پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 11

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی ...
پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 11

  

میرے خیال میں جون1978 ء کا آخری ہفتہ تھا کہ بیگم بھٹو ملاقات کیلئے تشریف لائیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے ان کے بیگ کو پولیس کار سے ہی لے لیا اور کارکے بونٹ پر رکھ کربیگ کو کھول کر دیکھنا چاہا۔ بیگم صاحبہ نے غصّے میں انہیں برا بھلاکہتے ہوئے بیگ فوراً ان سے لے لیا۔ یار محمد صاحب نے بڑے نرم اور خوش اخلاقی کے لہجے میں ان سے کہا’’ بیگم صاحبہ حکومت نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کی ملاقات سے پہلے اور بعد آپ کے سامان کی تلاشی لی جائے‘‘

بیگم بھٹو نے کافی اونچی آواز میں ان سے کہا’’ تم کون ہوتے ہو میرے بیگ کی تلاشی لینے والے‘‘

جیل سپرنٹنڈنٹ نے پھر ان سے مؤد بانہ انداز میں کہا ’’ تلاشی کا حکم ہے۔ اس کے بغیر آب اندر نہیں جا سکیں گی‘‘ مگر بیگم صاحبہ نے تلاشی دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ ‘ میں ا ور اسپیشل پولیس انسپکٹر سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں چلے گئے حالانکہ حکم قطعی‘ صاف اور بالکل واضح حکم مل چکا تھا لیکن پھر بھی ہم نے حکّام بالا کو اس صارتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دوبارہ حکم دیا کہ اگر بیگم بھٹو اپنے سامان کی تلاشی نہ دینے پر بضد ہیں تو وہ بھٹو صاحب سے نہیں ملیں گی۔ ان کوواپس کراچی بھیج دیا جائے ۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جو بیگم بھٹو کو کراچی سے اپنے ساتھ لایا تھا‘ ایس ایس پی راولپنڈی سے ٹیلیفون پر بات کی کہ بیگم بھٹو کی ملاقات نہیں ہو رہی اور کراچی واپسی کی فلائٹ میں ابھی کافی وقت ہے‘ انہیں کہاں لے جایا جائے؟ ان کو بتایا گیاکہ وہ نصرت بھٹوکو راول جھیل کے ریسٹ ہاؤس لے جائیں اور پی آئی اے کی فلائٹ ملنے تک کا وقت وہاں گزاریں۔

اس کے بعد چودھری یار محمد نے بیگم بھٹو کو بتایا کہ حکومت نے ان کی ملاقات کی اجازت نہیں دی اور وہ واپس جا سکتی ہیں۔ بیگم بھٹو اور بھی غصّے میں آ گئیں اور انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو کافی برا بھلا کہا۔ چونکہ سپرنٹنڈنٹ کیلئے ان کے ماتحتوں کے سامنے سخت الفاظ کہے گئے تھے اسلئے وہ بھی کچھ غصّے میں آگئے۔ ان سے کہا کہ وہ جیل سے واپس چلی جائیں۔ اس پر بیگم بھٹو اور طیش میں آگئیں اور انہوں نے ان سے کہا کہ تمہیں اس کا بدلہ ضرور ملے گا اور اسی اثنا میں ان کی گاڑی ڈیوڑھی سے باہر لے جائی جا رہی تھی کہ بیگم بھٹو نے کہا’’ بلڈی کُتّا‘ ڈیم‘ سوائن‘ ایڈیٹ وغیرہ وغیرہ‘‘

"Blody Dog, Damn, Swine, Idiot, Etc etc"

