تنِ گیتی میں مشلِ روح

تنِ گیتی میں مشلِ روح
 تنِ گیتی میں مشلِ روح

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سنتے پڑھتے آئے ہیں کہ بارہ برس بعد ’’رُوڑی‘‘ ]کوڑے کے ڈھیر کے دن بھی پِھر جاتے ہیں،مگر بقول حبیب جالب:
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

اِسی ماہ اکتوبر کی آٹھویں تاریخ کو2005ء میں، آج سے ٹھیک بارہ برس پہلے آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں ہولناک، خوفناک، وحشت ناک، عبرت ناک زلزلہ آیا اور لاکھوں افراد کو بے سکون کر گیا۔ سینکڑوں جان سے گئے، ہزاروں مکان منہدم ہوئے،شہر کے شہر تباہ و برباد ہو گئے۔اِس زلزلے میں زندہ بچ جانے والے زندہ درگور متاثرین کے زخموں کا اند مال ہنوز نہیں ہو سکا، مرحومین کے لواحقین کی مکمل طور پر داد رسی، دِل جوئی، بلکہ اشک شوئی تک نہیں ہو سکی۔تاریخ کے اس تباہ کُن زلزلے کے حوالے سے اُس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات خان کا یہ جملہ بھی تاریخی ہے کہ ’’مَیں ایک مُلک کا نہیں قبرستان کا وزیراعظم ہوں‘‘۔ زلزلے کے محض دس منٹ بعد پاک فوج کے جَری جوانوں، بہادر افسروں اور نڈر کمانڈروں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے، وہ ہماری عسکری تاریخ کا انمٹ باب بن چکے ہیں۔مُلک کے کسی حصے، کِسی خطے میں بھی زلزلہ ہو، سیلاب ہو، آندھی ہو، طوفان ہو،سونامی ہو، قحط آب ہو، کمیابیِ دوا و غذا ہو، ہر مرحلے پر افواجِ پاکستان ہر اول دستے میں جاں فشاں نظر آتی ہیں۔مجموعی طور پر پاکستان کی70سالہ تاریخ میں مُلک و ملت کی خدمت و سربلندی کے لیے جو کچھ ہماری افواج نے کِیا اُس کا عشرِ عشیر بھی جمہوری حکومتوں نے نہیں کِیا۔ ’’ضربِ عضب‘‘ ہو یا ’’ردّالفساد‘‘ ہماری جَری، نڈر، بہادر، جی دار، سر بکف افواج نے قدم قدم پر عظمت و عزیمت کے نشانات ثبت کیے ہیں،بقول آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، اب ’’ڈو مور‘‘ نہیں ’’نو مور‘‘ کا وقت ہے۔کوئی شاعر، ادیب،دانشور مانے نہ مانے، جانے نہ جانے،مَیں بڑی ذمہ داری سے بِلا خوفِ تردید، افواجِ پاکستان کے گُن گا رہا ہوں۔ وہ بھی تحریری طور پر تاکہ سند رہے۔مَیں اپنی بہادر افواج کے ساتھ ہوں اور اس کی تعریف و توصیف و ثنا میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا:
یہ جَری شیر جواں اور دلیروں کے دلیر
سامنے ان کے ہر اک مرحلہِ زیست ہے زیر
ایک تھے ہمارے بھلے مانس شریف النفس، ایماندار وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، وہ پاکستان کے وزیراعظم اول تھے، جو، اب تک ہر لحاظ سے اول ہی ہیں۔بدبخت قاتل کی گولی سے شہید ہونے والے شہیدِ ملت کے لبوں پر دَمِ آخر کلمہ طیبہ کے بعد یہ کلمہ تھا ’’اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے!‘‘۔۔۔شہادت کے وقت ہمہ مقتدر وزیراعظم کی شیروانی کے نیچے پھٹا ہُوا بنیان تھا اور بینک بیلنس32روپے چار آنے تھا۔۔۔آج کے وزرائے اعظم اور وزیروں،مشیروں تک سے کوئی موازنہ ممکن ہی نہیں۔


شہیدِ ملت نے ازلی دشمن بھارت کو جو مُکا دکھایا تھا، وہ بھی یاد گار بن گیا ہے۔شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی کرنال اور ہمارے ضلع مظفر نگر کے بڑے زمیندار اور نواب تھے۔اُن کا گھرانہ علمی و ادبی تھا۔اُن کے بڑے بھائی نواب سجاد علی خاں بسمل بڑے اچھے شاعر تھے۔ ان کا ایک شعر مجھے یاد آیا:
آئینہ دو تو مقابل ابھی پیدا کر دوں
ناز اتنا نہ کرو حُسن میں یکتا ہو کر

اکتوبر کے مہینے ہی میں5اکتوبر1995ء مولانا حامد علی خاں ] مدیر، ہمایوں، مخزن اور الحمراء[ نے اِس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو کوچ کیا۔وہ مولانا ظفر علی خاں اور حمید احمد خاں کے بھائی تھے اور اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھے۔میری اُن سے ملاقاتیں رہیں۔انھوں نے ’’ہمایوں‘‘ میں کرشن چندر کاپہلا افسانہ چھاپ کر اس عظیم افسانہ نگار کو متعارف کرایا وہ پاکستان میں مکتب�ۂ فرینکلن لاہور کے بانی ڈائریکٹر بھی رہے اور بہت سا امریکی ادب اُردو میں خطیر معاوضے پر منتقل کر دیا۔اُن کی بائیسویں برسی کے موقع پر اُن کے صاحبزادے میرے ’’سکول فیلو‘‘ موجودہ مدیر ’’الحمراء‘‘ شاہد علی خان نے دُعائے خیر کی گزارش کی۔ وہ گزشتہ 17برس سے ’’الحمرا‘‘ باقاعدگی سے نکال رہے ہیں،جس کی پیشانی پر مولانا حامد علی خاں کا یہ لازوال شعر درج ہوتا ہے:
صبحِ ازل سے ہوں تنِ گیتی میں مثلِ رُوح
مجھ کو نہیں ہراسِ فنا جاوِداں ہوں ہیں

مزید :

کالم -