پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 12

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی ...
پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 12

  

میری بعد کی ملاقاتیں۔ میری شروع شروع کی ملاقاتوں کے دوران بھٹو صاحب کافی محتاط رہا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ میں شاید جنرل ضیاء الحق صاحب کا خاص آدمی ہوں اور ان کی ہر بات جنرل صاحب تک پہنچاتا ہوں گا لیکن میں نے ان کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ میرے جنرل صاحب کے ساتھ ایسے کوئی تعلقات نہیں۔ بہرحال ان کو کافی دیر تک یہ شک ضرور رہا ہو گا جب تک کہ ہم آپس میں بہت بے تکلف نہ ہو گئے۔ 

میں جب بھی سیکیورٹی وارڈ میں بھٹو صاحب سے ملنے گیا تو ان کی بہت تعظیم کی۔ اگر میں وردی میں ہوتا‘ جو بہت کم موقعوں پر پہنا کرتا‘ تو ان کو فوجی طریقے سے سلا م کرتا۔ پرائیویٹ لباس میں یا شام کو کھیلوں کی حالت میں ہوتا تو بھی مروّجہ طور طریقے کے مطابق ان کو سلام کرتا۔ بعد میں جب ہم بے تکلف ہو گئے تو بھی میں نے اس سے کبھی مذاق یا عام لہجے میں کبھی بات چیت نہیں کی۔ میں آخر دن تک ان کی بے حد عزت و احترام کرتا رہا کیونکہ ان کی شخصیت نے مجھ پربیحد اثر ڈالا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حقیقت یہ ہے کہ میرا ان کے ساتھ عام برتاؤ ان کے ساتھ ایسا تھا کہ جیسا کہ وہ ملک کے وزیراعظم ہوں اور میں ایک فوجی افسر۔ ان کی شخصیت ایسی پُر کشش تھی کہ ہر شخص ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ کچھ مدت تک تو ان کا احترام و عزت کرنے کہ وجوہات صرف یہ تھیں جو بیان کر چکا ہوں لیکن ان کی اسیری کے آخری دنوں میں جب مجھ پر ایسی باتیں کھلیں جو سراسر نا انصافی پر مبنی تھیں تو مجھے سخت دھچکا لگا اور میرا ضمیر بے حد متا ثر ہوا۔ ان حالات کو میں اس کتاب میں موزوں جگہ پر بیان کروں گا۔

تمام حقیقتوں کے باوجودایک سپا ہی کا فرض دوسری ہر چیز پر مقدم رہا۔ یہی وجہ تھی کہ میرے فرائض کے ساتھ ساتھ میرا برتاؤ بے حد دوستانہ رہا۔

اگر کبھی میں نے صبح کے وقت ان کے سیل کا معائنہ کیا تو عموماً بات چیت سلام دعا تک ہی محدود رہتی تھی۔ ان کا رویہّ یا بات چیت بھی رسمی ہوا کرتی تھی اور اگر وہ حکام کو کچھ بتانا چاہتے تو مجھ سے سخت کلامی بھی کرتے لیکن ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی رہتی یا وہ ایک آنکھ دبا دیا کرتے تھے خفیہ آلات ہر لفظ کو اچھی طرح سن سکیں اور ریکارڈ ہو سکے۔

شام کو جب میں ان کے سیل میں جاتا تو وہ کہا کرتے کہ یہاں بہت گھٹن ہے باہر صحن میں بیٹھتے ہیں اور ہم باہر کھل کا بات چیت کیا کرتے۔ اور جب میں رات کو نو یا دس بجے کے بعد سیکیورٹی وارڈ میں جاتا جبکہ لوگ اپنی دوکان بند کر چکے ہوتے ہم کئی کئی گھنٹے گپ شپ میں گزارتے۔ ایسی حا لت میں جب کبھی میں نے اپنی گھڑی کو دیکھا تو وہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ کرنل رفیع میں تمھاری ذمہ داری میں ہوں۔جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں تمہیں وقت کا کوئی خیال یاجلدی نہیں ہونی چاہیے۔

رات گئے جب بھی میں ان کے سیل میں جایا کرتا تو وہ کافی خو شی محسوس کیا کرتے۔ ایسی ملاقاتوں میں بھٹو صاحب خوب بولا کرتے تھے۔ چونکہ جیل میں ان کے وکلاے محدود وقت کیلئے آتے اور وہ بھی کیس کے متعلق بات چیت کرتے۔ بھٹو بیگمات ہفتہ میں صرف ایک بار چکر لگا سکتی تھیں اور اتنی خانگی باتیں ہوتی ہوں گی جو ختم ہی نہ کر سکتے ہوں۔ اسی طرح جیل کے حکام صرف ایک آدھ منٹ کیلئے اندر جا سکتے تھے اور وہ بھی سیل میں بات چیت کرتے۔ 

دراصل میرے علاوہ بھٹو صاحب کے ساتھ اندر یا باہر کوئی جیل والا بیٹھ کر بات کرنے کی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ جیل کانیچے والا سٹاف یعنی وارڈرز وغیرہ تو بیچارے ان پڑھ اور کسی قسم کی بات چیت کرنے کے قابل ہی نہ تھے۔ اس لئے جب کبھی میں ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو وہ خوب باتیں کیا کرتے تھے۔ عموماً اس دن کی خبریں جو اخبار میں چھپتیں یا حالاتِ حا ضرہ پر وہ بھر پور تبصرہ اور حکومت کی پالیسیوں پت نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔ میری اور ان کی بیٹھک عموماً یک طرفہ ہوا کرتی تھی۔ سارا وقت وہی بولتے رہتے تھے اور میں بیٹھا غور سے سنتا رہتا تھا۔ بحث میں میرا حصّہ’’ ہاں جناب‘‘ ’’نہیں جناب‘‘ ’’میں کچھ کہہ نہیں سکتا جناب‘‘ وغیرہ وغیرہ ہوا کرتا تھا۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آگ تک ان جیسا تیز فہم‘ زیرک ور ذہین شخص نہیں دیکھا۔ وہ میرے ساتھ یکطرفہ بحث شروع کرتے۔ میں ہاں جناب‘ نہیں جناب‘ سے جواب دیتا رہتا لیکن پھر بھی مجھے اپنے ساتھ چلا کر اچانک سوال کر دیتے اور اگر میں کہتا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتا تو وہ فوراً موضوع بدل دیتے اور دوسرے امور کو زیرِ بحث لے آتے اور پھر اچانک اسی نکتے کو اس طرح واپس لے آتے کہ میں لاجواب سا ہو کر رہ جاتا۔

کبھی کبھار وہ مجھے بحث مباحثہ میں جوش دلاتے۔ اشتعال دلاتے۔ بھڑکا دیتے یا جان بوجھ کر غلط بیانی کرتے اور اگر پھر بھی میں خاموش رہتا تو مذاقاً مجھے کہا کرتے کہ رفیع صاحب اتنا بھی لاعلم اپنے آپ کو ظاہر نہ کریں۔ بہرحال ان کی باتیں سننے میں بڑا مزہ آتا اور مجھ پر بہت سے راز کھلتے رہے۔ 

جب کبھی بھٹو ہلکے پھلکے موڈ میں ہوتے تو اپنے جنسی تجربات پر بھی کچھ نہ کچھ کہہ جاتے۔ شروع شروع کے دنوں میں ان کے ایسے ریمارکس کچھ عجیب سے لگے اور میں سمجھتا تھا کہ شاید مجھے وہ عام فوجی سمجھ کر اپنے اعتماد میں لینا چاہتے ہیں یا اس فوجی کمزور کو مہمیز( Exploit ) کرنا چا ہتے ہیں۔ لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ یہ جیل میں مایوسی وغیرہ کا ا ثر ہے۔ ایسے لمحات میں انہوں نے کئی پردہ نشینوں کا بھی ذکر کیا لیکن میں اس کتاب میں ان باتوں کو کوئی جگہ نہیں دے رہا۔