ادھربھٹو صاحب اپنے سیل میں انتظار کرتے رہے اور ایک دو دفعہ انہوں نے پوچھا کہ ان کی بیگم صاحبہ کیوں نہیں آئیں مگر انہیں کچھ نہ بتایا گیا۔ انہیں بعد میں معلوم ہوا جس پر انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کواندر سیل میں بلایا اور ان پر بہت برہم ہوئے۔ انہوں نے یار محمدصاحب کو بتایا کہ ان کی بیگم کے ساتھ اس قسم کا سلوک کرنے کی کسی کو جرأت نہیں ہو سکتی اور اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے اسے کہا کہ ہزاروں جان فروش ایسے ہیں جوکسی بھی بھٹو کے ایک اشارے پر مر مٹنے کیلئے تیار ہیں۔ یارمحمدکافی دن خاموش اور متفکّر رہے۔

اس واقعی کے کافی دنوں بعد بھٹو صاحب نے مجھ سے بھی اس کا ذکر کیا تھا اورآخر کار بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ نے معمول کے مطابق سارا الزام بیچارے کرنل کے سر تھوپ دیا تھا کہ اسے کرنل نے تمام احکامات دیئے تھے۔ میں نے اس موقع پر انہیں سارا قصّہ صحیح صحیح بتادیا تھا۔ جس پر انہوں نے اپنی قدر دانی کااظہار کیالیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا’’رفیع‘ آ پ کے جرنیل کتنی حقیر‘ ذلیل اور کمینی حرکتوں پر اتر آئے ہیں‘‘۔

بھٹو صاحب کے ساتھ میری پہلی ملاقات۔ بھٹو صاحب کے راولپنڈی منتقل ہوتے ہی مجھے ان سے ملنے کااشتیاق پیدا ہوا‘ لیکن چند وجوہات کہ بنا پران سے باقاعدہ ملاقات کو چند ہفتے لگے۔ ویسے تو میں سیکیورٹی وارڈ پہلے دن یعنی18مئی1978 ء کو بھی گیا تھا لیکن ان سے ملنے کی ہمت نہ ہوئی۔ پر جیسا کہ پہلے بیان کر چکا ہوں19 مئی کو وارڈ کے اندرگیا‘ ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا مگر ان سے ملنے کی جرأت نہ پا لی اورخاموشی سے باہر آگیا۔ اپنے فرائض کے سلسلے میں مئی کے دوسرے ہفتے سے ہی پنڈی جیل میں جانا میرا روز مرّہ کا معمول بن گیا تھا بلکہ کبھی کبھار دو تین مرتبہ بھی جانا پڑتا تھا۔ بھٹو صاحب کے آ جانے کے بعدتو دن کا زیادہ وقت میں یا تو جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں یا جیل کے شمالی احا طے میں‘ جہاں میری بٹالین مع دفاتر منتقل ہو چکی تھی‘ گزارتا تھا۔ سیکیورٹی وارڈ میں چکر لگانا اور ڈیوٹی افسر اور دوسری گارڈوں کو دیکھنابھی میرا معمول بن چکا تھا۔ میں عموماّ عام قسم کے بش شرٹ اور پتلون میں ملبوس رہا کرتا تھا( میں نے چند جوڑے کپڑوں کے ڈ یوٹی افسر کے کمروں میں ہی لٹکا رکھے تھے تا کہ موقع محل کے مطابق فوراً لباس تبدیل کر سکوں)تا کہ بھٹو صاحب سے ملنے والے وکلاء اور ان کے رشتہ دار مجھے جیل کا ایک ماتحت افسر ہی سمجھیں‘ لیکن وکلاء تو جلد ہی پہنچاننے لگ گئے۔ البتہ بیگم بھٹو صاحبہ اور مس بے نظیر صاحبہ نے مجھے پہچاننے میں کافی وقت لیا۔

