اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 135

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 135

  


وہ خاموشی سے میری باتیں سن رہی تھی۔ جب میں نے ایک بار پھر اس سے مدد کے لئے کہا تو وہ بولی

’’یہاں سے فرار ناممکن ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی دروازہ بند ہوگیا وہم جھ سے کسی قسم کی مدد کا وعدہ کئے بغیر چلی گئی تھی مگر میرا دل مطمئن تھا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے یہاں سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ضرور بتادے گی۔ میں اس سیاہ فام نیم دراوڑی نیم آریائی ماں کے دل میں یہ خیال جاگزین کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس کی اکلوتی بیٹی کی زندگی بچ سکتی ہے۔ میں اگلے دن کا انتظار کرنے لگا

اگلے روز وہ میرے لئے کھانا لے کر آئی تو اس کے ساتھ محافظ نہیں تھے۔ خد اجانے وہ کس طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان محافظوں سے پیچھا چھڑالیتی تھی۔ اس نے اندر آتے ہی پہلے روز کی طرح دروازہ بند کردیا اور بولی

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 134 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تم نے مجھے اپنی بہن کہا ہے تو سنو! میرا اس قبیلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا قبیلہ یہاں سے دور ایک جھیل کے کنارے پہاڑیوں میں آباد ہے۔ ہمارے قبیلے کے لوگ موروں کی نسل سے ہیں اور یہ لوگ سانپوں کی نسل سے ہیں اور سانپوں کے زہر پر پلے بڑھے ہیں۔ اگر یہ کسی کو کاٹ لیں تو وہ اسی وقت مر جاتا ہے۔ ان لوگوں میں یہ بات نسل درنسل چلی آرہی ہے کہ اگر کبھی یہ موروں کے قبیلے کی کسی سات برس کی لڑکی کو کسی ایسے آدمی کے ساتھ دیوی مہاناگن کے آگے قربان کردیں جو ہزاروں برس سے زندہ چلا آرہا ہو تو یہ لوگ بھی امر ہوجائیں گے اور ان میں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ کوئی بوڑھا نہیں ہوگا۔ رگھودیو اصل میں کوئی بدروح نہیں ہے۔ وہ سانپوں کے اس پراسرار قبیلے کا سردار ہے اور بہت بڑا جادوگر ہے۔ اسے جادو کے زور سے تمہارے بارے میں پتہ چل گیا تھا کہ تم جمنا دریا کی لہروں میں بہہ رہے ہو۔ اس نے سانپ کی مورتی کے ذریعے تم پر طلسم کردیا اور تم بے ہوشی کے عالم میں دریامیں بہتے رگھودیو کے پرانے مندر کے کنارے پر آگئے۔ پھر انہوں نے ہمارے قبیلے میں سے میری سات سال کی بچی کو جادو کے زور سے اغوا کرلیا مگر میں ماں تھی۔ میں رگھودیر کے قدموں پر گرپڑی اور کہا کہ تم بے شک میری بیٹی کو دیوی مہاناگن پر قربان کر ڈالو مگر اسے میری آنکھوں سے اوجھل نہ کر۔و وہ جب تک، جتنے دن بھی زندہ رہے گی۔ میں اس کے سامنے رہنا چاہتی ہوں۔ رگھودیو مجھے بھی ساتھ ہی اٹھا کر لے آیا۔ اس نے مجھے اپنی بیوی بنالیا اور اب وہ تمہیں اور میری بیٹی کو مہاناگن کے آگے قربان کرنے کی تیاریاں کررہا ہے۔‘‘

میں اس کی زبانی یہ کہانی سن کر حیران رہ گیا کہ ہندوستان میں اتنے زبردست جادوگر بھی موجود ہیں۔ میں نے اس سے وشکالی کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وشکالی کو مہاناگن نے اس کی ایک غلطی کی وجہ سے شراپ دیا تھا کہ وہ اگلے جنم میں چوہیا کے روپ میں جنم لے گی۔ وشکالی نے کہا کہا گر میں کسی ایسے انسان کو یہاں لانے میں کامیاب ہوجاؤں جو ہزاروں برس سے زندہ ہو تو کیا دیوی اپنا شراپ واپس لے لے گی؟‘‘

