وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 35ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 35ویں قسط

کسی کے پاس جیسے کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ جن کے ذہنوں میں بے شمار سوالات تھے مگر ان کے جواب کسی کے پاس نہ تھے۔ سب کے من کو ایک کھٹکا لگا تھا۔۔۔جیسے کچھ ہونے والا ہے۔

کچھ دیر کے بعد ملازم نے ظفر کو بتایا کہ باہر کوئی بزرگ آئے ہیں۔ ظفر نے ملازم سے انہیں اندر بلانے کو کہا۔ سائیں رحمان اپنے دو مریدوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔

ظفر نے انہیں باہر لان میں ہی بٹھایا۔ اس نے گھنے درختوں والی سائیڈ کی طرف ایک چارپائی بچھا دی۔ انہوں نے ان کی خاطر تواضع کرنی چاہی تو انہوں نے ہر چیز سے منع کر دیا صرف سادہ پانی مانگا۔۔۔اور بہت جلد ہی وہ اصل بات کی طرف آگئے’’مجھے حوریہ سے ملنا ہے۔‘‘

توقیر اور رخسانہ، سائیں کے قریب ہو کے بیٹھ گئے۔ ’’سائیں جی آپ نے حوریہ کا حساب نکالا تھا کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 34ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سائیں نے تشویش بھری نظروں سے رخسانہ کی طرف دیکھا’’آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے حوریہ کی تاریخ پیدائش اور دوسری معلومات درست دی تھیں۔‘‘

’’جی سائیں! اس میں کوئی قباحت نہیں تھی۔‘‘ توقیر نے کہا۔

بزرگ نے تاسفانہ انداز میں نگاہیں جھکا لیں۔’’میرے حساب کے مطابق تو حوریہ کو مرے ایک سال ہوگیا ہے۔‘‘

رخسانہ تڑپ کر رہ گئی جیسے کسی نے اس کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔’’آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔‘‘

بزرگ کی اس بات سے سب چونک گئے۔ ساحل بزرگ کے قریب آیا اور حیرت سے پوچھنے لگا۔’’جو حوریہ ہمارے ساتھ رہ رہی ہے وہ کون ہے۔‘‘

’’میں اسی کا توپتہ لگانے آیاہوں۔۔۔؟‘‘

توقیر اشتعال انگیزی میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا۔’’یہ بزرگ کیسی باتیں کر رہے ہیں، میں اسی لیے کہتا تھا کہ ان بزرگوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ میری حوریہ زندہ ہے اور ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

ظفرنے توقیر کو شانوں سے پکڑتے ہوئے بٹھایا۔’’سائیں جی کو حوریہ سے بات تو کرنے دو، اس طرح بولوگے تو سائیں جی اپنا کام کیسے کریں گے۔‘‘

توقیر چیخ چیخ کر بولنے لگا۔’’یہ میری حوریہ کو اذیتیں دیں گے مجھے حوریہ کو انہیں نہیں دکھانا۔‘‘سائیں جی نے اپنا ہاتھ ہوا میں اکڑا لیا’’اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہو جو زندہ ہی نہیں ہے۔‘‘

ظفر نے توقیر کو سمجھایا اور زبیر اور ماہین نے رخسانہ کو سمجھایا اور انہیں بمشکل آمادہ کیا کہ سائیں جی کو حوریہ سے بات کرنے دیں۔ سائیں جی درخت کے قریب بچھی چارپائی پر بیٹھ گئے اور ظفر سے گویا ہوئے۔ ’’حوریہ کو ادھر لے آؤ۔ کھلی ہوا میں، درختوں کے قریب اس سے پوچھنا زیادہ بہتر ہو گا۔‘‘ رخسانہ اندر سے حوریہ کو لے آئی۔

سائیں جی کی چارپائی کے قریب رکھی ہوئی کرسی پر حوریہ بیٹھ گئی۔

سائیں جی نے سب کی طرف نظر دوڑائی۔ رخسانہ ، توقیر ، ساحل اور ظفر ان کے قریب ہی بیٹھے تھے باقی لوگ کچھ فاصلے پربیٹھے تھے۔ بابا جی نے کسی کو بھی جانے کے لیے نہیں کہا۔

انہوں نے حوریہ سے بہت پیار سے پوچھا’’آپ کا کیا نام ہے بیٹی۔۔۔‘‘

حوریہ نے انتہائی معصومیت سے کہا’’یہ سب کہتے ہیں کہ میرا نام حوریہ ہے اس لیے آپ بھی سمجھ لیں کہ میں حوریہ ہوں۔‘‘

