تنظیم سے عدم تنظیم کا سفر

تنظیم سے عدم تنظیم کا سفر
تنظیم سے عدم تنظیم کا سفر

  



تشکیل پاکستان کو چند ہی برس گزرے تھے۔ ملک میں اسلامی نظام برپا کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ اس معاملے میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔ اگرچہ جماعت کے اراکین کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی۔ یوں بھی جماعت قلت و کثرت پر زیادہ یقین نہ رکھتی تھی۔ اس کا زیادہ تر بھروسہ اللہ کی نصرت پہ تھا۔ جماعت اس قرآنی آیت پر یقین سے آگے بڑھ رہی تھی:

ترجمہ: ’’کتنی مرتبہ ایسا ہوا کہ چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑے لشکروں پر غالب آ جاتی تھیں۔‘‘

اسی قرآنی فرمان کے پیش نظر جماعت کے قدم روز بروز آگے ہی بڑھ رہے تھے۔ جماعت کے نظم و ضبط کی دھاک اور رعب و دبدبہ دوسری تمام جماعتوں پر غالب آ رہا تھا۔

حالانکہ اراکین جماعت تعداد کے لحاظ سے کم بلکہ بہت ہی کم تھے۔ ماہ و سال کا تعین تو اب ذہن سے محو ہو چکا، بانی جماعت مولانا مودودیؒ حیات تھے۔ انہی ایام میں فیصل آباد (لائل پور) میں اعلان ہوا کہ مولانا مودودیؒ تشریف لا رہے ہیں۔

بعد از نماز عشاء دھوبی گھاٹ کے میدان میں جماعت اسلامی کا جلسہ ہو گا۔ وقت کا تعین بھی کر دیا گیا۔ وقت سے دس پندرہ منٹ قبل جماعت کے اراکین دھوبی گھاٹ کی جلسہ گاہ میں ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ دو رویہ کھڑے ہو گئے۔نہ دھکم پیل تھی، نہ شور شرابا۔

وقت مقررہ سے عین پانچ منٹ قبل مولانا مودودیؒ پنڈال میں داخل ہوئے۔ قطاروں میں کھڑے تمام حضرات سے مصافحہ کیا اور سٹیج پر آ گئے۔ تلاوتِ کلام پاک ہوئی اور مولانا کی تقریر شروع ہوگئی۔ تقریر کے اختتام پر لوگ ترتیب سے اٹھے اور نظم کے ساتھ گھروں کو چلے گئے۔

اس نظم و ضبط کو دیکھ کر لوگ بڑے متاثر ہوئے، ہر ایک تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ دوسرا واقعہ لاہور میں پیش آیا جو نظم و ضبط کی مثال تھا۔ اعلان ہوا بھاٹی گیٹ کے باغ میں جلسہ ہو گا۔ جماعتی نظم و ضبط کی دھاک پورے پاکستان میں پہلے ہی بیٹھ چکی تھی۔

مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) پر انتہائی جابر حکمران گورنر کی مسند پر تھا۔اس نے حکم دیا کہ جماعت اسلامی کو لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ اس حکم پر جماعت کی طرف سے نہ شور ہوا، نہ احتجاج کی صدائیں بلند ہوئیں، کوئی جلوس بھی نہ نکلالیکن جلسہ نہایت منظم اور بھر پور انداز میں ہوا۔

تمام اراکین اور عام لوگ بھی جلسہ گاہ میں آئے۔ امیر جماعت نے کارکنوں کو حکم دیا۔ تمام حاضرین نظم و ضبط برقرار رکھیں۔ ہم لاؤڈ اسپیکر کے محتاج نہیں، میری آواز بالواسطہ ہر شخص تک پہنچے گی۔ سب لوگ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ٹکڑیوں کی صورت میں جمع ہو کر بیٹھیں۔