وشکالی کی شرط منظور کرلی گئی۔ مجھ پر قبضہ کرکے ان منحوس غاروں میں لانے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ میرا انسانی ارادہ تھا۔ ان غاروں تک پہنچانے کے لئے ضروری تھا کہ میں سانپ کی مورٹی کو ایک بار اپنے ہاتھ میں پکڑوں اور اس کے لئے مییر ارادے کو قابو کرنا ضروری تھا۔ رگھودیو ایک جادوگر ہونے کے باوجود اس صلاحیت سے محروم تھا۔ چنانچہ وشکالی نے یہاں اپنی خدمات پیش کیں اور وہ سانپ کی مورتی کو اس بارش والی طوفانی رات میں مندر کی کوٹھری میں پھینک کر خود چھپ گئی اور اپنی قوت ارادی کی شعاعوں سے میرے ذہن میں اثر ڈالنا شروع کردیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا میرے سامنے تھا۔ میں نے اسے کہا

’’میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں۔ اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ میں تمہاری بیٹی کو لے کر یہاں سے کیسے نکل سکتا ہوں؟ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ جس سے میری کوئی طاقت واپس مل جائے؟‘‘

اس نے کہا ’’تمہارے بارے میں یہ ساری باتیں اپنے خاوند رگھودیو سے معلوم ہوئی ہیں جس سے مجھے نفرت ہے مگر میں محض اپنی بچی کی وجہ سے اس کی ہربات مان لیتی ہوں۔‘‘

’’کیا تم اس سے معلوم نہیں کرسکتیں کہ میری کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ کیسے حاصل ہوسکتی ہے؟‘‘

میرے اس سوال پر وہ بولی ’’رگھو دیو ایک مکروہ اور عیار بھتنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں ایک دشمن قبیلے کی عورت ہوں۔ اس لئے وہ مجھے کبھی راز کی کوئی بات نہیں بتاتا۔‘‘

وہ کچھ سوچ کر بولی ’’میں اس بوڑھی عورت سے باتوں ہی باتوں میں یہ راز معلوم کرنے کی کوشش کرسکتی ہوں لیکن تمہاری اور میری بیٹی کی موت میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں۔‘‘

میں نے کہا ’’تم آج اس بوڑھی عورت سے بات کرکے دیکھو۔ ہوسکتا ہے اس سے تمہیں کوئی قیمتی معلومات حاصل ہوجائیں۔‘‘

’’اچھا اب میں جاتی ہوں۔ میں کل آؤں گی۔‘‘ یہ کہہ کر جانے لگی تو میں نے کہا

’’کیا میں اس کھلے دروازے سے نکل کر فرار نہیں ہوسکتا؟‘‘

وہ بولی ’’اس دروازے کے باہر قدم قدم پر موت کا پہرہ لگاہے۔ اس طرح یہاں سے فرار کی کوشش کا نتیجہ ایک المناک موت کے سوا کچھ نہ نکلے گا۔ میں کل آؤں گی۔‘‘

