عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 74

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 74
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 74

  

سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے قاسم کسی کو کچھ بتائے رومیل کے گھر سے نکل گیا اور کسی قدر فاصلے پر گلی کی نکڑ پرلگے ’’پام کھجور‘‘ کے درخت کے نزدیک ہو کر کھڑا ہوگیا۔ وہ یہاں بوقت ضرورت پام کے موٹے تنے کی اوٹ سے ڈیمونان کو آتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ گلی کی نکڑ پر اس کے کھڑے ہونے کا انداز بالکل عام سا تھا۔

گھر میں رومیل نے بریٹا سے پوچھا ’’ارے!۔۔۔یہ مورگن کہاں چلا گیا؟ابھی تو یہیں تھا۔‘‘

’’وہ کچھ ضروری سامان لینے کے لیے گیا ہے ابھی آجاتا ہے۔‘‘

بریٹا جانتی تھی کہ قاسم کس لئے چلا گیا ہے۔ بریٹانے خود بھی ڈیمونان کے آنے سے پہلے نہا دھو کر نیا لباس پہنچا۔ اور دائیں ہاتھ کی انگلی میں مارسی کی انگوٹھی بھی پہن لی۔ وہ تیار ہوکر کمرے میں آئی تو رومیل نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’زہے نصیب!۔۔۔آج تو مقدس باپ ک ی بدولت ہمیں بھی تمہارے جلوے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔‘‘

بریٹا کھکھلا کر ہنس دی۔ لیکن رومیل نے اس کی انگلی میں انگوٹھی دیکھ کر ایک بار پھر پوچھا ’’ارے یہ کیا؟ یہ اتنی خوبصورت انگوٹھی کہاں سے حاصل کی تم نے؟۔۔۔خریدی ہے کیا؟‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 73 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بریٹا نے فوراً اپنی انگوٹھی کو دوسرے ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے جواب دیا۔’’جی ہاں! مناسب قیمت میں مل رہی تھی۔ میں نے اس کی خوبصورتی دیکھ کر خرید لیا۔‘‘

آج بریٹا اور رومیل کا بیٹا سلطان مراد بھی پرستان کا ننھا سا شہزادہ دکھائی دے رہا تھا۔بریٹا نے ڈیمونان کے لئے بہت سے کھانے بنائے تھے۔ ان میں بکری کی ران، مرغابی اور مارخور کے گوشت کے علاوہ ابلے ہوئے چاول اور خمیری روٹی شامل تھی۔

سورج غروب ہونے سے کچھ دیر بعد ’’آیا صوفیاء‘‘ کی سفید پردوں والی مخصوص بگھی رومیل کے گھر کے سامنے آکر رکی۔ ابھی اندھیرا نہ چھایا تھا۔ قاسم نے پام کے پیچھے سے بگھی سے اترنے والے مہمانوں کا جائزہ لیا۔ سب سے پہلے دو نوجوان راہبائیں بگھی سے باہر آئیں۔ اور ان کے پیچھے جس شخص نے بگھی سے باہر قدم رکھا اسے دیکھ کر قاسم کی تمام حسیات سمٹ گئیں۔ قاسم کے رگ و پے میں ایک دم سے غصے اور انتقام کی شدید لہر دوڑ گئی۔ اس کے سامنے اس کاپرانا دشمن ابوجعفر موجود تھا۔ وہ چاہتا تو آگے بڑھ کر ابو جعفر کی جان لے سکتا تھا۔ لیکن اس نے صبر سے کام لیا۔

ابوجفعر بطریق کے بارے بھر کم لباس میں تھا۔ یہ آیا صوفیاء کا مخصوص لباس تھا۔ ابوجعفر کے ساتھ آنے والے نوجوان راہبائیں بھی اپنے مخصوص سفید لباس میں تھیں۔ انہوں نے سروں پر سرخ رنگ کے سکارف باندھ رکھے تھے ارر ان کی چال ڈھال سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ابوجعفر کے ساتھ کام کرنے والی اس کی خاص الخاص راہبائیں ہیں۔ یہ لوگ اندر چلے گئے۔ چرچ کی مخصوص بگھی رومیل کے مکان کے سامنے کھڑی تھی بگھی کے کوچوان نے چند قدم آگے بڑھ کر ایک کھلی جگہ اس بگھی کو کھڑا کر دیا اور اپنی نشست کے پیچھے سے سبز چارا نکال کر گھوڑوں کے آگے ڈال دیا۔ بگھی میں دو صحت مند گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ 