پہلے چند ہفتوں کے دوران جب تک میں بھٹو صاحب سے نہ ملا تھا اور مارشل لاء اتھارٹی کے احکام کا بڑی سختی سے اطلاق کیا جا رہا تھا اور شاید جب بھی بھٹو صاحب نے اعتراض کیا تو جیل کے حکام نے تمام الزام کرنل انچارج کے سر تھوپ دیا۔ بھٹو صاحب‘ ان کے فیملی ممبر یا ان کے وکلاء نے ظاہر ہے کرنل انچارج کو ہی تمام سختیوں کا ذمہ دار ٹھرایا۔ ادھر میں بھٹو صاحب سے ملاقات کا موقع ڈھونڈ رہا تھا۔ میں ان سے سیل کے اندر ملنے کے بجائے باہر کورٹ یارڈ میں ملنا چاہتا تھا تا کہ کھل کر بات چیت کر سکوں ۔

بھٹو صاحب کو پھانسی کے سزا یافتہ مجرموں کی طرح آدھ گھنٹہ صبح اور آدھ گھنٹہ شام سیل سے باہر نہلائی کی اجازت تھی۔ وہ صبح بہت دیر سے اٹھتے تھے اور جون جولائی میں صبح دس بجے کے بعد باہر کافی گرمی ہو جاتی تھی۔ اسلئے وہ صبح کی نہلائی نہیں کیا کرتے تھے اور صرف شام کو ہی باہر کورٹ یارڈ میں نکل کر بیٹھتے اور چائے وغیرہ نوش کیا کرتے۔

ایک شام‘ شاید جون کا پہلا یا دوسراہفتہ تھا جب میں نے یقین کر لیا کہ بھٹو صاحب باہر اکیلے بیٹھے ہیں تو میں نے جا کر ان سے ملنے کا ارادہ کیا۔ میں اس دن وردی پہن کر اور قمیض پر اپنے نام کی پلیٹ لگا کر آیا تھا۔ میں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو‘ جو اس وقت ڈیوٹی پر تھا‘ بلایا اور کہا کہ میں سیکیورٹی وارڈچیک کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے باہر کانٹے دار تاروں والے جنگلے کے گیٹ کا تالا کھولاپھر سیکیورٹی وارڈکے کورٹ یارڈ کا تالا کھولا اور چونکہ بھٹو صاحب باہر ہی بیٹھے تھے ڈپٹی کو وہیں چھوڑکر اندرچلا گیا۔

دروازے کے پردے کی دیوار کے پیچھے بھٹو صاحب ایک عام کرسی پر بیٹھے تھے وہ مجھے اچانک دیکھ کر اچنبھے میں پڑ گئے۔ میں ان سے تین یا چار گز کے فاصلے پر تھا اور ان کے چہرے کے تاثرات تک دیکھ سکتا تھا۔ جونہی انہوں نے مجھے دیکھا ان کے چہرے پر کچھ لالی نمودار ہوئی اور کچھ غصّے کے آثار نظر آئے‘ حتیٰ کہ ان کی آنکھوں کے نیچے اور گالوں کے اوپروالا چمڑہ چند مرتبہ پھڑکا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے مصیبت مول لے لی ہے۔ بہرحال میں نے ان کے سامنے ہوتے ہی فوجی طریقہ سے با ادب سلام کیا۔ فوراً ان کے چہرے سے ان کی طبیعت کا کچھ ہلکا پن محسوس ہوا لیکن وہ پھر بھی متعجب تھے۔ انہوں نے دایاں ہاتھ بڑھاتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہنے لگے آ پ بیٹھنا پسند کریں گے۔ انہوں نے مشقّتی کوآواز دی کہ کرسی لاؤ( بھٹو صاحب کو ایک قیدی ان کی خدمت کیلئے دے دیا گیا تھا) میں بھٹو صاحب کے نزدیک کرسی پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے چپکے سے گزرے۔ پھر انہوں نے خاموشی توڑتے ہوئے فرمایا۔ ’’ کرنل رفیع ( میرا نام میری وردی پر چسپاں تھا) آپ نے یہاں آنے کی تکلیف کیسے گواراکی؟ ‘‘

