لاہور ڈیفنس دھماکے میں تباہ ہونے والی بلڈنگ سے ایک ایسی تصویر منظر عام پر آگئی کہ دیکھ کر ہر کسی کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی ایسا انکشاف کہ حکومتی جھوٹ کا پول کھل گیا

لاہور ڈیفنس دھماکے میں تباہ ہونے والی بلڈنگ سے ایک ایسی تصویر منظر عام پر ...
لاہور ڈیفنس دھماکے میں تباہ ہونے والی بلڈنگ سے ایک ایسی تصویر منظر عام پر آگئی کہ دیکھ کر ہر کسی کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی ایسا انکشاف کہ حکومتی جھوٹ کا پول کھل گیا

  

لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)ڈ یفنس اے کے علاقہ زیڈ بلا ک میں رواں ما ہ کی 23تاریخ کو ریسٹورنٹ میں ہو نے والے د ھما کے میں اہم انکشافا ت سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے اپنی جان چھڑانے کے لئے اسے سیلنڈر دھماکہ قرار دیا ہے لیکن روزنامہ پاکستان کی جانب سے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کوئی اور کہانی سنارہے ہیں۔منگل کے روز امدادی کاروائی کے دوران ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گیس کے سیلنڈروں کو چھت سے اتارا جارہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سیلنڈر پھٹنے سے یہ خوفناک دھماکہ ہوا ۔

دھماکے کے فوری بعد اس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دھماکے کے فوری بعد پنجاب حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ یہ تخریب کاری کی کاروائی نہیں تھی بلکہ ایک سیلنڈر دھماکہ تھا۔حادثے کے 24گھنٹے بعد پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا تھاکہ یہ دہشتگردی کی کاروائی نہیں تھی اوردھماکہ سیلنڈروں کی وجہ سے ہوا۔سی ٹی ڈی اور ریسکیو سروسز کے عہدیداران کہتے رہے ہیں کہ صرف گیس سیلنڈروں سے اتنی بڑی تباہی ہوسکتی ہے جس میں 8افراد اپنی جان سے گئے اور تین درجن سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ کچھ روز قبل زیر تعمیر بلڈ نگ میں کچن کے استعما ل کے لئے سلنڈر لا ئے گئے تھے جو بلڈنگ کی چھت پرپیر کے روز تک موجود تھے۔روزنامہ پاکستان نے ان سیلنڈروں کی تصاویر حاصل کی ہیں اور جن میں دیکھاجاسکتا ہے کہ حادثے کے بعد آٹھ سیلنڈر چھت پر موجود ہیں جنہیں منگل کے روز کرین کے ذریعے نیچا اتارا گیااور ان کی تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیلنڈر چھت پر موجود ہیں(یہ تصویر ہفتے کے روز اتاری گئی)، دوسری تصویر میں ایک کرین سیلنڈروں کو نیچے اتار رہی ہے اور تیسری تصویر میں یہ بلڈنگ کے سامنے سڑک پر رکھے گئے ہیں(بعد والی دونوں تصاویر منگل کے روز لی گئی ہیں)۔ان سیلنڈروں کا ذکر پنجاب حکومت کی رپورٹ میں کہیں بھی نہیں کیاگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی یا ان سیلنڈروں پر تحقیقاتی اداروں کی نظر ہی نہیں پڑی۔

ڈیفنس میں موجود باقی ریسٹورنٹس بھی اپنے سیلنڈر چھت پر رکھتے ہیں اور ایسا ہی کچھ اس ریسٹورنٹ میں بھی کیا گیا تھا۔ عینی شاہدین اور حکومتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ گراﺅنڈ فلور پرہوا۔اگر اس بات کو صحیح مان لیا جائے تو پھر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں ۔اس دومنزلہ عمارت میں کچن اوپر والے فلور زپر واقع ہے یعنی سیلنڈرز یہاں موجود نہیں تھے ۔اگر اس دعویٰ کو مان لیا جائے کہ نیچے سیلنڈرز تھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کس طریقے سے اتنا بڑا دھماکہ ہوا،یک یا دو سلنڈروں کے بلاسٹ سے اتنی بڑی تباہی نہیں ہوتی جس میں عمارت اس قدر برے طریقے سے تباہ ہوجائے۔مذکور ہ بلڈنگ میں 30سے 35افرا د کا م کرتے تھے اور واقعہ کے روز اور اس سے قبل بھی گیس لیکج کی بد بو نہیں آرہی تھی ۔15 فروری کو ڈیفنس میں تھریٹ الرٹ جا ر ی ہواتھا جس کی وجہ سے 15کی را ت کو ہی پو لیس نے زیڈ بلا ک ما ر کیٹ کے دونو ں جا نب سےکورٹی سخت کردی اوربیریرز دونو ں جا نب لگا د ئیے گئے لیکن 16فروری کو پو لیس کی جا نب سے کو ئی سیکورٹی موجود نہیں تھی جبکہ بیریرز لگے تھے ۔ بلڈ نگ کے ساتھ واقع ر یسٹورنٹ میں تعمیر کا کا م بھی جا ر ی ہے جس کے ایک ملازم نے اپنانا م ظا ہر نہ کر نے کی شرط پر بتا یا کے ان کے ریسٹو رنٹ میں بھی 12کے قریب گیس سلنڈر موجود ہیں اور کسی کو کو ئی نقصا ن نہیں پہنچا ۔

ریسٹورنٹ کے مالک معظم پراچہ جو اس حادثے میں خالق حقیقی سے جاملے، یہاں ایک اٹالین ریسٹورنٹ شروع کرنے کا پروگرام بنارہے تھے اور صرف دو دن بعد اس کی اوپننگ تھی، وہ ہر روز یہاں آکر شیف کی جانب سے بنائے گئے کھانوں کو چیک کرتے تھے اور وقوعہ کے روز بھی وہ کھانا چیک کرکے اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے اور دھماکہ ہوگیا۔عینی شاہدین کا کہناہے کہ اگر وہ بلڈنگ کے اندر موجود ہوتے یا بیسمنٹ میں ہوتے تو وہ باقی لوگوں کی طرح محفوظ رہتے لیکن وہ بلڈنگ کے باہر تھے جس کی وجہ سے اس کی زد میں آنے سے موقع پر جاں بحق ہوئے۔سوشل میڈیا پر اس قسم کی باتیں گردش کررہی ہیں کہ شائد کسی ایک فرد کو ٹارگٹ کرکے مارا گیا ہے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -اہم خبریں -