شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادہ نوشاہیہ کی خدمات ۔۔۔قسط نمبر65

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ...
شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادہ نوشاہیہ کی خدمات ۔۔۔قسط نمبر65

  

حضرت علامہ حافظ نور محمد سیالکوٹی قدس سرہ

آپ نورشہرہ تارڑاں کے رہنے والے تھے۔ مجدد اعظم قدس سرہ کے اکابر خلفاءمیں سے تھے۔ آپ کو مرشد پاک قدس سرہ کی خدمت میں ایک لمبا عرصہ رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے ظاہری تعلیم بھی انہی سے حاصل کی تھی۔ محدث اعظم قدس سرہ کو جب مجدد اعظم قدس سرہ نے تحصیل علم کیلئے سیالکوٹ روانہ کیا تو ان کی خدمت کیلئے حضرت علامہ نور محمد سیالکوٹی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔

مرزا احمد بیگ لاہوریؒ لکھتے ہیں۔

”حضرت حافظ نور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی وطن تھا۔ جب مجدد اعظم قدس سرہ یہاں آ کر قیام پذیر ہوئے تو اس وقت حضرت حافظ نور محمد رحمتہ اللہ علیہ چھوٹی عمر کے تھے اور لوگ مجدد اعظم قدس سرہ کے متعلق صرف یہ گمان کرتے تھے کہ آپ ایک عالم دین ہیں اور ان کے کمالات و مراتب سے کوئی واقف نہ تھا۔ حافظ صاحب کو پڑھنے کا شوق ہوا تو حضرت مجدد اعظمؒ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ جب کچھ عرصہ

شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 64 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گزرا اور حضور کی کرامات مشاہدہ میں آئیں تو وہ حضور کے معتقد ہو گئے اور پندرہ بیس سال حضور کی خدمت میں رہے۔ آپ بڑے قوی الجذبہ اور صاحب تصرف بزرگ تھے“۔

ایک روز میاں بلاول مکتب دار نے آپ کی خدمت میں التماس کی کہ مجھ پر ایسی نظر کرم فرمائی جائے کہ میرا حال بھی مرزا احمد بیگ کی طرح ہو جائے۔ آپ نے فرمایا” ہر ایک کو اس کے حوصلہ کے مطابق عطا کیا جاتا ہے۔ اگر تمہاری خواہش ہے تو میں نے تمہاری یہ آرزو پوری کر دی ہے“ یہ ارشاد فرمایا کہ جب آپ نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑا۔

مرزا احمد بیگ فرماتے ہیں کہ

”میں نے آپ کے وصال سے ایک روز پہلے مشاہدہ کیا کہ آپ کے تمام اعضاءذکر الہٰی کرتے ہیں۔ آپ نے وفات سے قبل وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر کو اونچا نہ کرنا“۔

حافظ نور محمد سیالکوٹی قدس سرہ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا ہے آپ نے حسب الحکم حضرت مجدد اعظم قدس سرہ، نوشہرہ کو خیرباد کہہ کر سیالکوٹ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور مدت العمر وہیں اقامت فرما ہو کر رشد و ہدایت کے فریضہ کو سرانجام دیا۔ آپ کے خلفاءسے حضرت مرزا احمد بیگ لاہوری مصنفہ رسالہ الاعجاز بڑے بلند پایہ بزرگ تھے۔ حضرت حافظ نور محمد قدس سرہ نے 1101ھ میں انتقال فرمایا۔ مزار اقدس سیالکوٹ میں ہے ۔

حضرت علامہ راضی الدین کنجاہی نور اللہ مرقدہ

آپ مجدد اعظم قدس سرہ کے مشہور خلفاءمیں سے تھے۔ آپ کی مہر سے مزین چند فتاویٰ جات پروفیسر احمد حسین قریشی گجراتی کے پاس موجود ہیں۔ آپ نے 1113ھ میں وفات پائی۔ مزار اقدس کنجاہ میں ہے۔

