شخصیت پرستی ایسا رویہ ہے جسکے ذریعے آپ اپنی شخصیت کو بے وقعت اور حقیر قرار دیدیتے ہیں اور اپنی کامیابی کو دوسروں کیساتھ مشروط کر لیتے ہیں
مصنف:ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ:ریاض محمود انجم
قسط:117
دوسروں پر انحصار کرنے پر مبنی آپ کا رویہ اور طرزعمل اس وقت شدت اختیار کر لیتا ہے جب آپ شخصیت پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں آپ دوسروں کی طرف ایسے انداز میں دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص آپ کی اقدار متعین کر رہاہو یعنی اگر کوئی شخص ایک کام کر رہا ہے تو میں بھی یہی کام کروں گا۔ شخصیت پرستی ایک ایسی صورت اور رویہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنی شخصیت اور کردار کو بے وقعت اور حقیر قرار دے دیتے ہیں۔ آپ کے اس روئیے کے ذریعے آپ دوسروں کو خود سے اہم قرار دے دیتے ہیں اور آپ اپنی کامیابی اور ترقی کو دوسروں کے ساتھ مشروط کر لیتے ہیں۔ جب آپ اپنی ذات کو ناقابل پذیرائی سمجھتے ہوئے دوسروں کی ذات اور شخصیت کو قابل پذیرائی سمجھتے ہیں تو ا س سے بڑھ کر آپ کی ذات کی توہین ہو ہی نہیں سکتی۔ جب آپ دوسروں کے احکامات اور ہدایات کے مطابق اپنی مرضی اور خواہش ڈھال لیتے ہیں تو پھر آپ کا یہ رویہ اور طرزعمل آپ کی کمزوری اور خامی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
آپ کی تمام پسندیدہ ہستیاں انسان ہیں۔ یہ لوگ بھی وہی کام انجام دیتے ہیں جو آپ سرانجام دیتے ہیں، جس طرح آپ خارش میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بھی خارش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صبح سویرے ان کا سانس بھی ایسے ہی بدبودار ہوتا ہے جس طرح آپ کا سانس علی الصباح بدبودار ہوتا ہے۔
آپ کی زندگی میں موجود تمام مشہور افراد نے آپ کو کچھ نہیں سکھایا اور وہ کسی بھی طرح آپ سے بہتر نہیں ہیں۔ سیاستدان، اداکار، کھلاڑی، گلوکار، آپ کے افسر، ڈاکٹر، اساتذہ، شریک حیات اور ایسے دیگر لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں، اپنا کام مہارت کے ساتھ انجام دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے اور اگر پھر بھی آپ انہیں غیرمعمولی ذہین اور سمجھدار سمجھتے ہیں اور اپنے سے کہیں برتر گردانتے ہیں توپھر آپ اپنے جذبات و احساسات کی باگ ڈور دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔
اگر آپ ایک طرف ایک شخص پر الزام تراشی کرتے ہیں اور دوسری طرف شخصیت پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں توپھر اس دنیا میں آپ سے بڑ ھ کر کوئی احمق نہیں۔
الز ام ترا شی
ب ے و ق و ف شخصیت پرستی
اگر آپ اپنے احساسات و خیالات کے علاوہ اپنے روئیے و طرزعمل کے اظہار اور اپنانے کے ضمن میں دوسرے لوگوں کے احکامات اورہدایات کے منتظر رہتے ہیں تو پھر آپ بے وقوفانہ روئیے کا اظہا رکر رہے ہیں۔ اپنی ذات، شخصیت اور کردار کی اس خامی اور کمزوری کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلا اور ابتدائی قدم یہ ہے کہ آپ اپنے احساسات، خیالات اور اعمال کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا لیں۔ کسی دوسرے کو غیرمعمولی سمجھ دار اور ذہین سمجھنے کے بجائے خود کو عقلمند، ذہین اور فہیم گردانیے۔ جب آپ الزام تراشی پر مبنی رویہ اورطرزعمل ترک کر دیں گے اور شخصیت پرستی کے سحر سے آزاد ہو جائیں گے تو پھر آپ بیرونی محور کے حصار سے نکل کر اندرونی محو رکے حصار میں داخل ہو جائیں گے اور پھر اندرونی محور کے حصار کے اندر ”کاش، اگر، مگر اور چاہیے“ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