ترکی نے چین سے فرار ہونے والے مسلمان واپس چین پہنچانا شروع کردئیے، مگر کیسے؟ جان کر یقین نہ آئے ترکی بھی مسلمان بھائیوں کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے

ترکی نے چین سے فرار ہونے والے مسلمان واپس چین پہنچانا شروع کردئیے، مگر کیسے؟ ...
ترکی نے چین سے فرار ہونے والے مسلمان واپس چین پہنچانا شروع کردئیے، مگر کیسے؟ جان کر یقین نہ آئے ترکی بھی مسلمان بھائیوں کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ چین سے فرار ہو کر آنے والے یغور مسلمانوں کو واپس چینی حکومت کے حوالے نہیں کریں گے لیکن اب وہ اپنا وعدہ توڑے بغیر ایسے طریقے سے یغور مسلمانوں کو واپس چینی حکومت کے حوالے کر رہے ہیں کہ سن کر پاکستان افسردہ رہ جائیں۔ ٹیلیگراف کے مطابق رجب طیب اردگان اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے چینی حکومت کی مدد کر رہے ہیں اور یغور مسلمانوں کو واپس بھجوا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کے لیے ترک حکومت یہ طریقہ استعمال کر رہی ہے کہ ان یغور مسلمانوں کو براہ راست واپس چینی حکومت کے حوالے کرنے کی بجائے کسی تیسرے ملک بھیج رہی ہے جہاں سے انہیں واپس چین کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور چین پہنچ کر انہیں انہی مظالم کا نشانہ بنایاجاتا ہے کہ جن کا سوچ کر روح کانپ اٹھے۔ رپورٹ کے مطابق 59سالہ یغور مسلم خاتون ایموزی کوان ہین بھی انہی چینی یغور مسلمانوں میں سے ایک ہے جو کسی طرح چین سے فرار ہو کر ترکی پہنچ گئے اور ان کا خیال تھا کہ اب وہ محفوظ ہیں لیکن ایموزی کا خیال غلط ثابت ہوا۔

ایموزی ایک دن اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ اس دوران فون کی گھنٹی بجی۔ اس کے بیٹے نے فون اٹھایا تو انہیں ترک حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے تاہم انہیں چین کی بجائے کسی اور ملک بھیجا جا رہا ہے۔ انہیں اس تیسرے ملک بھیجا گیا جہاں سے انہیں چینی حکومت کے حوالے کر دیا گیا اور وہ واپس اسی حراستی مرکز میں پہنچا دیئے گئے جہاں یغور مسلمانوں کے ساتھ مبینہ طور پر جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہاہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ان حراستی مراکز میں چینی حکومت نے 10لاکھ سے زائد مسلمان مردوخواتین کو قید کر رکھا ہے جن پر ہر طرح کا جنسی و جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے اور جبری طور پر ان کے مذہبی عقائد ترک کروائے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مردوں کی نس بندی کرکے اور خواتین کو زبردستی مانع حمل ادویات دے کر اور اسقاط حمل کروا کر مسلمانوں کی نسل کشی بھی کی جا رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -