الاخوان المسلمون ابتلاءسے اقتدار تک (1)

الاخوان المسلمون ابتلاءسے اقتدار تک (1)

  

انیسویں صدی کے آغاز سے ہی امت مسلمہ انتہائی زیادہ مایوسی اور خلفشار کا شکار ہو گئی۔ دوسری دہائی میں ترکی کے لیڈر مصطفیٰ کمال نے عثمانی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 1924ءمیں جب خلافت کی اس آخری بچی کھچی تصویر کو مسخ کر دیا گیا تو1928ءمیں حسن البناءشہید رحمتہ اللہ علیہ نے الاخوان المسلون کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اس تنظیم کے قیام کا مقصد نفاذ اسلام قرار دیا۔ حسن البناءشہید نے اپنی پارٹی کا منشور پیش کرتے ہوئے فرمایا: ”اکثر لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا الاخوان المسلون اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے قوت اور طاقت کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور وہ مصر کے موجودہ سیاسی اور اجتماعی نظام کو بدلنے کے لئے طاقت کے ذریعے انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم طاقت کے ذریعے انقلاب پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ ہم طاقت کے ذریعے انقلاب کے بجائے حق اور سلامتی کی بات کرتے ہیں“۔

امت مسلمہ عموماً اور عالم عرب کو خصوصاً اس وقت مایوسی کے عالم میں، یہ تنظیم آخری سہارا محسوس ہوئی، لہذا دیکھتے ہی دیکھتے الاخوان المسلمون مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ عالم عرب کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے جب1948ءمیں اسرائیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا تو اس وقت حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے الاخوان المسلمون نے تحریک جہاد کا اعلان کر دیا۔ قبلہ اول فلسطین کے تحفظ کے لئے اخوان کے نوجوانوں نے تحریک جہاد میں بھرپور حصہ لیا۔ استعماری طاقتوں کے ایماءپر اس وقت کے مصری حکمران شاہ فاروق نے اخوان المسلمون کے نوجوانوں کو جہاد میں حصے لینے کے جرم کی پاداش میں جھوٹے مقدمات بنا کر جیل میں ڈال دیا۔ الاخوان المسلمون کے محبوب لیڈر حسن البناءکو 1949ءمیں اسی جرم کی وجہ سے شہید کروادیا گیا۔

1951ءمیں جنرل نجیب نے شاہ فاروق کا تختہ الٹ دیا اور مارشل لاءنافذ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل نجیب الاخوان المسلمون کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ اس نے گرفتار اور قید میں ڈالے گئے اخوان نوجوانوں کی رہائی کا حکم صادر فرما دیا۔ جنرل نجیب کا اقتدار صرف تین سال قائم رہ سکا۔ 1954ءمیں جمال عبدالناصر نے انقلاب برپا کر کے اقتدار سنبھال لیا۔

الاخوان المسلمون کا دور ابتلائ: جمال عبدالناصر نے اقتدار سنبھالتے ہی الاخوان المسلمون کے نئے لیڈر حسن الہضیبی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپنے قتل کی سازش کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا اور انہیں قید میں ڈلوا دیا۔ جمال عبدالناصر نے الاخوان المسلمون پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ جن کی مصرکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس سفاک فوجی حکمران نے نوجوانوں کو بازوﺅں اور ٹانگوں سے مخالف سمت میں گاڑیوں سے باندھ کر سرعام ٹکڑے ٹکڑے کیا تاکہ الاخوان المسلمون کی باقیادت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔اس نے عورتوں اور مردوں کو سرعام ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہونے پر مجبور کیا۔ اسی ظالم حکمران نے عالم اسلام کے عظیم مفکر اور مفسر قرآن سید قطب شہید جیسے گوہر نایاب کو محض الاخوان المسلمون سے ہمدردی کی وجہ سے ایک جھوٹے مقدمے میں اپنی ہی بنائی ہوئی عدالتوں سے سزا دلوا کر1966ءمیں تختہ دار پر لٹکادیا۔ اس دور میں بڑے بڑے ممتاز دانشور اور علمائے دین کو شہید کیا گیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ الاخوان المسلمون کے نفاذ اسلام کے اقدامات کو اچھا سمجھتے تھے اور ان کے معاون تھے۔

جمال عبدالناصر کے بعد1974ءمیں انور سادات نے اقتدار سنبھالا، مگر الاخوان المسلمون پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم میں کوئی کمی نہ آئی۔ 1979ءمیں انور سادات کو قتل کر دیا گیا اور حسنی مبارک نے زمام اقتدار سنبھال کی۔ حسنی مبارک کے دور میں بھی الاخوان المسلمون اسی طرح زیر عتاب رہی، حتیٰ کہ نو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی بھی حسنی مبارک کے دور میں سات ماہ تک قید بھگت چکے ہیں۔ گویا 1949ءسے لے کر 2010ءتک نصف صدی سے زائد عرصے تک الاخوان المسلمون ڈکٹیٹروں کے ظلم وستم کی چکی میں پستے رہے۔ آنے والے ہر حکمران نے اپنا پورا زور لگادیا کہ اسلام کے ان نام لیواﺅں کو نابود کر دیا جائے، مگر ان کی مکارےاں اور چالیں اللہ تعالیٰ کی تدبیروں کے سامنے دم توڑ گئیں۔ انقلاب کا لاوا آہستہ پکتے پکتے مصر کے التحریر چوک مےں ابل پڑا، جس کے نتیجے میں 30 سال تک اقتدار کے سیاہ و سفید پر قابض رہنے والے حسنی مبارک کے اقتدار کی بساط لپیٹ دی گئی۔