حضرت مجد اعظم قدس سرہ، مشاہیر کی نظر میں

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، اسلام شاہ سوری کے عہد میں پیدا ہوئے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں علوم نقلی و عقلی سے فراغت حاصل کی۔ پھر ماوراءالنہر چلے گئے اور وہاں کے بڑے شیوخ سے اکتساب علم حاصل کیا۔ بعد میں آپ حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے محدیثن سے علوم حدیث کا درس لیا اور شیخ عبدالوہاب متفی علیہ الرحمتہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی راہنمائی میں عبادت و ریاضت کرتے رہے۔ جب آپ 1000ھ میں واپس ہندوستان آئے تو اکبر کے نظریات ”دین الہٰی“ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ اسلامی شعار کی کھلے عام تضخیک ہو رہی تھی۔ درباری حضرات نے آپ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن آپ نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور قرآن و حدیث کی تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا جو زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہا۔ جہانگیری دور میں آپ اصلاح احوال کیلئے مغل امرائ، علماءاور صوفیاءکی مکتوبات کے ذریعے سے راہنمائی کرتے رہے۔ آپ کی تعلیمی اور اصلاحی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مولفین نے آپ کو مجددین میں شمار کیا ہے۔

آپ کی پیدائش مجدد اعظم قدس سرہ، سے تقریباً ایک سال پہلے محرم 958 ھ مطابق 1551ءمیں

ہوئی۔ آپ نے اپنے والد مولانا سیف الدین رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر یگانہ روزگار علماءو فضلا سے دینی علوم کے حصول کی تکمیل کی۔ آپ نے اپنے کمالات کے خوب جوہر دکھائے اور ایسے مدارج کمال تک پہنچے، جن کا عرب و عجم کے علماءنے اعتراف کرتے ہوئے ہر زمانے میں انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ شہرہ آفاق تصنیف ”اخبار الاخیار“ شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کے علمی تبحر، انداز تحقیق اور وسعت علمی کا بہترین آئینہ دار ہے۔ شیخ محقق کی اس کتاب کو ان کی زندگی ہی میں مقبولیت حاصل ہو گئی تھی۔ معاصرین نے شیخ محقق کی جس تصنیف کی سب سے زیادہ تعریف کی ہے وہ اخبار الاخیار ہی ہے۔ اس کتاب کے قلمی نسخے بانکی پور، کیمبرج یونیورسٹی کے علاوہ متعدد لائبریوں میں موجود ہیں۔ ایک خوبصورت قلمی نسخہ راقم السطور کے کتب خانہ میں بھی موجود ہے۔ آپ کی دوسری کتاب جو مکاتیب اور رسائل کا مجموعہ ہے۔ اخبار الاخیار کے حاشیہ پر طبع ہوئی ہے۔ یہ تذکرہ 999ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اسوقت مجدد اعظم قدس سرہ، کی عمر چالیس سال تھی۔ دنیائے اسلام کا یہ عظیم فاضل شیخ اپنے ہم عصر قادریہ سلسلہ کے بزرگ حضرت سید محمد نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ کے راہ طریقت میں انتہائی کٹھن مجاہدات و ریاضات شاقہ، زہد اور محنت و مشقت کا کس کمال درجے کا اعتراف کرتا ہے اور پرادب انداز میں مکتوب رسالہ ایراد العبارات مشمولہ برحاشیہ اخبار الاخیار بنام شاہ ابولالمعالی میں تذکرہ فرماتا ہے عبارت ملاحظہ فرمائیے۔

”جواد طریق المحبت مولائے (حاجی) محمد بدعائے سلامت احوال و صعود مدارج کمال مشغول اند“۔

”راہ محبت میں سبک رفتار ہمارے پیشوا محمد احوال کی سلامتی اور کمالات کے مدارج تک پہنچنے کی خاطر دعاﺅں میں مشغول و مستغرق ہیں“۔

شیخ محقق قدس سرہ، نے حضرت مجدد اعظم قدس سرہ کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کر کے اس حقیقت کو اجاگر فرمایا ہے کہ ان کے نزدیک آپ کا انتہائی بلند مقام تھا اور آپ ان کا دل کی گہرائیوں کے ساتھ ادب و احترام کرتے ہوئے ان کے حضور نوک قلم کو بھی جھکا دیتے ہیں۔ سبحان اللہ! محدث روزگار مجدد روزگار کے کمالات کا کیا خوب اعتراف کرتا ہے۔

جاری ہے

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -