زندگی، آخر کہاں چہرے پرانے لے گئی؟

زندگی، آخر کہاں چہرے پرانے لے گئی؟
 زندگی، آخر کہاں چہرے پرانے لے گئی؟

  

مَیں اپنے اس کالم کے ذریعے دُنیا سے منہ موڑ جانے والے اہلِ قلم کے لواحقین کو پرسہ دیتا رہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جانے والوں کا بھی یہ آخری ’’پروٹوکول‘‘ ہوتا ہے، جو ہم پر بہر حال واجب ہے۔ گزشتہ کسی کالم میں اِسی سال جنوری سے جون تک کے مہینوں میں رخصت ہو جانے والوں کا ذکرِ خیر کیا تھا کہ 22 جولائی 2017ء کو یار طرحدار شاعرِ با کمال حسن اکبر کمال نے بھی رخت سفر باندھا اور دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھارے۔ حسن اکبر کمال نے ایم اے انگریزی ادبیات میں کیا تھا اور تمام عمر اسی زبان کی تدریس میں گزاری مگر اُردو ادب سے شروع ہی سے جو ناتہ باندھا تھا وہ مرتے دم تک استوار رکھا۔ کئی شعری مجموعے اور نثری کتابیں اردو زبان میں مطبوعہ صورت میں یادگار چھوڑیں۔ بہت سے مسودے تشنۂِ تکمیل یا محرومِ اشاعت بھی رہے۔ پہلا مجموعہ کلام ’’سخن‘‘ کے عنوان سے 1969ء میں شائع ہوا تھا۔(یہ میرا ’’ادب لطیف‘‘ کی ادارت کا پہلا دَور یعنی 1966ء تا 1980ء کا زمانہ تھا۔) کتاب کا اشتہار میں متواتر چھاپتا رہا۔۔۔!

دوسرا مجموعہ کلام ’’خزاں میرا موسم‘‘ تھا، جس پر پاکستان رائٹرز گلڈ کی وساطت سے ادب کا سب سے بڑا انعام آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا۔ گیتوں اور ملی نغموں کا ایک مجموعہ ’’خوشبو جیسی بات کرو‘‘ اور پھر نعتیہ مجموعہ ’’التجا‘‘ تھا جو طاہر سلطانی صاحب نے شائع کیا، جس پر بھرپور تبصرہ میں نے ادب لطیف کے شمارہ دسمبر 2016ء میں شائع کیا اس نعتیہ مجموعے میں حسن اکبر کمال کا ایک التجائیہ شعر تھا۔

یقین ہے وہ مری التجا نہ ٹالیں گے

یقین ہے، وہ مدینے مجھے بلا لیں گے

اور پھر واقعی اُدھر سے بلاوا آیا اور انہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی۔

حسن اکبر کمال 14 فروری 1946ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے جسے پہلے اکبر آباد کہا جاتا تھا اور جہاں ’’اکبر آبادی‘‘کے لاحقے کے ساتھ نظیر اکبر آبادی جیسے شاعرِ بے بدل سے لے کر صبا اکبر آبادی تک بے شمار نابغۂ روزگار شاعر پیدا ہوئے میر و غالب نے اکبر آبادی کا لاحقہ نہیں لگایا مگر تھے وہ بھی وہیں کے۔۔۔ حسن اکبر کمال کی زندگی کا زیادہ حصہ سکھر میں گزرا اور پھر آخر دم تک کراچی کے ہو کے رہے اور کراچی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ میرے ساتھ وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔ گِلڈ کی مرکزی مجلس عاملہ کی آخری میٹنگ بحیثیت سیکرٹری جنرل میری ہی صدارت میں کوئٹہ (بلوچستان) میں انعقاد پذیر ہوئی جس میں وہ عمر شریف کے ہمراہ کراچی سے کوئٹہ تشریف لائے۔ بس پھر دو روزہ طویل ملاقات آخری ملاقات ٹھہری، اس کے بعد فون پر ان سے رابطہ قائم رہا۔۔۔ ان کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

اب کریں کس سے عرضِ حال یہاں

دل ہیں سب خانۂ ملال یہاں

حسن اکبر کمال کو اپنے پہلے ہی شعری مجموعے ’’سخن‘‘ سے خاص پذیرائی ملی ان کا ایک شعر جو ایک کل پاکستان مشاعرے سے نکل کر نگر نگر پہنچا، وہ تھا!

کیا ہوتا ہے خزاں، بہار کے آنے جانے سے

سب موسم ہیں دل کھلنے اور دل مرجھانے سے

اسی شعر کا عکس برسوں بعد پشاور کے نذیر تبسم کے اس ماڈرن شعر میں نظر آیا:

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

حسن اکبر کمال کے تنقیدی و تحقیقی مضامین کا بھی ایک مطبوعہ مجموعہ ’’کمال کے مضامین‘‘ کے عنوان سے یادگار ہے۔ حسن اکبر کمال کو لڑکپن میں ہاکی کھیلنے کا لپکا اور اسٹیج ڈراموں میں حصہ لینے کا بھی چسکا رہا۔ شاعری میں یوں تو تمام ہی اصناف سخن کو انہوں نے بخوبی برتا مگر زیادہ مرغوب غزل ہی رہی، غزل میں زیادہ تر حزن و ملال کا پہلو اُبھرا ہوا تھا ، ٹی وی ریڈیو کے لئے بہت سے دلکش، دل نشین نغمے بھی لکھے جو سازو آواز کے ساتھ مقبول ہوئے۔ بچوں کے لئے بھی کئی ناول لکھے جن میں ’’آدم خوروں کا جزیرہ‘‘ ’’دھوئیں کی مخلوق‘‘ اور ’’ملاح کا بھوت‘‘ وغیرہ کے نام سامنے آ رہے ہیں۔۔۔ حسن اکبر کمال کی مختلف غزلوں سے دو چار اشعار ملاحظہ ہوں۔

عمر اک ایسی بھی ہوتی ہے کہ جس میں دل کو

اچھی لگتی ہے ہر اک بات حقیقت کے سوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوں زمیں ذائقہ خوں سے ہوئی ہے مانوس

اس میں اب فصل، محبت کی ہے بونا مشکل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طلوعِ ماہ بھی تھا دیکھتا تو اپنے گرد

عمارتیں یہ فلک بوس کیوں بنالی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بجا ہے وسعتِ دنیا مگر چُھٹا جب گھر

کھُلا کہ تنگ ہمیں ہر جہان کتنا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موم کے بے حِس نگار و نقش ہیں چہرے نئے!

زندگی! آخر کہاں چہرے پرانے لے گئی؟

مزید : کالم