فراڈ کہانی (3)

فراڈ کہانی (3)
 فراڈ کہانی (3)

  

اب ٹیکس جمع کرانے کا جو طریق کار بتایا گیا وہ یہ تھا کہ آپ فوری طور پر کسی بھی موبی کیش کی دکان پر جائیں اور اکاؤنٹ نمبر 03022973943 میں پانچ ہزار روپے جمع کرادیں اور باقی بھی فوری بندوبست کرکے جمع کرائیں کیونکہ میڈم ایتھونیا نے واپس بھی آنا ہے ان کا قیام صرف ایک دن کا ہے۔ زونگ آفس کا شکریہ ادا کرکے میں باہر نکلااور سیدھا سامنے ہی واقع موبی لنک کے مرکزی آفس جا پہنچا اور ان کے ایک آفیسر سے درخواست کی کہ اس اکاؤنٹ نمبر کی تفصیل بتا دیں اور ساتھ ہی وجہ بھی بتا دی۔ آفیسر فرمانے لگے کہ ایسی شکایات بہت زیادہ آرہی ہیں لیکن ہم اپنی کمپنی کے قواعد پر عمل کرتے ہوئے یہ تفصیل مہیا نہیں کرسکتے۔میں نے کہا چلیں اپنا نام ہی بتا دیں انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بھی نہیں کرسکتا۔

آئیے اب ندیم صاحب کے تضادات پر غور کرتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ انعام آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا جائے گالیکن بعد میں یہ کام زونگ ٹیم اور پھر میڈم ایتھونیا کو سونپ دیا گیا۔ سچ کی ایک زبان ہوتی ہے لیکن جھوٹے کو بھول جاتا ہے کہ پہلے میں نے کیا کہا تھا۔ زونگ کمپنی چائنہ کی ہے اس کا دوبئی میں کوئی ہیڈ آفس ہی نہیں، موصوف کو اس کا تو علم ہونا چاہئے اور کال سننے والوں کو بھی۔ انعام زونگ کمپنی والے دے رہے ہیں اور اکاؤنٹ اپنی حریف کمپنی موبی لنک والوں کا رکھا ہوا ہے۔سب سے پہلے پانچ لاکھ انعام کا بتایا گیالیکن ندیم صاحب نے اس میں فوری چار تولے سونا بھی شامل کردیا تاکہ ’’آتش لالچ‘‘ مزید بھڑکائی جاسکے۔شروع میں ندیم صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ مانگ نہیں رہے بلکہ صرف معلومات کی تصدیق کرکے انعام آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیں گے لیکن پھر جب دیکھا کہ پنچھی جال میں آچکا ہے تو ٹیکس کے نام سے 7500مانگ لئے۔ندیم صاحب جب بات کررہے ہوتے تھے تو پیچھے یعنی ’’بیک گراونڈ‘‘ سے ماحول کی جو آوازیں آرہی ہوتی تھیں وہ ظاہر کررہی ہوتی تھیں کہ کسی بڑے عملے والے مصروف دفتر سے کال کی جارہی ہے، کبھی آواز آرہی ہے کہ آپ کی کال ٹرانسفر کی جارہی ہے۔ ایک آواز آرہی تھی کہ آپ کا نمبر 4G کردیا گیا ہے ،یعنی اسی طرح کی دفتری باتیں۔ ندیم صاحب نے پروسیجر کے نام سے جب دو تین مرتبہ پانچ منٹ سے زائد وقفہ ڈالا تو معلوم ہوا کہ بیک گراونڈ میں کوئی ریکارڈڈ ٹیپ چل رہی ہے کیونکہ چار منٹ بعد وہ سب دوبارہ Repeat ہونا شروع ہو جاتا تھا لیکن یہ سب اس وقت معلوم ہوا جب سو روپے کا کارڈ ان کو بتایا جاچکا تھا۔

اب آخر میں انکے فائنل طریق کار کی بات کرتے ہیں۔ان کے گروہ میں یقیناًان کا کوئی بھائی یا رکن زونگ کمپنی میں ملازم ہے جو ایسے کسی نمبر کی معلومات ڈھونڈتا ہے جس کا بیلنس صفر ہوچکاہو یا بہت کم ہو۔ جو بہت کم استعمال ہو رہا ہو، کمپنی کے پاس شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر معلومات کی رسائی ہوتی ہے مثلاً والدہ کانام جو شناختی کارڈ پر نہیں ہوتایعنی وہ معلومات جن کا علم یا تو کمپنی کو ہو یا صارف کو۔ یہ سب معلومات زونگ کا یہ ملازم ندیم صاحب یا انکے گروہ کو دے دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاکر MY ZONG کے ٹائٹل سے ایک پن کوڈ والا میسج بھی جس کو لوٹنا ہوتا ہے اس نمبر پر بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس میسج میں یہ واضح لکھا ہوتا ہے کہ اس پن کوڈ کا تعلق کسی انعامی اسکیم سے نہیں ہے(یقیناً اپنی پوزیشن محفوظ رکھنے کے لئے تاکہ شکایت کی صورت میں کہا جا سکے کہ دیکھیں ہم نے تو کہا ہے کہ یہ انعامی اسکیم کے لئے نہیں ہے)چونکہ یہ میسج انگلش میں ہوتا ہے اس لئے عام آدمی تو پڑھتا نہیں دوسرے میسج موصول ہوتے ہی ندیم صاحب کی کال آجاتی ہے تاکہ دوسراا یہ میسج تفصیل کے ساتھ نہ پڑھ سکے ، ساتھ ہی فون کو گھنٹوں کے حساب سے مصروف کردیا جاتا ہے تاکہ دوسرے کو میسج وغیرہ چیک نہ کرنے دیا جائے۔

کالم مکمل کرنے کے بعد آج ہفتہ 11 فروری کو میں نے دوسرے نمبر سے آواز بدل کر اسی نمبر پر دبارہ کال کی تو پوچھا کہ کون صاحب بات کررہے ہیں۔ جواب ملا، محمد ندیم سپر وائزر زونگ آفس بلیو ایریا، اسلام آباد۔ میں نے سوچا اس کی تصدیق بھی کر ہی لینی چاہئے تاکہ کالم ہر لحاظ سے مکمل ہو،میں پھر زونگ آفس جا پہنچا۔ ذیشان صاحب چھٹی پر تھے۔ رانا سعید صاحب ملے انہوں نے اپنے نمبرسے ندیم صاحب کو کال کی تو جواب میں یہی بتایا گیا۔ ندیم صاحب کو جب بتایا گیا کہ یہ کال بھی زونگ آفس ہی سے کی جارہی ہے تو وہ گھبرا گئے۔ ان سے کہا گیاکہ وجیہہ الحسن نامی ایک صاحب 7500 ٹیکس جمع کرانے آئے ہیں انکے انعام کا کیا کرنا ہے۔ جواب ملا یا تو آپ پاگل ہیں یا وجیہہ الحسن۔ دوستو واقعی وجیہہ الحسن پاگل ہے جو اس آس پر مسلسل ٹھگوں کو ووٹ دے رہا ہے کہ شائید! یہ کالم صرف اس نیت سے لکھا گیا ہے کہ اپنے سادہ لوح بہن بھائیوں کو ان لوگوں کے طریق کار سے آگاہ کرکے ان کو ایسے ٹھگوں سے بچایا جائے کیونکہ حکومت ہو،ادارے ہوں یا کوئی اور،ان پر کوئی بھی سخت ہاتھ ڈالنے پر سنجیدہ نہیں۔اگر کالم پڑھ کر پانچ دس لوگ بھی ان ٹھگوں سے بچ گئے تو یہ نیکی میرے کام آئے گی۔ یہی میرا انعام ہے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -