قلم قتلے

قلم قتلے
 قلم قتلے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

[از خود عنوان مستعار لینے کے لئے حضرتِ شورش کاشمیری کی رُوح سے معذرت]
O کوششوں کے باوجود عمران، چور دروازوں سے اقتدار حاصل نہیں کر سکتے، شہباز شریف
O اسی لئے عمران خان ’’گج وج‘‘ کے سامنے آ کر اقتدار تک پہنچنا چاہ رہے ہیں۔!
O کرپشن ثابت ہونے پر فرانس کے سابق صدر سرکوزی گرفتار۔ایک خبر
O ایسے کام پاکستان کے علاوہ اور مُکوں ہی میں ہو سکتے ہیں یہاں تو فارمولا طے ہے:
لے کے رشوت پھنس گیا ہے
دے کے رشوت چھوٹ جا
O رحمن ملک، شاطر اور ناقابلِ بھروسہ ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ
* جے آئی ٹی کو لوگوں کی کردار کشی کی اجازت کس نے دی؟۔مریم اورنگزیب
O صاف ظاہر ہے، جس نے آپ کو چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں کی صفائی کی اجازت دی۔
O بھارتی فوجیوں کی ’’بربریت‘‘۔ ایک سرخی
O ’’بربریت‘‘ نہیں ’’بہیمیت‘‘کہیئے ’’بر بر‘‘ ماضی کے ایک مسلمان، بہادر جنگجو قبیلے کا نام ہے جس سے انگریزوں نے ’’بار بیریر ازم‘‘ یعنی ’’بربریت‘‘ کا لفظ ایجاد کر کے ڈکشنری میں شامل کیا۔یہ دراصل بہادر مسلمانوں کی مسلسل توہین ہے۔ صحافیوں کو تھوڑا بہت تو پڑھا لکھا بھی ہونا چاہئے۔
O کوئی بھی رکاوٹ سی پیک کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ کسی کو بھی راہداری معاہدے کے حوالے سے ہماری صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہئے؟ پاکستان کا دفاع ہر لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہے۔آرمی چیف!
O آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بروقت انتباہ بلا شبہ قوم کی بیک زبان مشترکہ آواز ہے۔
O تحقیقاتی ٹیم سے تعاون نہ کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ نواز شریف
O الزام ہی تو ہے نا، بے بنیاد ہی سہی۔’’پر‘‘ کا ہی ’’کوّا‘‘ بنتا ہے، پریشانی کیوں؟ ادا جعفری کے لفظوں میں:
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے
O اسلام آباد میں آئندہ ہفتے وزیراعظم کو رخصت کرنے کی بڑی پارٹی ہو گی۔ عمران خان
O دے گا کون؟ یہ نہیں بتایا۔’’ گرینڈ فیئرویل‘‘ تو سلامی دے کر ہوتا ہے جیسے پرویز مشرف کا ہُوا تھا۔ ’’بڑا کھانا‘‘ پولیس کا ہوتا ہے بڑی پارٹی کس کی طرف سے؟
O جے آئی ٹی نے مینڈیٹ کے برعکس تفتیش کی۔
O جب پولیس کسی ایک چور، ڈاکو، لٹیرے، قاتل کو پکڑتی ہے تو اس سے متعدد وارداتیں،بلکہ کئی کئی قتل برآمد کرا لیتی ہے۔یہ تفتیش مینڈیٹ سے ہٹ کر نہیں ہوتی کیا؟
O عدالت سے انصاف چاہتے ہیں تحریکِ انصاف نہیں۔۔۔ مولانا فضل الرحمن
O مولانا خاطر جمع رکھیں عدالت ان شاء للہ ایسا انصاف دے گی جو تحریک انصاف کے سوا آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو قبول ہی نہیں ہو گا۔