ہر ٹولی پر ایک مکبر مقرر کر دیا گیا جو امیر کی تقریر سنتا اور وہی الفاظ دہراتا تھا۔ اس طرح لاؤڈ سپیکر کے بغیر ہی ہر شخص تک امیر کا پیغام پہنچ رہا تھا۔ ہر شخص دلجمعی اور دلچسپی سے سن رہا تھا۔ اقتدار کو یہ نظم کب پسند ہوتا وہ تو جلسہ بھگانے کے لیے لوگوں کو منتشر کرنے کے درپے تھے۔ صاحبان اقتدار نے یہ نظم و ضبط دیکھ کر تشدد کا راستہ اپنایا۔ یکایک حکومتی کارندوں نے مجمع کو گھیرے میں لے لیا۔

مجمع کو تتر بتر کرنے کی کوشش کی۔ خوب شور شرابا کیا لیکن امیر جماعت نے حکم دیا ہر کارکن اپنی جگہ سکون سے بیٹھا رہے۔ ان الفاظ میں جانے کیا جادو تھا جس نے امیر کا حکم سنا خاموشی سے بیٹھا رہا حتیٰ کہ حکومتی کارندوں نے گولی چلا دی، ایک کارکن کو جس کا نام اللہ بخش تھا گولی لگی او رراہ حق میں شہید ہو گیا لیکن سارا مجمع بیٹھا رہا۔ کوئی بھگدڑ نہ مچی۔ جلسہ خراب کرنے کے حکومتی ہتھکنڈے مات کھا گئے۔ خاموشی کے ساتھ سارے لوگ اٹھے اور نظم و ضبط کے ساتھ گھروں کو چل دئیے۔

امیر جماعت کو مشورہ دیاگیا اللہ بخش کی موت کا پرچہ درج کرائیں۔ امیر نے کہا ہم نے پرچہ درج کرا دیاہے لیکن یہ پرچہ ظالم لوگوں کے تھانے میں نہیں اللہ کی بارگاہ میں درج کرایا گیا ہے جو حق و انصاف کا اصل مالک ہے۔

سیاست کار تو موقعہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ایک سیاست کار نے تقریر میں امیر جماعت کو اچکل دی ’’مودودی تو نے اپنا بندہ مروالیا اور چپ سادھ لی اگر میری جماعت کا بندہ شہید ہوا ہوتا تو میں صدر مملکت کو للکارتا، صدر صاحب تم نے ہمارے کارکن کو قتل کرایا اب مرد بنو میدان میں نکلو، جلسہ کر کے دکھاؤ، میں اب اس پاکستان میں کسی جگہ تیرا جلسہ نہیں ہونے دوں گا۔‘‘

الفاظ بڑے تیکھے تھے شاید ملک میں آگ بھڑک اٹھتی لیکن امیر جماعت نے اپنے کارکنوں کو نظم و ضبط کی پابندی کا حکم دیا۔ سب کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے، جماعت کا امیج لوگوں کی نظروں میں گہرا ہو گیا۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی، بڑی زور دار تحریک تھی۔ عام لوگوں نے جیلیں بھر دیں۔مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے عقیدہ ختم نبوت پر ایک کتاب لکھی، مولانا گرفتار ہوئے، ان پر مقدمہ چلا جس کے نتیجے میں فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی۔

اس فیصلے پر پوری دنیا کے مسلمان سناٹے میں آ گئے۔ دوسرے اسلامی ممالک نے رد عمل کا اظہار کیا۔ حکومت پاکستان رد عمل برداشت نہ کر سکی، پہلے موت کی سزا کو عمر قید میں بدلا پھر سزا واپس لے لی۔

رہائی کا حکم ہوا۔ مولانا موصوف کراچی جیل میں تھے۔ اعلان ہوا مولانا ریل کے ذریعے لاہور تشریف لا رہے ہیں۔ گاڑی کی آمد کے وقت تمام کارکن لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ مولانا کی عدم موجودگی میں مولانا عبدالغفار حسن جماعت کے قائم مقام امیر جماعت مقرر ہوئے۔اس کے بعد کی صورت حال کا تذکرہ مولانا عبدالغفار حسن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

تمام کارکن لاہور ریلوے سٹیشن پر نظم و ضبط کے ساتھ قطاروں میں کھڑے گاڑی کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک ایک نوجوان اپنی قطار سے نکل کر میرے پاس آیا، کہنے لگا میری خواہش ہے کہ میں مولانا مودودیؒ کی آمد پر ایک نعرہ لگاؤں، آپ امیر جماعت ہیں مجھے نعرہ لگانے کی اجازت دے دیجئے۔ میں نے کہا کہ ہمارے نظم میں اس کی اجازت نہیں، وہ نوجوان یہ سنتے ہی اپنی قطار میں جا کر کھڑا ہو گیا۔

کچھ ہی دیر گزری تھی وہی نوجوان دوبارہ میرے سامنے آن کھڑا ہوا اور نہایت لجاجت سے خوشامدانہ انداز میں بولا مولانا کی آمد پر میں اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پاؤں گا، مہربانی کیجئے میں ایک نعرہ لگانا چاہتا ہوں، براہ کرم آپ مجھے ایک نعرہ لگانے کی اجازت دے دیجئے۔ مولانا عبدالغفار حسن کے مطابق اس کے خوشامدانہ انداز سے مجبور ہوکر میں نے پوچھاتم کیا نعرہ لگانا چاہتے ہو؟ نوجوان بولا میں نعرہ تکبیر لگانا چاہتا ہوں۔

مولانا نے فرمایا کہ بس تمہیں ایک ہی مرتبہ نعرہ لگانے کی اجازت ہے، وہ نوجوان مطمئن ہو کر چلا گیا۔ مولانا کی گاڑی پلیٹ فارم پر آ کر رکی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ ڈبے سے باہر نکلے، اس نوجوان نے جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں زور سے پکارا نعرہ تکبیر۔ مجمع نے کہا اللہ اکبر اور خاموشی چھا گئی۔ مولانا میرے ہمراہ کار میں بیٹھے اور گھر کی طرف چل دئیے۔ گھر کے اندر داخل ہوئے، بیٹھ کر کچھ سلسلہ کلام کا آغاز ہوا۔

مولانا نے مجھ سے مخاطب ہو کرپوچھا یہ نعرہ کس نے لگایا تھا۔ میں نے نوجوان کا نام بتلایا، مولانا نے مجھ سے دوسرا سوال کیا کہ نعرہ لگانے کی اجازت کس نے دی تھی اور خاموش ہو گئے۔ میں نے بھی کچھ نہ کہا، مولانا خاموش تھے لیکن بہت کچھ کہہ گئے۔

پھر پاکستان کی سیاست میں عجیب موڑ آیا، بعض سیاست کاروں نے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کا جھانسا دیا اور ان کے ایمانوں کا سودا کر لیا۔ اچھے بھلے شرفاء تک یہ کہتے سنائی دئیے یہ قوم نعروں کی ہے کوئی ایسا نعرہ گھڑ دو کہ ہم کسی نہ کسی طرح اقتدار کی سیڑھی عبور کریں۔

پورے شہر میں قاضی آ رہا ہے، قاضی آ رہا ہے، ظالمو قاضی آ رہا ہے کی صدائیں گونجنے لگیں لیکن کھوکھلے نعروں میں جان نہیں ہوتی، بے مقصدیت ہوتی ہے۔نعروں کی گونج میں دروس قرآن،خود احتسابی، ذکر اذکار، شب بیداری، قیام اللیل، گریہ زاری، دعائیں، اللہ کے آگے رونا دھونا، سب اعمال صالح آوے ہی آوے کی نظر ہو کر رہ گئے۔ اقتدار کے حصوں میں شدہ شدہ جماعت کا نظم بدنظمی میں بدل گیا۔ کاش جماعت کا وہ زمانہ پھر لوٹ آئے:

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتاہے

علامہ اقبال فرماتے ہیں:

اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتار دلبرانہ کردارِ قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھویا گیا ہے تجھ سے انداز قاہرانہ

مزید : کالم