انقلاب کا پس منظر حقائق اور سچائی: حقائق اور سچائی کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ الاخوان المسلمون کے شہیدوں کے لہو میں حق اور سچائی تھی، جس کی خوشبو دور دور تک محسوس کی جا رہی تھی۔ اخوان المسلمون کے قیدیوں نے مسلسل جیلوں میں رب سے جو مسلسل دعائیں مانگی تھیں آخر کار وہ ثمر آور ہوئےں۔ دوسری طرف کچھ زمےنی حقائق اےسے بھی تھے جو انقلاب کی راہ ہموار کر رہے تھے۔ فوجی ڈکٹےٹروں کے رشتے داروں اور تعلق داروں نے جی بھر کے ملک کو لوٹا اور ذاتی خزانوں کے پےٹ بھرتے رہے۔ صرف ایک حسنی مبارک کے سات سو ارب ڈالر سے زیادہ مغربی بنکوں میں جمع تھے۔ ٹنوں کے حساب سے سونا ان کی تجوریوں میں بھرا ہوا تھا۔

دریائے نیل اور نہر سویز کے باعث مصر کی زمینیں سونا اگلتی ہیں۔ دیگر مصری تفریحی گاہیں، عجائبات، بطور خاص اہرام مصر کے باعث سالانہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ مصر کو حاصل ہوتا ہے، مگر افسوس کہ یہ ساری دولت ڈکٹیٹروں اور ان کے اپنوں کی تجوریوں کی زینت ہی بنتی رہی۔ عوام دو وقت کی روٹی اور بنیادی انسانی ضرورتوں سے بھی محروم ہو گئے۔ بے روز گاری اپنی انتہاﺅں کو پہنچ گئی،جس کے نتیجے میں عوام کے دلوں میںحکمرانوں کے خلاف نفرت کی فصل پروان چڑھتی رہی۔ حکمرانوں کے ستائے ہوئے عوام کو الاخوان المسلمون کی حمایت میں ہی روشنی کی کرن نظر آرہی تھی، لہذا جب انتخابات کا وقت آیا تو ڈاکٹر محمد مرسی سوا کروڑ سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

مصر کے حالیہ انتخابات اور الاخوان المسلمون کی مشکلات: مصر کے آزادی چوک میں لاکھوں انسانوں کے اجتماع کے تسلسل نے جب حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تو فوج اور عدالتوں نے بھرپور کوشش کی کہ اسلام پسند قوتیں کہیں آگے نہ آجائیں۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا۔ استعماری طاقتوں نے بھی بھرپور کوشش کی ۔ کیونکہ حسنی مبارک اور اس کے پیش رو حکمران اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے، لہذا مغربی قوتوں ، خصوصاً اسرائیل کو کبھی بھی یہ گوارا نہ تھا کہ حسنی مبارک کے ہم نواﺅں کے علاوہ کوئی برسر اقتدار آئے۔ حکومتی مشینری کی بھرپور کوشش تھی کہ انتخابات کا مرحلہ ہی نہ آئے اور فوج دوبارہ زمام حکومت سنبھال لے، مگر عوامی جوش و جذبے کے سامنے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے آخری لمحات تک بھی اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کی کہ انتخابات سے صرف ڈیڑھ دن پہلے 14 جون کی سہ پہر کو منتخب اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دےا گےا تاکہ بچھڑے ہوئے عوام کا رخ انتخابات سے اس طرف ہو جائے۔ پھر انتخابات کے لئے جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، انہیں مختلف قسم کے اعتراضات لگا کر مسترد کیا جاتا رہا۔ آخر کار ڈاکٹر محمد مرسی، جنہوں نے متبادل امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے، کے کاغذات قبول کئے گئے، جس کے نتیجے میں الاخوان المسلمون کے اس رہنما کو صدارتی امیدوار تسلیم کر لیا گیا۔

صدارت کے بعد محمد مرسی کے ابتدائی اقدامات پر ایک نظر : ڈاکٹر محمد مرسی کا تعلق مصر کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ آپ نے 1975ءمیں قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ۔ بعد ازاں امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ،یوں محمد مرسی ڈاکٹر محمد مرسی بن گئے۔ اس کے بعد کیلیفورنیا یونیورسٹی اور پھر قاہرہ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ حالیہ مصری انتخابات میں نمایاں کامیابی کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنا جو پہلا خطبہ صدارت پیش کیا، وہ وہی خطبہ تھا جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تھا: ”لوگو مجھے تمہارا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ لوگو! میں اللہ کی اطاعت کروں تو میری بات مانو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو ہرگز میری اطاعت نہ کرو“۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر فرمایا: ”میرے عزیز ہم وطنو !میں تمہارے معاملے میں اور اپنے وطن کے معاملے میں اللہ رب العزت سے کبھی خیانت نہیں کروں گا“۔ (جاری ہے)  ٭

مزید :

کالم -