O تاریخ میں پہلی بار مُلک ترقی کی جانب گامزن ہُوا۔۔۔مولانا فضل الرحمن
O گویا قائداعظمؒ اور لیاقت علی خان کے بعد تمام ہی حکمران سیاست دان مُلک کو تنزلی کی طرف ہی لے جاتے رہے۔۔۔مولانا مفتی محمود کی وزارت علیا کے دور سمیت۔!
O سیاست میں بہت گہرے بادل دیکھ رہا ہوں۔ رحمن ملک سابق وزیر داخلہ
O وہ گہرے بادل موجود وزیر داخلہ بھی دیکھ چکے ہیں۔ بادل برسیں تو جانیں۔ابھی تک تو بن بادل برسات ہی جاری تھی۔
O لٹیروں کے خلاف قوم متحد ہو گئی۔محمود الرشید
O مگر اس اتحاد کو توڑنے والے زیادہ طاقت ور ہیں۔
O حکومت مُلک میں خانہ جنگی چاہتی ہے۔۔۔شیخ رشید
O صرف چاہنے سے کیا ہوتا ہے؟:
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے پیدا تو کرے دِل میں کوئی ذوقِ سلیم
O نواز شریف نے استعفیٰ نہ دیا تو اُنھیں گھر بھیجنے کا لائحہ عمل ہمارے پاس موجود ہے۔بلاول بھٹو زرداری
O وہ گھر جائیں گے، ہمیں کھانے پر بُلائیں گے اور پھر ہم اُنھیں بچائیں گے۔۔۔یہی ہے نا صحیح لائحہ عمل۔۔۔
O استعفیٰ دوں گا نہ اسمبلیاں توڑوں گا۔۔۔ وزیراعظم کا عزم
O شاید تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے، یادش بخیر پہلے بھی ایک بار میاں نواز شریف نے ایسا ہی دعویٰ کیا تھا کہ ’’ڈکٹیشن نہیں لوں گا، نہ استعفیٰ دوں گا‘‘۔ مگر دونوں ہی کام کرنے پڑ گئے تھے۔
O گُٹکا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی، نور الامین مینگل
O مینگل صاحب! آپ سے اجازت مانگ کون رہا ہے؟ آپ جو مرضی کہتے رہیں،کرنے والے اپنا کام کرتے ہی رہتے ہیں۔وہ دودھ میں ملاوٹ ہو، جعلی دوائیں بنانا ہو،جعلی مشروب سازی ہو، ہر طرح کی جعلسازی ہو، پتنگ بنانا، ڈور کے لئے مانجھا سونتنا، آتش بازی کا سامان فروخت کرنا کس چیز کے لئے کون آپ سے اجازت طلب کر رہا ہے جو گٹکے کی فروخت کے لئے کرے گا؟
O چودھری نثار علی خان کی کمر کا درد؟
قمر!ؔ کمر میں نہیں خم یہ ضعف پیری سے!
جُھک جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
O بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل پر ’’طوطے کی گواہی‘‘۔
O ثابت ہُوا۔ طوطا بڑے کام کی چیز ہے، حبیب جالب نے خواہ مخواہ ہدف بنایا یہ کہہ کر:
کوّا کیوں کائیں کائیں کرتا ہے
طوطا کیوں ٹائیں ٹائیں کرتا ہے
O ایاز صادق کو وزیراعظم دیکھ رہا ہوں۔ شیخ رشید
O ’’ایاز قدرِ خود بہ شناس‘‘!
O بچوں نے منی ٹریل نہ دی تو نتائج وزیراعظم کو بھگتنا پڑیں گے۔سپریم کورٹ
O بچے، بالے ہیں شرارت میں منی ٹریل نہیں دی ہو گی، آخر ذہین بچے تھے مفلس و قلاش تو نہیں تھے کہ سنجیدہ رہتے۔بقول قمر صدیقی مرحوم:
افلاس نے بچوں کو بھی سنجیدگی بخشی
سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے
ناصِر زیدی
0332-4423335-0301-4096710

مزید :

کالم -