وہ لوگ اندر چلے گئے۔ اور انہیں گئے ہوئے جب خاصی دیر گزر گئی تو قاسم اس احتیاط کے ساتھ پام کے پیچھے سے نکلا کہ بگھی کا کوچوان اسے دیکھے تو ایک عام راہگیر سمجھے۔ قاسم بے پرواہی کے ساتھ چلتا ہوا رومیل کے دروازے کے سامنے آیا اور پھر تیزی سے ڈیوڑھی میں داخل ہوگیا۔ ڈیوڑھی کی مشعل ابھی روشن نہ کی گئی تھی۔ قاسم ایک کونے میں سمٹ کر اندر کا جائزہ لینے لگا۔ تمام لوگ نشست کے کمرے میں تھے۔ قاسم بڑے آرام سے چلتاہوا ساتھ کے کمرے میں آکر دروازے کے نزدیک چھپ گیا۔ یہاں بھی مشعل روشن نہ تھی۔قاسم ایک کونے میں سمٹ کر اندرکا جائزہ لینے لگا۔ تمام لوگ نشست کے کمرے میں تھے۔ قاسم بڑے آرام سے چلتا ہوا ساتھ کے کمرے میں آکر دروازے کے نزدیک چھپ گیا۔ یہاں بھی مشعل روشن نہ تھی۔ البتہ مہمانوں کاکمرہ تین چار مشعلوں کی وجہ سے روشن کر دیاگیا تھا۔ یہاں سے مہمانوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

قاسم دروازے کی ایک جھری سے انہیں دیکھ بھی سکتا تھا۔ نشست کے کمرے میں ڈیمونان، اس کی راہبائیں، رومیل اور بریٹا موجود تھے۔ سولٹن کے ہاتھ میں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گلدستہ تھا جسے تھوڑی دیر بعد اس نے مقدس باپ کی خدمت میں پیش کرکے بہت سا پیار لے لیا۔ قاسم کو یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ بریٹابالکل پریشان نہ تھی۔ خصوصاً اس وقت جب ڈیمونان نے پوچھا۔

’’ارے بھائی! ہماری بچی بریٹاکے وہ دولت مند اور رئیس بھائی کہاں ہیں، جو مقدس جنگ کے لئے ہمارے چرچ کو تحفہ نذر کرنا چاہتے تھے اور جن کے لئے ہم نے آپ کی دعوت قبول کی۔‘‘

رومیل نے جلدی سے جواب دیا ’’مقدس باپ! مورگن بریٹا کا چھوٹا بھائی ہے۔۔۔ہم سمجھ رہے تھے کہ آپ کو آتے آتے کافی دیرہو جائے گی۔ اسی لئے وہ تھوڑا سا سامان خریدنے کی غرض سے بازار کی جانب نکل گیا۔ لیکن آپ تو جلد آگئے۔ اس لئے ہم اب مورگن کی عدم موجودگی پر شرمندہ ہورہے ہیں۔‘‘

’’نہیں بچو!۔۔۔تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔کوئی بات نہیں ہم ان کا انتظار کرلیتے ہیں۔‘‘

ڈیمونان جس وقت یہ بات کر رہا تھا بریٹا جان بوجھ کر اپنی انگلی میں مارسی کی انگوٹھی گھمانا شروع ہوگئی۔ وہ بظاہر یہ سب کچھ غیر ارادی طور پر کر ہی ہے۔ ڈیمونان کی نظر فوراً مارسی کی انگوٹھی پر جا پڑی۔ لیکن پہلے پہل اسے کچھ محسوس نہ ہوا۔ بریٹا، ڈیمونان کے سامنے احترام سے بیٹھی تھی اور ایک غیر ارادی حرکت کے طور پراپنی انگلی میں انگوٹھی کو مسلسل گھما رہی تھی۔ قاسم نے دل ہی دل میں بریٹا کوداد دی۔ اور کچھ دیر بعد وہی ہوا۔ انگوٹھی کو بار بار دیکھنے کی وجہ سے ڈیمونان کے ذہن میں یادوں کے کیڑے رینگنے لگے۔۔۔اور پھر ایک دم اسکے دماغ میں جھما کہ سا ہوا اور اسے مارتھا کی انگوٹھی یاد آگئی۔۔۔ارے ! یہ تو وہی انگوٹھی ہے جو البانوی کنیز مارتھا ہر وقت پہنے رکھتی تھی۔۔۔اسے جیسے ہی عہد رفتہ کی یہ بات یاد آئی۔ اس کے دماغ میں چکی چلنے لگی۔ اور اسے حیرت کے جھٹکے لگنے شروع ہوگئے۔ اس نے سوچا مارتھا کی انگوٹھی بریٹا کے ہاتھ کیسے لگ گئی؟ اس کا شاطر ذہن ایک دم چوکناہوگیا۔ وہ بریٹاکی اس پر خلوص دعوت کو دوہری نظر سے دیکھنے لگا اور پھر اس سے رہا نہ گیا۔ اسنے بالاخر بریٹا سے پوچھا ہی لیا۔

