحن میں بات چیت کرتے تھے۔ اس بات چیت کے دوران چائے کے ایک دو دور ضرور چلتے۔ غروبِ آفتاب کے بعد انہیں کوٹھڑی میں آنا پڑتا جہاں یا تو پڑھنے میں اپنا وقت گزارتے یا لکھنے میں یا مقدمہ کے نکات پر غوروفکر میں۔ 

جنوری1979ء کے بعد اس معمول میں خصوصیت کے ساتھ زیادہ باقاعدگی پیدا ہو گئی تھی۔ رات کا کھانا وہ ذرا دیر سے عموماً9سے10 بجے کے درمیان کھا تے اور بارہ بجے رات یا اس کے بعد سوتے۔

بھٹو صاحب کے پسندیدہ کھانوں کی تفصیل یہ ہے۔

قیمہ وہ سب سے زیادہ پسند کرتے تھے۔ مرغ کا شوربہ یا بھنا ہوا مرغ۔ دال مسور‘ دال چنا‘ آلو قیمہ‘مرغ کی یخنی‘ دال لوبیہ‘بھنڈی‘کریلا گوشت‘ بینگن اور کباب۔ گرمیوں میں بعد دوپہر چاکلیٹ ڈرنک لیتے یاآئس کریم کھاتے۔ آموں کے موسم میں وہ بعد دوپہر ایک آ م کھایا کرتے۔ وہ چپاتی کے شوقین تھے اور چاول کبھی کبھار ہی کھایا کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دوپہر کے کھانے کے ساتھ پھل وغیرہ نہ کھاتے اور رات کے کھا نے میں میٹھا نہیں لیتے تھے۔ ہاں نان کو چپاتی پر تر جیح دیتے تھے۔ ایک ایسے قیدی کو جو کھانے تیار کرنے میں مہارت رکھتا تھا بطورِمشقّتی بھٹو صاحب کی خدمت میں دے دیا گیاتھا۔ کھانے پینے کی تمام چیزوں کی پہلے جیل ڈاکٹر تصدیق کرتا اور پھر انہیں باورچی خانہ کے فرج میں رکھا جاتا۔ شروع شروع میں ازرہِ احتیاط باہر سے کھانے پینے کی چیزیں لانے کی اجازت نہ تھی۔ کچھ عرصہ بعد بیگم بھٹو کراچی سے اسلام آباد آگئیں اور پراچہ ہاؤس میں مقیم ہوئیں تب بھٹو صاحب کیلئے اس گھر سے کھانا آنے لگا۔(جاری ہے )

بھٹو کے آخری ایّام , پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں . . . قسط نمبر 7 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپوزر: طارق عباس

مزید : کتابیں /بھٹو کے آخری دن