جُوتم پیزار

جُوتم پیزار
جُوتم پیزار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مخالفین پر گندے انڈے مارنا، گلے سڑے ٹماٹر پھینکنا، سیاست دانوں کا قدیم خاصہ رہا ہے، جوتا چلنے کا سلسلہ بھی رہا مگر بہ رنگِ دیگر، جس کا نقشہ اکبر الہ آبادی نے اس طرح کھینچا:
بُوٹ ڈاسن نے بنایا مَیں نے اک مضموں لکھا،


شہر میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا
یا پھر کانگرس کے حوالے سے مولانا ظفر علی خاں کی گوہر افشانی:


کانگرس آ رہی ہے ننگے پاؤں
جی میں آتا ہے بڑھ کے دوں جوتا
اور وہ تحریف شدہ مشہورِ زمانہ شعر جو مولانا حالیؔ سے منسوب ہے:


اپنے ’’جوتوں‘‘ سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
جبکہ مولانا حالی نے ’’جوتوں‘‘ کی جگہ ’’جیبوں‘‘ کہہ رکھا ہے، ’’جوتوں‘‘ کی تحریف آج کے دور کی عوامی دَین ہے کہ اب عوام مونث ہو کر جوتا چور بلکہ ’’جُوتی چور‘‘ بن ’’چُکی‘‘ ہے۔۔۔ جیب تراشی تو بہرحال ’’مردانہ فن‘‘ تھا۔

پرانے زمانے کی دست بہ دست جنگوں میں ہاتھیوں پر سوار ہو کر منجنیقوں یا توپوں سے ’’کلُوخ اندازی‘‘ یعنی گولہ باری کی جاتی تھی۔۔۔ آج کے دَور میں جُوتوں کی بھرمار کو پاپوش اندازی یا ’جُفت اندازی‘‘ کہا جائے تو فارسی زبان و ادب کو نیا محاورہ مل سکے گا۔


سیاست میں بڑے پیمانے پر جُوتے چلانے کے عمل کا دورِ جدید میں آغاز دراصل 14دسمبر2008ء کو عراقی ٹی وی ’’البُغدادیہ چینل‘‘ کے صحافی منتظر الزیدی نے کیا تھا۔۔۔ تاریخِ عالم کے ایک سفاک اور ظالم ترین کردار، سابق صدر امریکہ بُش کو جوتا مارتے ہوئے یہ کہہ کر کیا:


IT IS THE FAR EWELL KISS YOU DOG.
]او کُتے! تمہارے لئے یہ الوداعی بوسہ ہے[


منتظر زیدی نے یکے بعد دیگرے اپنے دونوں جوتے بُش کے سر کی طرف پھینکے مگر بُش نے تیزی سے خود کو دوسری جانب جُھکا لیا اور جوتوں کی ضربِ کاری سے بچ گیا۔بش، عراق میں اپنے الوداعی دورے کے بعد عراق کے کٹھ پتلی وزیراعظم نُوری المالکی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہا تھا۔ اُس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو گا کہ عراق جیسے مُلک میں کوئی صحافی اسے اپنے دونوں جوتے دے مارے گا اور یُوں الوداعی بوسہ دینے کا داعی بنے گا مگر منتظر زیدی نے وہ کر دکھایا کہ اگر کوئی خود کش بمبار بُش کے چیتھڑے بھی اُڑا دیتا تو امریکہ کی اس قدر ذِلت و خواری، رُسوائی اور جگ ہنسائی نہ ہوتی جتنی ان دو عدد جوتوں سے ہوئی۔

اس واقعے نے ہزاروں برس قبل عراق ہی میں وقوع پذیر ہونے والی اُس عبرت ناک حقیقت کی یادیں تازہ کر دیں جب بُش ہی جیسے سفاک، ظالم اور مُنکر حق نمرود نامی حکمران، ایک پَر کٹے مچھر کے باعث اپنے ہی غلاموں کے ہاتھوں جوتے کھا کھا کر مر گیا تھا۔

نمرود خدائی کا دعوے دار تھا بُش بھی مسلسل آٹھ سال تک خود کو اِس کرۂ ارض کا خدا ہی سمجھتا رہا۔ نائن الیون کے بعد اُس نے بڑے فخریہ انداز میں بھڑک ماری تھی کہ امریکہ اتنا طاقتور ہے کہ وہ پورے کرۂ ارض کو سو مرتبہ تباہ و برباد کر سکتا ہے، مگر بہادر عراقیوں نے اُس کا سارا غرور و تکبر فلوجہ کی گلیوں میں ملیا میٹ کر کے خاک میں ملا دیا۔

اگر کچھ رہا سہا، بچا کھچا تھا بھی تو وہ منتظر زیدی نے اپنے جُوتوں سے اُڑا کے رکھ دیا۔۔۔ اور مغرور، خود سر، بزعمِ خود ناقابلِ تسخیر امریکہ اپنی معاشی حالت کو مستحکم کرنے اور معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے دنیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک سے بھیک مانگ رہا ہے۔ آج کا کشکول بردار امریکہ اور امریکہ کا صدر ٹرمپ بھی نمرود کی طرح ایک پَر کٹے مچھر کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونے سے بچنے کے لئے عنقریب یہ کہتا ہوا پایا جا سکتا ہے:

’’ایک مچھر سالا اچھے بھلے انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘۔۔۔!


ویسے آج کے دَور کا مچھر دنیا کے ہر شخص کے ہاتھ میں ٹچ موبائل کا ’’یو ٹیوب‘‘ ہے اور وہ ’’وٹس اَپ‘‘ ہے جو زندگی کو ’’اَپ سیٹ‘‘ کئے ہوئے ہے کلُوخ اندازی کے طرز پر ’’جُفت اندازی‘‘ کے حوالے سے جناب روحی کنجاہی کا قطعہ قندِ مکرّر کے طور پر درج کرنا بے محل نہ ہو گا:
کسی پر تو سیاہی پھینکتے ہیں


کسی پر جُوتا پھینکا جا رہا ہے
بجائے گُل فِشانی لیڈروں پر
یہ کیسا بوجھ لادا جا رہا ہے


وطنِ عزیز میں بعض سیاسی رہنماؤں جیسے احمد رضا قصوری اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنا، میاں نواز شریف اور عمران خان پر جوتا دے مارنے کا عمل کسی طور بھی مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہدف کوئی بھی ہو، انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے اور صحیح معنوں میں کسی انسان کو انسانیت کی تذلیل زیبا نہیں، شرفِ انسانیت انتہائی محترم ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔

اعمال بھی شریفانہ پاک، پاکیزہ ہونے ضروری ہیں، جوتیوں میں دال بٹنے، کے محاورے سے ہم واقف تھے جوتیوں میں دال بٹنے سے آگے بڑھ کر ’’جُوتم پیزار‘‘ ہونے کا عملی مشاہدہ بھی قسمت میں تھا۔

عہدِ رواں کے اس انسانیت سوز طرزِ عمل پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے۔سوشل میڈیا پر کئے گئے بعض تبصروں کے مطابق سیاہی، جوتا پھینکنا تو محض ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

مزید :

رائے -کالم -