وہ چلی گئی۔ میں سوچ میں پڑگیا۔ مجھے ایک کٹھن ترین مرحلہ درپیش تھا۔ مسئلہ کوئی بھی ہو میرے لئے کبھی کٹھن نہیں رہا تھا۔ مگر میں اتنا کمزور پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اب مجھے قدم قدم پر اپنی جان کی فکر لگی تھی۔ پانچ ہزار برس تک موت کے خوف سے آزاد رہنے کے بعد اچانک اس کا خوف مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ یہ ایک قدرتی امر تھا۔ یہ خیال مجھے الگ پریشان کررہا تھا کہ کہیں میں کسی کاری زخم کے لگتے ہی اچانک ہڈیوں اور مٹی کا ڈھیر نہ بن جاؤں۔ یعنی پانچ ہزار سال کی قدامت اور اور کولت ایکا ایکی مجھ پر طاری نہ ہوجائے اور میرے خاکی جسم کے اجزائے ترکبی آنافاناً خاک میں نہ مل جائیں۔ اس کے باوجود اس جہنم سے خود بھی نکلنے اور سیاہ فام دراوڑی عورت کی اکلوتی بیٹی کو بھ ی وہاں سے نکال لے جانے کا عزم میرے دل میں بیدار ہوچکا تھا۔ مہاناگن کے بت کے آگے مجھے قربان کرنے میں دو دن باقی رہ گئے تھے۔ میرے پاس زیادہ غور وفکر کرنے کا وقت نہیں تھا۔ میں بے چینی سے سیاہ فام عورت کا انتظار کرنے لگا۔

دوسرے روز سیاہ فام عورت میرے لئے کھانا لے کر آئی تو اس کے چہرے پر مایوسی کے سائے تھے۔ کہنے لگی کہ میں نے بوڑھی عورت سے بڑے طریقے سے معلوم کیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ رگھودیو کے سانپ منتر کا جدو مجھ پر چل چکا ہے اور میری کھوئی ہوء ی طاقت اب کبھی واپس نہیں آسکتی۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی لیکن آخر میں جوان تھا اور میں اپنے آپ کو بلیدان کی الم انگیز موت سے ہر قیمت پر بچانا چاہتا تھا۔ سیاہ فام عورت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کہنے لگی

’’میں اپنی اکلوتی بیٹی کو مہاناگن دیوی کے ظلم سے نہیں بچاسکتی۔ تم نے میرے دل میں ایک امید سی پیدا کردی تھی۔ اب مجھے اپنی بچی کی موت کا زیادہ قلق ہوگا۔‘‘

میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے ساتھ جو دو سانپوں والے محافظ آیا کرتے تھے، وہ کہاں ہیں؟ سیاہ فام عورت نے بتایا کہ اس نے ان دونوں کو اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ آئیں گے ضرور مگر کافی پیچھے رہیں گے۔ اس وقت بھی وہ غار میں کچھ فاصلے پر کھڑے ہیں۔

میں نے اس سے پوچھا’’کیا اس غار میں کوئی خفیہ دروازہ بھی ہے جو یہاں سے باہر جاتا ہو؟‘‘

سیاہ فام عورت کی زبانی معلوم ہوا کہ اس غار کے نیچے ایک چوتھی تہہ بھی ہے جہاں ان دیوداسیوں کو مرنے کے لئے بند کردیا جاتا ہے جو بوڑھی ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا تہہ خانہ ہے جو پہاڑی کے نیچے زمین کی گہرائیوں میں ایک سرنگ کی طرح دریا کے پار تک چلا گیا ہے مگر اس طرف آج تک کسی کو جانے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ یہ بات مشہور ہے کہ جہاں یہ سرنگ دریا کی تہہ کے نیچے تک جاتی ہے وہاں نیلے اور سرخ رنگ کے ایسے سانپ رہتے ہیں جو انسان کو ڈسنے کے بعد اس کا گوشت کھاجاتے ہیں۔ میں نے سیاہ فام عورت سے سوال کیا کہ وہ مجھے اس زیر زمین سرنگ تک جانے کا راستہ بتاسکتی ہے۔ اس نے بتایا کہ زیر زمین ڈیوڑھی داسیوں کی سرنگ تک جانے کا ایک ہی راستہ ہے جو دیوی مہاناگن کے بت کے عقب سے جاتا ہے۔ ایک سوال بہت اہم تھا۔ میں نے سیاہ فام عورت سے یہ سوال پوچھا تو کہنے لگی