’’آپ کے ذہن میں کیسا خاکہ ہے آپ کے گھر آپ کے والدین کا۔۔۔‘‘

’’میرے والدین اور میرے گھر کا جس طرح کا خاکہ مدھم سا میرے ذہن میں ہے وہ نہ تو ان لوگوں جیسا ہے اور نہ اس گھر جیسا۔‘‘ حوریہ نے اداس لہجے میں کہا۔

سائیں جی نے اپنے تھیلے سے سفید رنگ کی پانی کی بوتل نکالی اور توقیر سے ایک کرسی منگوا لی۔ توقیر کرسی لے آیا۔ سائیں جی نے وہ کرسی حوریہ کی کرسی کے قریب رکھی اور پانی کی بوتل لے کر حوریہ کے پاس بیٹھ گیا۔

’’میں جو پڑھ رہا ہوں اسے غور سے سنو۔‘‘ یہ کہہ کر سائیں جی نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھنا شروع کی۔

وہ بوتل کو اپنے منہ کے قریب لے جا کے اس طرح آیتیں پڑھ رہے تھے کہ آواز سے بوتل کے پانی میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔

حوریہ سکتے کی سی کیفیت میں آیتیں سنتی رہی پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ سائیں نے لمحہ بھر کے لیے پڑھنا چھوڑا اور توقیر سے کہنے لگا’’دو خواتین حوریہ کے قریب کھڑی ہو جائیں۔‘‘

رخسانہ اور ایمن حوریہ کی کرسی کے قریب کھڑی ہوگئیں۔ سائیں جی نے پھر دوبارہ اسی انداز سے پڑھنا شروع کر دیا۔

رخسانہ کی نظر حوریہ کے بازوؤں پر پڑی بوتل کے پانی جیسی تھرتھراہٹ اس کے جسم میں بھی تھی۔ اس کے بازوؤں کی جلد اس طرح کانپ رہی تھی کہ رخسانہ نے خوفزدہ ہوتے ہوئے ایمن کی طرف دیکھا۔۔۔ایمن نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ رفتہ رفتہ حوریہ کے پورے جسم میں تھرتھراہٹ محسوس ہونے لگی مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ پھر اس کا جسم کرسی پر سے پھسلتا ہوا زمین کی طرف ڈھیر ہونے لگا۔

رخسانہ آگے بڑھ کر حوریہ کر پکڑنے لگی تو سائیں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسے ابھی کوئی ہاتھ نہ لگائے وہ مسلسل اونچی آواز میں سورۃ بقرہ کی آیتیں پڑھتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے مرید کو کچھ اشارہ کیا۔

مرید اپنی جگہ سے اٹھا اس نے تھیلے سے ایک چاک نکالا اور جہاں سب لوگ کھڑے تھے وہاں منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے چاک سے دائرہ کھینچ دیا اور ظفر سے مخاطب ہوا’’سائیں جی چاہتے ہیں کہ جو یہاں رکنا چاہتا ہے وہ اس دائرے میں آجائے۔‘‘

ان سب نے سائیں کی بات مانی ا ور سب ایک ہی دائرے میں کھڑے ہوگئے۔ حوریہ زمین پر لیٹی کانپ رہی تھی۔ پھر ایک دم اس کے جسم سے کپکپاہٹ ختم ہوگئی۔ جس کے ساتھ ہی سائیں نے پڑھنا چھوڑ دیا اور حوریہ کو ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں ڈال کر اس زنجیر کا سرا درخت سے باندھ دیا۔ توقیر چلا کر بولا’’یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟‘‘

سائیں نے سختی سے اپنا ہاتھ اکڑایا’’دائرے سے باہر مت آنا، میں اسے کوئی اذیت نہیں دے رہا، اب میرے عمل کے دوران مت بولنا ورنہ نقصان کے ذمہ دار تم خود ہوگئے‘‘

ظفر نے توقیر کو شانوں سے پکڑ کے روکا اور اسے سمجھایا۔ سائیں زمین پر حوریہ کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے حوریہ کی پیشانی پر انگوٹھا رکھا تو حوریہ اس طرح تڑپنے لگی جیسے کسی نے اس کی پیشانی پر دہکتا کوئلہ رکھ دیا ہو۔

سائیں اپنی بھاری آواز میں بولا’’کون ہو تم؟‘‘ حوریہ نے آنکھیں کھولیں تو اس کی آنکھوں میں بے حسی اور جارحانہ پن تھا۔

’’کون ہو تم۔۔۔؟‘‘ سائیں نے اپنا سوال دہرایا۔

’’میں حوریہ ہوں۔‘‘ وہ ڈبل آواز میں بولی۔ ایک موٹی اور ایک باریک۔ اس کی آواز میں سیٹی کی سی چیخ تھی جو بات ختم ہونے کے بعد میں فضا میں گونجتی رہتی تھی۔

’’مجھے سچ سچ بتاؤ ورنہ میں تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں۔‘‘

سائیں کی اس دھمکی پر وہ اونچا اونچا ہنسنے لگی’’میں حوریہ ہی ہوں مگر میرے پاس وہ ناتواں کمزور جسم نہیں جسے تم نقصان پہنچا سکو، میں تو ہوا ہوں، شیطانی طاقتوں کی ملکہ، کسی بھی وقت کہیں بھی کوئی بھی روپ دھار سکتی ہوں۔ میرے معاملات میں دخل اندازی مت کرو ورنہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔‘‘

حوریہ کی زبان سے یہ سب سن کے رخسانہ اور توقیر پر سکتہ طاری ہوگیا۔

دائرے میں کھڑے ہوئے سب لوگ ہی حواس باختہ تھے۔ سائیں نے ایک بار پھر پانی کی بوتل میں پڑھنا شروع کر دیا۔ حوریہ کسی جانور کی طرح دھاڑیں مارنے لگی اور اپنے جسم کو زور زور سے پٹختے ہوئے زنجیریں توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ رخسانہ تو منہ پہ دوپٹہ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

سائیں جی جوں جوں پڑھتے جا رہے تھے حوریہ کی تڑپن بڑھتی جا رہی تھی۔ سائیں نے بوتل میں سے تھوڑا سا پانی نکال کر اس کے چہرے پہ چھڑکا تو اس کی دلخراش چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس نے انگاروں کی طرح دہکتی آنکھیں سائیں کے چہرے پر گاڑ دیں۔

’’تو نے زنجیریں اس لڑکی کے جسم پر ڈالی ہیں، مجھ پر نہیں، ایک بار مجھے اس جسم سے باہر آنے دے، مجھ پر سے اپنا عمل ختم کر دے، ورنہ میں اس لڑکی کو ختم کر دوں گی۔‘‘

سائیں نے اپنے لہجے کی تلخی تھوڑی کم کی اور تحمل سے کہا’’تم میرے چند سوالات کے جواب دے دو پھر تم اس جسم سے چلی جانا۔ اگر تم ہوا ہو تو اس ناتواں جسم کی مالک لڑکی کون ہے اور اسکا چہرہ تمہارے جیسا کیسا ہے۔‘‘

حوریہ سرگوشی کے انداز میں بولی’’یہ ثناء ہے میں نے اپنی طاقت کے بل پر اس کے چہرے کو اپنا روپ دے دیا۔ میں اور کیا کچھ کر سکتی ہوں، تمہیں اندازہ نہیں ہے۔‘‘

سائیں نے پھر دوبارہ ہونٹوں کی تیز جنبش کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔ سائیں کے دونوں مرید بھی کتابیں کھولے خاص کلام پڑھ رہے تھے۔ پورے ماحول میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔

حوریہ کے چہرے کی جلد پتھریلی اور بے جان دکھائی دے رہی تھی۔ کسی مردے کی طرح اس کے پورے جسم کی رنگت سیاہی مائل ہو رہی تھی۔

’’خیام ، فواد اور وشاء کہاں ہیں؟‘‘

سائیں کے پوچھنے پر حوریہ نے قہقہہ لگایا’’ہم چاروں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ تھوری دیر تک وہ تینوں خود یہاں آجائیں گے پھر دیکھ لینا کہ وہ کیسے ہیں۔۔۔جب بھی ہم میں سے کوئی مصیبت میں ہوتا ہے ہمیں خبر ہو جاتی ہے اور ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں۔‘‘

تھوڑی دیر کے لئے تو سائیں کے چہرے پر خوف کے تاثرات عیاں ہوگئے مگر اس نے خوف کو خود پہ حاوی کیے بغیر پانی کی بوتل پر آیات پڑھنا شروع کر دیں۔ پانی کے ارتعاش کے ساتھ ساتھ حوریہ کے جسم کی کپکپاہٹ بھی بڑھ گئی۔

اس کا مقصد حوریہ کی روح کو اس معصوم لڑکی کے جسم سے باہر نکالنا تھا۔ سائیں کا عمل جاری تھا۔ دائرے میں کھڑے ہوئے لوگ سکتے کی سی کیفیت میں یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 36ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...