ارمغان مولانامحمد اسحاق بھٹی ؒ

ارمغان مولانامحمد اسحاق بھٹی ؒ
ارمغان مولانامحمد اسحاق بھٹی ؒ

  


محمد اسحاق بھٹی ؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ برصغیر پاک وہند کے اہلِ علم خصوصاً جماعت اہل حدیث میں ایک معروف شخصیت تھے۔ آپ صحافی، مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت تھے۔

ان کا شمار عصرِ حاضر کے ان گنتی کے چند مصنفین میں کیا جاتا ہے، جن کے قلم کی روانی کا تذکرہ زبانِ زد عام وخاص رہتا ہے، تاریخ وسیر وسوانح ان کا پسندیدہ موضوع تھا اور ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علماء کرام کے حالاتِ زندگی اور ان کے علمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کر دیا ہے، مولانا اسحاق بھٹی ؒ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے تھے۔

بھٹی صاحب نے تقریباً 50 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں 26 کتابیں سیر وسوانح سے تعلق رکھتی ہیں، مولانا تصنیف وتالیف کے ساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الا عتصام کے ایڈیٹر بھی رہے، ’’الاعتصام‘‘ میں ان کے ادارئیے، شذرات، مضامین ومقالات ان کے اندازِ فکر اور وسیع معلومات کے آئینہ دار تھے۔

دورِ حاضر میں اگر تاریخ نویسی اور خاکہ نگاری کے متعلق بات کی جائے تو یہ ناممکن ہے کہ اس تعلق سے مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم کا تذکرہ نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ بھٹی صاحب نے اپنی شگفتہ تحریر اور جادو بیانی سے اس فن کو تازگی اور اس فکر کو بالیدگی عطا کی ہے، بلامبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بر صغیر ہندوپاک میں اگرچہ خاکہ نگار بے شمار ہیں،لیکن مولانا اسحاق بھٹی صاحب کی بات ہی کچھ اور ہے۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی ؒ وہ کہنہ مشق صحافی، مؤرخ ، عالمِ دین، تجزیہ نگار اور بہترین خاکہ نگار تھے جو تقریباً ساٹھ ستر سال سے اپنے رشحاتِ قلم کی عطر بیزی سے طالبانِ علومِ دینیہ ووارثانِ علوم نبوت اور محبان اسلامی صحافت کی مشام روح کو معطر کئے ہوئے تھے، اس عرصے میں کم وبیش60 ہزار سے زائد صفحات تحریر کئے جسے اگر ایک ساتھ جمع کیا جائے تو کم از کم سو سے زیادہ ضخیم جلدیں بن جائیں، ان کی علمی خدمات پر طلباء نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے اور برصغیر پاک وہند کے بے شمار مجلات ورسائل میں شائع ہونے والی تحریریں ساری دُنیا کے چپے چپے میں پہنچ رہی ہیں، مشہور صحافی مجیب الرحمن شامی کے ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ میں مختلف شخصیات پر سلسلہ تحریر ایک عرصہ تک جاری رہا، جسے بڑی پذیرائی ملی۔

بھٹی صاحب کی طبیعت چونکہ علوم دینیہ کی طرف مائل تھی اِس لئے اس وقت کے جید عالم دین شارح سنن نسائی حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف محدث بھوجیانی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا، اس کے بعد شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حافظ محمد گوندلویؒ (سسر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ؒ ) اور حضرت العلام شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ کی خدمت میں رہ کر کسبِ فیض کیا۔ مشہور ومعروف علمی، دینی اور سیاسی لیڈر حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنوی، حضرت مولانا محمد حنیف ندوی کی فیض صحبت وتربیت نے بھی آپ کی علمی وفکری زندگی کو نکھارا۔

مولانا نے جن حالات میں ہوش سنبھالا وہ استعمار کے زوال اور صبح آزادی کے طلوع ہونے کا زمانہ تھا، ساری قوم استعمار کے آگے سینہ سپر ہو گئی تھی، بھلا ایسے حالات میں مولانا بھٹی ؒ تحریک آزادی وطن سے اپنا دامن کیسے بچا سکتے تھے۔

آپ نے استخلاص وطن کے لئے اپنی ریاست کی ’’پرجا منڈل‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی، جس کے صدر اس زمانے میں گیانی ذیل سنگھ تھے جو بعد میں مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ، پھر مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ اور پھر ہندوستان کے صدر بنے اور اس کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب تھے، اس ’’پرجا منڈل‘‘ کو آزادی کی صبح تک کن کن مصائب سے دو چار ہونا پڑا اور کس مدوجزر سے گزرنا پڑا مولانا نے اس کی تفصیل اپنی کتاب ’’نقوش عظمتِ رفتہ‘‘ میں اپنے بچپن کے دوست اور تحریک آزادی کے ہم سفر گیانی ذیل سنگھ کے تذکرے میں اس خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اس دور کے مشرقی پنجاب کی ساری جدوجہد آزادی کا حسین مرقع آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔

مولانا بھٹی کی دیگر کتابوں میں لسان القرآن، چہرۂ نبوت، بزم ارجمنداں، کاروانِ سلف، قافلہ حدیث، گلستان حدیث، قصوری خاندان اور تذکرہ صوفی محمد عبداللہ وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ مولانا بھٹی ؒ نے ایک بھر پور علمی زندگی گزاری، ان کی قلمی خدمات مسلم ہیں، جنہیں نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز، وہ مخالف وموافق سبھی کے لئے حوالہ بنتے رہے ہیں اور آئندہ بھی بنتے رہیں گے۔

زیر نظر ’’ارمغان ‘‘محمد اسحاق بھٹی ؒ کی حیات وخدمات کے حوالے سے ایک نہایت اہم کتاب ہے جو انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے، محترم حمید اللہ خاں عزیز صاحب نے ’’ارمغان ‘‘میں بھٹی صاحب کی سوانح حیات کا نہایت دل نشیں انداز میں عمدہ اور پروقار تذکرہ وتعارف پیش کیا ہے۔

حمید اللہ خاں عزیز جماعت اہل حدیث پاکستان کے معروف قلم کار اورتفہیم الاسلام کے ایڈیٹر ہیں، ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

حمید اللہ خاں کتاب ہذا (ارمغان) کے علاوہ کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں، انہوں نے اس کتاب کو 15ابواب میں تقسیم کیا ہے، کتاب ساڑھے نو سو صفحات پر مشتمل ہے، جن میں ذہبی دوراں محمد اسحاق بھٹی ؒ کی علمی وادبی خدمات، تصانیف واقتباسات، انٹر ویوز، علمائے عصر کے نام خطوط، تعزیتی پیغامات ومکاتیب اور معاصرین کا ذکر بڑے خوبصورت انداز میں کیاہے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ شخصیات کے حوالے سے آج تک جو کام ہوا ہے وہ انفرادی طور پر ہی ہوا ہے ، حمید اللہ خاں صاحب کی کتاب ’’ارمغان‘‘ ان کی ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے۔ مولانا اسحاق بھٹیؒ نے سینکڑوں علماء وفقہا اور شخصیات کے خاکے اور سوانح لکھے ہیں اور زندگی کی 91 بہاریں علماء وفقہا کے لیے وقف تھیں، مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان پر فرض اور قرض بنتا تھا کہ اجتماعی اور جماعتی سطح پر ان کی زندگی کے حوالے سے ایک مکمل تاریخی کتاب مرکز کی طرف سے مرتب کروانے کا اہتمام کرتی، مگر جماعتی ترجیحات میں یہ بات شامل نہ تھی۔

مزید : رائے /کالم