ہماری ملاقاتوں کے دوران بھٹو صاحب نے ملکی اور غیر ملکی حالات پر بھی روشنی ڈالی۔ بہت سی ملکی اور عالمی شخصیات بھی زیرِ بحث لائے۔ ان موضوعات پر میں اس کتاب میں ’’ بھٹو صاحب کی باتیں‘‘ والے باب میں اظہارِ خیال کروں گا۔ سوائے دو تین باتوں کے جن کا صیغۂ راز میں رہنا ہی قومی و ملکی مفاد میں ہے۔

مسوڑھوں اور دانتوں کی تکلیف۔ راولپنڈی جیل میں اسیری کے دوران بھٹو صاحب کے مسوڑھے اور دانت اکثر ان کو تکلیف دیتے رہے۔ کبھی کبھاران کے مسوڑھے بہت زیادہ سوج جاتے اور ان سے خون رسنے لگتا۔ وہ ہر روز چند مرتبہ لسٹریں( Listrine ) سے اپنے منہ کے گارگل( Gargle ) کیا کرتے تھے۔ اس مقصد کیلئے لسٹرین کی بوتلوں کا اچھا خاصا ذخیرہ ان کے پاس ہر وقت موجود رہتا تھا۔ اگست1978ء میں تکلیف زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے انہوں نے کسی ڈینٹل سرجن کو بلوانے کیلئے کہا۔ ان دنوں وہ کھانا تک نہ کھا سکتے تھے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے بھی مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب کے مسوڑھوں اور دانتوں میں سخت تکلیف ہے اور وہ کھانا کھانے سے بھی قاصر ہیں۔ میں نے ایس ایم ایل اے کو حالات سے آگاہ کیا۔ ( بریگیڈیئر خواجہ راحت لطیف صاحب نے اگست1978ء کے پہلے ہفتہ میں بریگیڈیئر ایم ممتاز ملک صاحب سے چارج لے لیا تھا اور وہ آخیر تک ان فرائض کو سرانجام دیتے رہے) بریگیڈیئر خواجہ راحت لطیف ( بعد میجر جنرل) نے جی ایچ کیو میں سرجن جنرل سے کہا کہ سی ایم ایچ سے کسی اچھے ڈینٹل سرجن کو پنڈی جیل میں بھٹو صاحب کے علاج کیلئے بھیجیں۔ اس پر میجر محمد حنیف خٹک کوراولپنڈی جیل بھیجا گیا۔ وہ ایک بہت ہی قابل ڈینٹل سرجن تھے۔ وہ26 اگست1978ء کی صبح پنڈی جیل میں آئے اور کوئی آدھ گھنٹہ بھٹو صاحب کے سیل میں رہے اور ان کا علاج کیا۔ بھٹو صاحب کو ان کے علاج سے فوراً صحت یابی ہوئی۔ میجر حنیف خٹک نے علاج کے بعد مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب سخت جنجی وائٹس ( Acute Gingivitis ) میں مبتلا ہیں اور انہیں مزید علاج کی ضرورت ہے۔ چند دنوں بعد بھٹوصاحب نے مجھے میجر محمد حنیف خٹک کیلئے پھر کہا لیکن حکام نے ان کو دوبارہ بھٹو صاحب کے علاج کیلئے اجازت نہ دی اور مجھے بتایا کہ آئندہ کوئی فوجی ڈاکٹر بھٹو صاحب کے علاج کیلئے نہیں بلایا جائے گا۔ 

ادھر بھٹو صاحب نے باربار میجر محمد حنیف خٹک کیلئے کہا۔ میرے دوبارہ کہنے پر مجھے بتایا گیا کہ بھٹو صاحب کو بتا دیا جائے کہ وہ ڈینٹل سرجن پنڈی سے تبدیل ہو گیا ہے۔ حالانکہ میجر محمد حنیف خٹک بعد میں لیفٹیننٹ کرنل ہوئے اور اس وقت سے راولپنڈی ملٹری ہسپتال میں ہی کام کرتے رہے اور دل کے بائی پاس کی وجہ سے انگلینڈ میں جون1990ء میں انتقال کر گئے۔(جاری ہے )

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپوزر: طارق عباس

مزید :

کتابیں -بھٹو کے آخری دن -