’’عزیز بیٹی!۔۔۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کے ساتھ مسلسل کھیل رہی ہو۔ہمیں لگتا ہے تمہیں یہ انگوٹھی بہت عزیز ہے۔‘‘

ڈیمونان کے پوچھنے کا انداز اس کی عیار ذہنیت کا غماز تھا۔ بریٹا اپنی کوشش میں کامیاب رہی تھی۔ ڈیمونان ، مارسی کی انگوٹھی کوپہچان چکا تھا۔ بریٹا نے ڈیمونان کی بات کا جواب بالکل عام سے اور معمولی انداز میں دیا۔

’’مقدس باپ!۔۔۔مجھے یہ انگوٹھی خریدے ابھی چند دن ہی گزرے ہیں۔ میری انگلی میں ذرا سی تنگ ہے، اس لئے کسی کسی وقت بے دھیانی میں، میں اسے صحیح کرنے لگ جاتی ہوں۔۔۔میں اس حرکت پرمعذرت خواہ ہوں۔‘‘

اب بریٹا نے انگوٹھی کو گھمانا چھوڑ دیا اور ڈیمونان کے ساتھ آئی ہوئی راہباؤں کی طرف متوجہ ہوگئی۔ لیکن ڈیمونان کا ذہن پوری شدت سے مارسی کی انگوٹھی میں الجھا ہوا تھا۔ بریٹا نے خریدنے کی بات کی تو ابوجعفر کے تمام غیر ضروری شکوک دور ہوگئے۔ لیکن اب وہ سوچ رہا تھا کہ یہ انگوٹھی قسطنطنیہ کیسے پہنچ گئی؟ اور بریٹا کے ہاتھ کیسے لگ گئی؟اسے سب کچھ بھول گیا اور صرف سات سال پہلے کے واقعات یاد رہگئے۔ بریٹا نوجوان راہباؤں کے ساتھ بات کررہی تھی کہ ڈیمونان نے بریٹا سے پھر سوال کیا۔

’’بیٹی ، ہم اگر تم سے کچھ مانگیں۔۔۔تو کیا ہمیں عنایت کر دو گی؟‘‘

رومیل، ڈیمونان کی بات سے بری طرح چونکا اور بریٹا کی انگوٹھی کو غور سے دیکھنے لگا۔ بریٹانے بڑے سلیقے سے ڈیمونان کی بات کا جواب دیا۔

’’کیوں نہیں! مقدس جنگ کے لئے تو میں اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔۔۔آپ حکم کیجئے۔‘‘

’’ہمیں مقدس جنگ کے لئے نہیں، اپنے لئے کچھ درکار ہے۔‘‘

رومیل کو اب پہلے سے بھی زیادہ حیرت ہوئی۔ وہ سوچنے لگاکہ آسمانی باپکو تودنیا میں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھریہ بشپ کونسی چیز مانگ رہا ہے۔ اسی اثناء میں بریٹا نے بھی وہی بات کی۔

’’مقدس باپ!۔۔۔جو ہم انسانوں کے لئے آسمانی باپ ہوتاہے۔ اپنے دنیاوی بچوں سے کیا طلب کر رہاہے؟ یہ جاننے کے لئے میں بے تاب ہوں۔‘‘

ڈیمونان ایک مرتبہ تو سٹپٹا گیا۔ بریٹانے بات ہی ایسی کی تھی۔ یہ تو سچ تھا کہ ایک راہب جسے دنیاوی علائق سے کچھ غرض نہ تھی۔ وہ بریٹا سے کیا چاہتا تھا۔ وہ بریٹا سے انگوٹھی مانگتے ہوئے ہچکچا رہا تھا۔ یہ نسوانی انگلی کے لئے بنائی گئی ایک چھوٹے قطر کی انگوٹھی تھی۔ سوچنے کی بات تھی کہ ایک مرد راہب کو اس کے ساتھ کیا دلچسپی ہو سکتیتھی۔ حالانکہ مرد راہب تو ایک طرف، چرچ کی راہبائیں بھی زیورات نہ پہنتی تھیں۔ اور پھر اسکے پاس مارسی کی انگوٹھی مانگنے کا یہ جواز بھی تو نہیں تھا کہ وہ دفاعی خزانے کے لئے چند مانگ رہا ہے۔ کیونکہ ایک تو وہ خودکہہ چکا تھاکہ اسے بریٹا سے کوئی چیز اپنے لئے چاہئے اور دوسرے یہ انگوٹھی اتنی قیمتی نہ تھی کی دفاعی چندے کے لئے مانگی جاتی۔ وہ سوچنے لگاکہ انگوٹھی کی بات کس طرح کرے؟ اور کچھ دیر بعد اس نے ایک لمبی سانس لے کرمسکراتے ہوئے کہا۔

’’دراصل آپ کی یہ انگوٹھی میرے لئے دلچسپی کا باعث ہے۔ پہلے آپ یہ بتائیے کہ یہ آپ نے کہاں سے خریدی؟‘‘

