حکومت کہاں ہے؟؟؟

حکومت کہاں ہے؟؟؟
حکومت کہاں ہے؟؟؟

  

تو امیرِ حرم میں فقیر عجم، تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب ، تو عطا ہی عطا میں، خطا ہی خطا ، تو کجا من کجا تو کجا من کجا۔ مظفر وارثی صاحب نے کس خوبصورتی سے لفظوں میں ہماری جان جن پر قربان ہے انکی مدح سرائی کی ہے اور ہم ہیں کہ ہمیشہ کی طرح کوتاہ اندیش اور جذباتی۔ 

حکومت نے فرط جذ بات میں آکر تحریک لبیک پاکستان کو پہلے نجات دہندہ اور نظر ثانی پر کالعدم قرار دے دیا اور دہشت گردی میں ملوث قرار دیا اور ملکی سلامتی کے لئے عظیم خطرہ گردانا۔۔۔۔پھر ان سے مذاکرات کرلئے ، پھر ان پر لاہور آپریشن کے ذریعے چڑھ دوڑے اور خوب مار پیٹ کی خون خرابا کیا،لوگوں کی جانیں گئیں،قانون نافذ کرنے والے بہادر لوگ رمضان کے مہینے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔۔۔پھر حکومت نے ان شیڈول چہارم میں درج افراد سے مذاکرات کرکے انکے مطالبات مان لیے۔۔۔۔ ویک اینڈ پر ہونے والے معاملات پر پارلیمان اور عدالتوں کو کہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور وہ خاموش تماشائی ہیں۔۔۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہورہا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ ستر کی دہائی کی کوئی پرانی فلم چل رہی ہو اور ملک پر آمریت مسلط ہو۔۔۔ آگے بھی خیر کی امید ناپید ہے۔۔۔۔ 

ملک میں آگ لگی ہےاور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔۔۔۔وزیرِداخلہ کو وزیراعظم سمیت اتوار کو لاہور میں ہونا چاہیےتھا۔ اب بھی اگر  کچھ سمجھ نہیں آتا تو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسندہ آرڈن کی معاملہ فہمی سےاستفادہ کریں۔۔۔۔عدالتیں اگر انتظامی معاملات پر نظر ثانی نہ کریں اور قومی و صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا کر حکومت اور انتظامیہ کی جواب دہی نہ کی جائے تو زرا سی چنگاری کو آگ بن کر پھیلنے میں دیر نہیں لگتی۔۔۔ ‏قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرتے تاکہ جو ہمدردی انہیں ملی تھی وہ برقرار رہتی لیکن ہم تو ہم ہیں جب تک ہڈی پسلی ایک نہ کرلیں چین سے کہاں بیٹھتے ہیں۔۔۔

پارلیمان اور عدالت طاقت کے استعمال پر نظر رکھیں۔۔۔حزب اختلاف اسمبلی  اور میڈیا میں حکومت کی جوابدہی کرے جو جمہوریت کی روح ہے۔۔۔حکومت کہاں ہے؟؟؟ کسی بھی جماعت کو کالعدم قرار دینے سے معاملات حل ہونے ہوتے تو ہوچکے ہوتے۔۔۔ اپنے لوگوں سے بات چیت کریں ، گولی کسی مسلے کا حل نہیں۔۔۔۔ مسلح جتھے جنہوں نے بنائے ہیں وہ فی الفور انہیں ختم کریں۔۔۔ نیکٹا کے زریعے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ ہو۔ ‏ملک میں شدت سے سیاسی رواداری اور استحکام کی ضرورت ہے۔ سیاسی اداروں کی عزت اور تحریم پر کمپرومائز کئے بناء چلتے جانا،پھر دریا کے پانی کیطرح ساتھ ساتھ صفائی کے عمل کو گورننس کے ذریعے جاری رکھنے سے سیاسی استحکام آئے گا ۔۔۔۔قانون سب کے لئے برابر ہو، آئین سپریم ہو،انصاف پر سب کا حق ہو تب ہی معاشی استحکام آسکتا ہے۔۔۔۔سمت کی درستگی کے بغیریہ ناممکن ہے اور ہم اناء ضد اور انتقام چھوڑنے کے قائل ہی کہاں ہیں۔۔۔

انتہا پسندی نفرت اور غصے کا تعلیم تربیت معاشرتی اور طبقاتی تقسیم اور غربت سے گہرا تعلق ہے۔۔۔ ہم معاشرے میں تعلیم و انصاف کے فروغ اور ترقی کے یکساں مواقعوں اور معاشرتی تحمل اور ایک دوسرے کے سننے سمجھنے اور برداشت کرنے کے رویے سے کچھ معاملات میں تبدیلی لاسکتے ہیں لیکن لاتے نہیں ہیں۔۔ ۔ کیوں نہیں لاتے؟؟؟یہ ملین ڈالر کا سوال ہے۔حزب اختلاف اپنے سوال اسمبلی اور میڈیا میں حکومت کے سامنے باز پرس کے لئے رکھے تاکہ جواب دہی ممکن ہو جو جمہوریت کی اصل روح ہے کیونکہ

؀وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا 

کام کرنا ہو تو ساری دنیا سامنے ہے اور آسمان کے بلندیوں تک پہنچا جاسکتا ہےاور کچھ نہ کرنا ہو تو بہانے بہت ہیں۔۔۔ دہشت گردی انتہا پسندی مسلح جتھوں کو غیرمسلح کیا جاسکتا ہے اگر جہت، لگن،سیاسی ول اور اتفاق رائے ہو۔ اگر ڈان لیکس کے ذریعے ریاست میں سمت کافقدان رہے گا اور متوازی حکومتوں کا تاثر ابھرتا رہے گا تو نہ خود اپنے آپ پر یقین کریں گے نہ ہی پرائے ۔۔۔۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ آپ چلاتےرہیں گے کہ شیر آیا ہے اور کوئی یقین نہیں کرے گا۔عمران خان بطور وزیراعظم قوم سے خطاب میں ارشاد فرما رہے تھے کہ ’ہمارا اور ٹی ایل پی کا مقصد ایک ہی ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے‘ کیا اسی لئے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور پھر معاہدات کئے گئے۔ یہ کیا گیدڑ سنگھی ہے جسکا نہ عوام کو پتہ ہے نہ پارلیمان کو ۔

؀غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا 

قوم کو انسانی جانوں کے ضیاع کا بہت دکھ ہے۔حکومت نے فرانس کے صدر کی طرف سے توہین رسالتﷺ کے مسلے کو مس ہینڈل کیا ہے۔سرکار علماء سے وہ معاہدے کیوں کرتی ہے جنہیں جو پورانہیں کر سکتے؟؟؟مسلمان کی دل و جان اور روح میں عشقِ رسول ﷺ گندھا ہوا ہے۔ ‏انکے احساسات مجروح ہوئے ہیں ۔ لیڈروں کا کام انکی نمائندگی کرنا ہے تاکہ انکے احساسات کی ترجمانی ہو۔۔۔۔ ڈرا دھمکا کر یہ معاملہ انتہائی حساس ہےحکومتی مس ہینڈلنگ نےلاہور آپریشن کوقومی سانحے میں تبدیل کردیا ہے۔۔۔۔سیلیکٹرز نے اپنے گرد نان سیریس اکٹھے کئے ہوئے ہیں جو حالات کی سنگینی سے عاری ہیں اور قومی پلیٹ فارم کوذاتی انتقام کے لئے استعمال کررہے ہیں۔۔۔ ۔ اگر اب  بھی احساس نہ کیا تو یہ آگ پھیل سکتی ہے پھر لگتا ہے سب گھر جائیں گے۔۔۔۔

بحرحال ہم جیسوں کیلئے خاموشی نمک چھڑکنے سے بہتر ہے۔۔۔ مذھبی جماعتیں سیاست میں خالی جگہ پر خانہ پری کے لئے لائی گئیں تھیں اب وہ اضافی سامان بن رہی ہیں۔۔۔۔ لاہور  میں خون ریزی ہو اور پنجاب کی بڑی جماعت اور حزب اختلاف میں بیٹھی مسلم لیگ ن بالکل الگ تھلگ اور چپ نہیں بیٹھ سکتی ، انکا ایک کردار ہے اور انکو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔۔۔۔ فطری انصاف جنگل میں ہوتا ہے اور مقدس انصاف اوپر اللہ تعالی کی ذات فرماتی ہے۔۔۔۔ ہمارے معاشروں میں انصاف چھیننا پڑتا ہے اور سارے نظام سے لڑ کر بھی انصاف عوام کو لیکر دینا پڑتا ہے۔

؀دائم آباد رہے گی دنیا

 ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا۔ 

پاکستان میں جو جسکو سوٹ کیاہے  اسنے کیاہے مگر  یہ بات مسلمہ ہے کہ ملازمت پیشہ لوگ لیڈر نہیں ہوتے نہ ہی وہ بن سکے ہیں یا بن سکتے ہیں۔۔۔۔ عوامی منتخب لیڈر ان تمام چالاکیوں سے ماوراء ہی رہتے ہیں۔۔۔ وہ اپنی ریاست اور عوام کے لئے بھلا سوچتے ہیں۔۔۔۔ وہ اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد کھڑی نہیں کرتے۔۔۔ اپنی ایک بوٹی کے لئے اگلے کا اونٹ ذبح نہیں کرتے اور وہ مقبول اور امر رہتے ہیں۔۔۔۔ہم ہائیبرڈ نظام کے اختتام کی طرف رواں دواں ہیں۔ آموں کا موسم آرہا ہے۔۔ اللہ پاک حادثوں سے بچائیں۔ جس طرح ریاستی ادارے ایک جج کے پیچھے پڑے ہیں اسطرح کہیں دہشت گردی، عدم برداشت، غربت  چور بازاری ، انتہا پسندی ، ناانصافی ، بیروزگاری تعلیم کی کمی اور صحت کے فقدان کے پیچھے پڑتے تو آج ہم کہیں کے کہیں ہوتے

؀ ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے

وزیراعظم پاکستان جب قوم سے خطاب کریں تو ناامیدی اور اپنی کمزوری قومی ٹی وی پر ببانگ دہل بیان کرنے سے گریز کریں۔۔۔ ہم کمزور اور اقتصادی طور پر پس ماندہ ملک ضرور ہیں مگر بحیثیت بے غیرت نہیں۔۔۔ سفیر کو نکالنا یا نہ نکالنا حکومتی فیصلہ ہے اور معروضی حالات کو سامنے رکھ کر پارلیمان کی مشاورت سے ہی لیا جائے گا یا لیا جانا چاہیے لیکن علامتی ہی صحیح  قومی احتجاج یورپی ممالک کے لئے واضح وارننگ ہوگی کہ ہوش کے ناخن لیں۔۔۔ مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔ اقوام متحدہ کے ذریعے واضح کنونشن بنایا جائے اور قانون سازی ہو تاکہ ایک دوسرے کے مذاہب کی ہرزہ سرائی نہ ہو اور تہذیبوں کا تصادم روکا جاسکے۔۔۔۔ وگرنہ  مسلمان کب تک اقتصادی نقصانات کے پیش نظر اور اسکے ڈر سے شرم سے آنکھیں جھکاتے رہیں گے اور توہین رسالتﷺ یونہی ہوتی رہے گی؟؟؟ آزادی رائے کا ذمہ دارانہ استعمال اس حق کیساتھ منسلک ہے ہمیں اپنا مقدمہ اپنے نبیﷺ کی رضا کے لئے اقوام عالم میں بہتر طریقے سے لڑنا چاہیے ۔۔۔۔

اپنے ہی موٹر سائیکل جلانے سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا اور کبوتر کی طرح چپ بیٹھنے سے بھی یہ بلی چلے نہیں جائے گی۔۔۔۔ قومی شعور اس بات کا متقاضی ہے کہ اہل علم و دانش علماء اور عوامی نمائندگان اسکا دیرپا اور مستقل بنیادوں پر حل تجویز کریں اور قوم کے سامنے رکھیں اور پارلیمان / حکومت دنیا کے سامنے پیش کرے۔۔۔۔۔ اقبال کا مسلمان یہ تو نہیں ہے جو چند ٹکوں کے لئے قومی حمیت اور حرمت کو داؤ پر لگادے ۔۔۔۔ریاست مدینہ کی طرز پر کسی بھی سوشل ویلفئیر ریاست میں عوام اور لوگوں کی جان و مال کا حفاظت ریاستی ذمہ داری ہے۔۔۔۔ وزیراعظم پاکستان اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا کر آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں ۔۔۔۔ پاکستان کی ترقی میں علماء کا اہم کردار ہے۔۔۔۔وزیراعظم نے ایک حساس معاملے کو مس ہینڈل کیا ہے۔۔۔۔انکے بیانات ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مترادف ہیں۔۔۔باتیں ہر طرف مدینہ کی ریاست کی صلاح الدین ایوبی ، علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کی کرتے ہیں لیکن سرکاری اقدامات اشرافیہ کے انحطاط اور بانجھ پن کی صحیح منظر کشی کرتے ہیں ۔۔۔۔ اللہ پاک ہدائت فرمائیں اور ہم پر اپنا رحم کریں ۔ یا رب العالمین۔

 ؀وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

رُوحِ محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو 

بیرسٹر  امجد ملک  ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -