خیال کا سفر، یکسانیتِ مضمون، توارد وغیرہ

خیال کا سفر، یکسانیتِ مضمون، توارد وغیرہ
 خیال کا سفر، یکسانیتِ مضمون، توارد وغیرہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

خیال کا سفر، یکسانیتِ مضمون، توارد وغیرہ جیسا کہ پہلے بھی کئی بار قارئینِ کرام کو بتا چکا ہوں پھر بتا دوں کہ اکثر اوقات رسائل و جرائد اور کتب و اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے یک بیک کوئی شعر ایسا نظر سے گزرتا ہے جس پر نظر ٹک جانے کے ساتھ ہی تلازمہ خیال، پیچھے کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔

حافظے میں سے وہ کلبلا کر صفحۂ قرطاس پر منتقل ہونے کو بے چین ہو جاتا ہے جس سے مضامین کی یکسانیت، توارد، سرقہ یا محتاط الفاظ میں خیال کے سفر کا ٹھیک ٹھیک گمان گزرتا ہے۔

ایسے ہی کچھ جمع شدہ یکسانیت لئے اشعار آج کے کالم کے قارئین کی نذر ہیں، ملاحظہ ہوں:
ثبوت مانگ رہے ہیں وہ مجھ سے اُلفت کا
دکھا دے خاک کوئی میرے قلبِ مضطر کی
قیصر مشہدی
ثبوت مانگ رہے ہیں، میری تباہی کا
مجھے تباہ کِیا، جن کی کج ادائی نے
صہبا اختر
چلا جو کوچ�ۂ جاناں کی سمت مَیں نخشب
تو دُور تک مجھے سمجھانے زندگی آئی
نخشب جارچوی
مَیں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یادِ وطن آئی تھی سمجھانے کو
وحید الٰہ آبادی
سیماب کس نے عرش سے آواز دی مجھے
کہہ دو کہ انتظار کرے آ رہا ہوں مَیں
سیماب اکبر آبادی
باغِ بہشت سے مجھے اذنِ سفر دیا تھا کیوں؟
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر!
علامہ اقبالؒ
وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
وہی تو اَن کہی سی رہ گئی ہے
ڈاکٹر نُزہت عباسی
اِدھر اُدھر کی ہوئی خوب گفتگو اس سے
بہت ضروری تھا لیکن جو کام بھول گیا
ناصِر زیدی
نہ کہا اُن کے رُوبرو کچھ بھی
لب ہِلے، پر زباں رہی خاموش
ناصِر زیدی
یُوں تو کیا کچھ نہ لیا ارضِ وطن تُو نے، مگر
ہائے وہ ہنستے ہوئے چہرے حسیناؤں کے
ڈاکٹر فاخرہ اکبر
ہائے یہ لوگ، پری چہرہ لوگ!
ہائے یہ لوگ بھی مر جائیں گے
ساحر صدیقی
مَوت لے جائے گی مہ پاروں کو
ہائے یہ لوگ بھی مر جائیں گے
بشیرمنذر
ہے سوچنے کی بات کوئی سوچتا نہیں
ہم لوگ خُود بُرے ہیں زمانہ بُرا نہیں
سید معراج جامی
یہ قول ہے علی علیہ السلام کا
مت کر بُرا شمار، زمانہ بُرا نہیں
ناصِر زیدی
کی ہے حق بات تو پھر اس پہ رہو قائم بھی
روٹھنے والوں کو ہرگز نہ مٹانے لگ جائیں
قاسم جلال
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہئے
ظفر اقبال
آہستہ سانس لینے کا مجھ کو ہُنر ملے
حرفِ ادب ہو میری صداؤں کا پَیرہن
ریاض حسین چودھری
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہِ شیشہ گری کا
میر تقی میر
پاگل ہیں، دیوانے ہیں، سودائی ہیں
ہم سے دِل والوں کے کیا کیا نام ہوئے
شجاعت رَجوی
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دُنیا والے دِل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
حبیب جالب
نگاہ برق نہیں، چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
جلیل مانکپوری
شررِ برق نہیں شعلہِ سیماب نہیں
کس لئے پھر یہ ٹھہرتا دلِ بیتاب نہیں
داغ دہلوی
انا للّٰلہ پڑھ کر کہوں!
آسماں کو زمیں کھا گئی
فاتح واسطی
نہ گورِ سکندر نہ ہے قبر دارا
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
آتش لکھنوی
دُکھ ہُوا جب اُس در پر کل فراز کو دیکھا
اور عیب تھے اُس میں خُو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز
او بے وفا خُدا سے ڈر طعنۂ وفا نہ دے
تاجور میں اَور عیب کچھ ہوں، بے وفا نہیں
علامہ تاجور نجیب آبادی
اگر کوشش کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ بے ہمت ہیں جو، ہر کام کو مشکل سمجھتے ہیں
آغا شاعرقزلباش
ہمّت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کون سا عُقدہ ہے،جو وا ہو نہیں سکتا
ناظم انصاری
وفا کے نام پہ اتنے فریب کھائے ہیں
وفا کے نام سے میرا تو اعتبار گیا
شمع یٰسین
رَہِ وفا میں کچھ ایسے فریب کھائے ہیں
کہ آج لفظِ محبت سے کانپ جاتا ہوں
حسرت کاظمی نگینوی
انقلاباتِ جہاں پر کیوں نہ روئیں بادہ خوار
اب جہاں مسجد ہے، پہلے اس جگہ مے خانہ تھا
شامی جالندھری
یہ عمارت تو عبادت گاہ ہے
اس جگہ اک میکدہ تھا، کیا ہُوا
فنا نظامی کانپوری
ہے کاروانِ وقت مسلسل رَواں دَواں
صدیوں سے بوجھ اٹھائے ہوئے ماہ و سال کا
مضطر اکبر آبادی
کس کا خیال کون سی منزل نظر میں ہے
صدیاں گزر گئیں کہ زمانہ سفر میں ہے
جگر مراد آبادی
مجھے تباہ کرنا تھا تو وہ یُوں تباہ کرتے
نہ کبھی نشان ملتا، نہ کہیں مزار ہوتا
شامی جالندھری
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کہیں جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
مِرزا غالب
جس بوجھ کا کوئی متحمل نہ ہو سکا
وہ بوجھ ہم ازل سے اٹھائے ہوئے تو ہیں
مضطر اکبر آبادی
گرَاں سمجھ کے جِسے سب نے کہہ دیا کہ نہیں
وہ بار، دوش پہ مَیں نے اٹھا لیا کہ نہیں
مرزا محمد رفیع سودا
اے ہم نشین نہ پوچھ جوانی کدھر گئی
مثلِ بہار بس اِدھر آئی اُدھر گئی
شامی جالندھری
پِیری سے خم نہیں ہے کمر میں یہ اے قمر
مَیں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
استاد قمر جلالوی
تہمت تراش زیست میں، تعریف بعدِ مرگ
دُنیائے بے ثبات کا دستور ہو گیا
فیض بخشا پوری
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
احمد ندیم قاسمی
بیدار تو ہونے دے خوابیدۂ عالم کو
ہر چیز پکارے گی احمدؐ تو ہمارا ہے
فیض بخشا پوری
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
جوش ملیح آبادی

مزید :

رائے -کالم -