’’ہمارے سیاہ جسموں سے جو تمہیں لوہان کی بو آتی ہے وہ اصل میں کالے سانپوں کی چربی کی بو ہے۔ ہمارے جسموں پر اس چربی کی روزانہ مالش کی جاتی ہے۔ اس بو کی وجہ سے یہاں کا کوئی بھی سانہ ہمیں کاٹ نہیں سکتا۔‘‘

میں نے سیاہ فام عورت سے کہا کہ وہ پہلا کام یہ کرے کہ مجھے تھوڑی سی چربی لاکر دے۔ طے یہ ہوا کہ سیاہ فام عورت جس مقام پر مہاناگن کا بت ہے وہاں تک میری رہنمائی کرے گی۔ اس بت کی ایک عقبی کوٹھری میں اس کی بیٹی کو میرے ساتھ دیوی پر قربان کرنے کے لئے قید میں رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے مجھے اس بچی کو بھی نکال کر اس کی ماں کے ساتھ ہی فرار ہونا تھا۔ یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں تھا۔ کوئی باقاعدہ فرار کی کوئی سکیم نہیں تھی۔ اس سکیم پر میں نے اس لئے عمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ کوئی دوسری سکیم ہی نہیں تھی اور میری موت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تھا۔

ٹھیک آدھی رات کے بعد میری کوٹھری کا دروازہ کھلا اور سیاہ فام عورت اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھمیں کیلے کے پتوں میں لپٹی ہوئی سانپ کی چربی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک تیز دھار خنجر بھی میری طرف بڑھادیا۔ میں نے جلدی جلدی اپنے جسم پر کالے سانپ کی چربی ملی اور سیاہ فام عورت سے خنجر لے کر اپنے لمبے کرتے میں چھپالیا۔ اس نے آہستہ سے کہا

’’مجھے اس فرار میں بھی ہم تینوں کی موت نظر آتی ہے۔‘‘

میں نے جواب میں کہا کہ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ میرے آگے آگے چلو۔ میں خنجر اپنے ہاتھ میں اس طرح پکڑلیا کہ وہ دکھائی نہ دے اور سیاہ فام عورت کے پیچھے پیچھے چلتا کوٹھری سے باہر آگیا۔ غارمیں کوئی مشعل نہیں جل رہی تھی۔ سیاہ فام عورت نے میری کوٹھری کے آس پاس کی دونوں مشعلیں بجھادی تھیں۔ ہم غار کی دیوار کے ساتھ لگ کر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ مہاناگن کا بت غار کی اسی تیسری منزل کے آخری کونے میں پہاڑی کھود کر بنائی ہوئی ایک کشادہ کوٹھری میں ایستادہ تھا۔ غار کے کونے تک ہمیں کسی نے نہ دیکھا۔ ہم جب غار کا موڑ گھومنے لگے تو اچانک ایک دراوڑی پہرے دار آگیا۔ اس نے میری شکل دیکھتے ہی مجھ پر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا زہریلا سانپ پھینکا۔ اس اثناء میں مَیں نے اچھل کر اس کی گردن دبوچ لی تھی۔ میرے جسم سے آنے والی چربی کی بو کی وجہ سے سانپ نے مجھے بھی کچھ نہ کہا۔ دراوڑی بھتنا چلانے کی کوشش کرنے لگا تو سیاہ فام عورت نے قریب ہی پڑا ہوا پتھر مار کر اس کے سر کو دو ٹکڑے کردیا۔ لاش کو ایک طرف دیوار کے ساتھ پھینک کر ہم تیزی سے غار کے موڑ پر گھوم گئے۔ سیاہ فام عورت آگے آگے تھی۔

دائیں جانب روشنی نظر آئی۔ سیاہ فام عورت نے میرے کان کے قریب منہ لاکر کہا ’’یہ مہاناگن کا استھان ہے۔ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔‘‘(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 136 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار


loading...