میں نے جواب میں کہا ’’ جناب میں بہت پہلے آنا چاہتا تھا لیکن کسی نہ کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکا۔ اب میں صرف آپ کو سلام کرنے آیا ہوں‘‘

انہوں نے جواب میں کہا ’’ آ پ جس وقت چاہیں بڑے شوق سے آئیں‘‘ اس پرمیں نے ان کا دلی شکریہ اداکیا۔ اس پہلی ملاقات میں ہم دونوں کچھ لئے دئیے( Reserved State ) سے رہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں چائے یا کافی پسند کروں گا۔ میں نے انہیں جواب میں کہا ’’ جناب میری کوئی خاص ترجیح نہیں آپ جو پسند کریں میں بھی وہی پی لوں گا‘‘

چونکہ میرے آنے سے پیشتر انہوں نے مشقّتی کو چائے کیلئے کہا تھا اس لئے انہوں نے اسے آواز دی کہ میرے لئے بھی چائے لائے۔ ہم نے چائے تقریباً خاموشی سے نوش کی۔ میں نے جان بوجھ کر ان سے کسی خدمت کا نہ پوچھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ اگر انہوں نے کسی کام کیلئے کہہ دیا اور وہ میراے اختیار میں نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا۔ ایک زیرک اور عقلمند انسان ہونے کی وجہ سے بھٹو صاحب نے بھی اس قصّے کو چھیڑا تک نہیں۔

چائے کے بعد اجازت لینے سے پہلے میں نے ان سے کہا کہ شاید آپ کو مجھ سے کچھ شکایات ہوں گی لیکن انہوں نے فوراًکہا کہ نہیں کوئی خاص نہیں ہے۔ میں نے ان سے جانے کیلئے اجازت چاہی اور اٹھ کی ان کو فوجی طریقے سے سلام کیا۔ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور کہنے لگے ’’ کرنل رفیع کبھی کبھارضرور چکر لگا لیا کرو‘‘

میں نے جواب میں کہا ’’جناب میں ضرور حاضر ہوتا رہوں گا ‘‘اور پھر سیکیورٹی وارڈ سے باہر آ گیا۔

مجھے بھٹو صاحب سے ملاقات کے متعلق کوئی خاص ہدایات نہ تھیں۔ شروع شروع میں جب بھی ایس ایم ایل اے ‘نے مجھ سے ان کے متعلق پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں سیکیورٹی وارڈ جا کر اس سے کبھی نہیں ملا اور صرف جیل حکام کے’’ سب اچھا ‘‘ کی رپورٹ پر آپ کو اسی قسم کی رپورٹ دے دیتا ہوں۔ ایک دن ان کے اس طرح کے سوال پرمیں نے ان سے کہہ دیا’’ جناب صاف بات تو یہ ہے کہ مجھے یہ یقین نہیں ہے کہ آیا بھٹو صاحب بنفس نفیس جیل میں حاضر ہیں یا نہیں جیل حکّام کی ’’ سب اچھا ‘‘ سب اچھا رپورٹ پر میں بھی آ پ کو ہر روز" All ok " رپورٹ دیتا ہوں‘‘۔

اس دن مجھے ایس ایم ایل اے نے کہا’’ تمہیں کبھی کبھار اندر جا کر انہیں ضرور دیکھ لینا چاہیے‘‘ اس دن کے بعد‘ چونکہ مجھے ایک دستخط شدہ چیک مل گیا تھا‘ میں نے سیکیورٹی وارڈ جا کر بھٹو صاحب سے ملنا شروع کر دیا اور اجازت نامے کو خوب استعمال کیا۔

میرے بھٹو صاحب سے ملنے پر جیل حکام یہی سمجھتے رہے کہ مجھے مارشل لاء حکام کی طرف سے ان سے ملنے یا کوئی خاص بات چیت کا حکم ہو گا۔(جاری ہے)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 12 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپوزر: طارق عباس

مزید :

کتابیں -بھٹو کے آخری دن -