رومیل مسلسل حیرت کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نے بریٹا کی جانب استفہامی نظروں سے دیکھا تو بریٹا گھبرا گئی۔۔۔وہ کیا بتاتی کہ اس نے یہ انگوٹھی کہاں سے خریدی ہے۔ لیکن اس نے اپنی پریشانی ظاہر نہ ہونے دی اور فوراً کہا۔ ’’یہ انگوٹھی میں نے گزشتہ کرسمس پرغیر ملکی سوداگروں کی ایک دکان سے خریدی تھی۔ اسمیں کیا راز ہے مقدس باپ؟‘‘

’’اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ انگوٹھی خداوند یسوع مسیح کی ایک سچی خادمہ کی تھی جو یسوع مسیح کے دین پرقربان ہوگئی۔۔۔یعنی شہید ہوگئی۔۔۔اس کا نام مارتھاتھا۔ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔‘‘

ڈیمونان اتنا کہہ کر یکدم خاموش ہوگیا اور قاسم کی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔ قاسم چاہتا تھا کہ ڈیمونان جلدی کے ساتھ مارسی کے بارے میں سب کچھ بتا دے۔ وہ بے صبری سے پہلو بدلنے لگا۔ ادھر بریٹابھی بے چین تھی۔ کیونکہ ڈیمونان، مارسی کے بارے میں بتاتے بتاتے رک گیا تھا۔ بالآخر بریٹا کوخود ہی بولناپڑا اور اس نے کہا۔

’’مقدس باپ! ۔۔۔مجھے تو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ انگوٹھی اتنی عظیم ہوسکتی ہے۔ مقدس باپ! میں یہ انگوٹھی آپ کی نذر کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن آپ دین مسیح پر قربان ہونے والی ’’مارتھا‘‘ کے بارے میں بتاتے بتاتے کیوں گئے ہیں؟ میں بھی یسوع کی داسی ہوں۔ آپ مجھے اس عظیم خاتون ’’مارتھا‘‘ اور اس کی بیٹی کی بابت ضرور بتائیے!‘‘

ڈیمونان، بریٹا کی بات سنتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں مکارانہ چمک عود آئی تھی۔ نہ جانے وہ کیا سوچنے لگا تھا لیکن پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ڈیمونان نے ایک طویل سانس لی اور کہنے لگا۔

’’اس کی بیٹی مارسی اپنی ماں کی طرح دین عیسوی کی سچی خادمہ ہے اور ’’آیاصوفیاء‘‘ کی مقدس راہبہ ہے۔میں اسی راہبہ کو تحفہ دینے کے لیے آپ سے انگوٹھی لینا چاہتا ہوں۔‘‘

ڈیمونان نے زیر لب مکسراتے ہوئے کیا۔ اوراس کی بات سن کر بریٹا کے ساتھ رومیل بھی چونک اٹھا۔ بریٹا نے حیرت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔

’’کیا؟؟آیا صوفیاء کی مقدس راہبہ؟۔۔۔کیانام ہے ان کا؟۔۔۔مقدس باپ! میں اس عظیم ماں کی عظیم بیٹی کی زیارت کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’سسٹر میری!۔۔۔اس کا نام سسڑ میری ہے۔ گزشتہ سات سال سے مارسی آیا صوفیاء میں راہبہ کے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ یہاں اسے مارسی کے نام سے کوئی نہیں جانتا۔یہاں سب اسے ’’سسٹر‘‘کہہ کر پکارتے ہیں۔۔۔صرف چند پرانے لوگوں کو اس کا اصل نام معلوم ہے۔ چرچ کی دوسری راہبائیں اسے ’’سسٹر میری‘‘ کہہ کرپکارتی ہیں۔یہ اس کا مذہبی نام ہے۔‘‘

ڈیمونان کی بات ختم ہوتے ہی بریٹا نے جذبات سے لبریز لہجے میں کہا’’اوہ!۔۔۔بے چاری سسٹر میری ! ۔۔۔میں یہ انگوٹھی ضرور ان کی خدمت کے لیے پیش کروں گی۔‘‘

اب ڈیمونان کے ساتھ آئی ہوئی راہباؤں کے چہروں پر بھی حیرت و استعجاب کان قش تھا۔ بریٹا نے اس گفتگو کے دوران اپنی انگلی سے مارسی کی انگوٹھی اتار لی تھی اور اب وہ اس کے ہاتھ میں تھی۔ بریٹا نے اٹھ کرانتہائی احترام کے ساتھ مارسی کی انگوٹھی ڈیمونان کی خدمت میں پیش کر دی۔ ڈیمونان نے کسی قدر پرجوش انداز میں مارتھا کی اس یادگار انگوٹھی کو تھام لیا۔

(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح