تخلیقیت کی آگ اور خوشبو کا شاعر: چوہدری غلام مصطفیٰ بیکس

تخلیقیت کی آگ اور خوشبو کا شاعر: چوہدری غلام مصطفیٰ بیکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 چوٹ لگتی ہے محبت کی کہاں، دیکھیں گے ہم
 دل کا ہوتا ہے کہ آنکھوں کا زیاں، دیکھیں گے ہم 
 جرمِ الفت میں تو میرے ساتھ وہ شامل رہا
 منصفوں کے روبرو اس کا بیاں، دیکھیں گے ہم 
شاعری تمنائے بیتاب کا بیانیہ بنتے ہوئے نغمہ¿ دل کی صدا کو چھیڑ کر صیغہ¿ راز کو بے نقاب کرتی ہے۔ شاعر بچھڑے ہوئے لمحوں کو وقت کی قید سے آزاد کرتے ہوئے لفظوں کی ڈھال پر روکتا ہے۔شاعرانہ ادا ہمیشہ ناز و نیاز کی متقاضی رہی ہے کیونکہ حساس و نازک جذبات کا فطری بیانیہ بنتے ہوئے شاعری انسانی جذبات کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔تطہیرِ احساسات شاعری کا بلند ترین فریضہ ہے۔شاعر اور عام آدمی میں یہی فرق ہے کہ شاعر عام آدمی کے احساسات کو خوبی ¿ اظہار سے متعارف کرواتے ہوئے اندازِ بیان کی خوبیوں کو اجاگر کرتا ہے ۔خلیج کے بیاباں صحرا میں خوبصورت شعری پھول کھلانے والے ممتاز شاعر غلام مصطفیٰ بیکس نے ہمیشہ اپنے ماحول اور گردو پیش سے متاثر ہوتے ہوئے عصری تناظرات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔وہ 1940ء میں سخنوروں کی بستی گجرات کے شمال مشرق میں واقع تاریخی قصبے کڑیانوالہ کے نواحی موضع چھالے شریف میں پیدا ہوئے، ان کا وجودی سفر ہنوز جاری ہے، ان کے بقول: ”وہ اس سفر کے اختتامی لمحات کے منتظر ہیں تاکہ سقراط کی طرح موت کے دیوتا کے حضور مرغ بطور نذرانہ پیش کرنے کی وصیت کر سکیں"۔ 
مصطفیٰ بیکس بنیادی طور پر طبع زاد شاعر ہیں اور شعر اسی وقت کہتے ہیں جب لاشعور تخیل کو شعور تک لاتا ہے۔ تخلیقیت کی آگ اور خوشبو شروع ہی سے ان کے اندر موجود ہے۔انہوں نے زندگی کی پہلی نظم 1954ء میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ پر اس وقت کہی جب ابھی وہ تعلیم کے آٹھویں اور زندگی کے چودھویں مدارج کی کشمکش میں مصروف تھے۔میٹرک میں پہنچ کر شعرگوئی کی باقاعدہ ابتداءکی،پھر کالج کے زمانے میں مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ زمیندار کالج کے مجلہ ”شاہین“ کے ساتھ ساتھ مشہور ادبی جریدے "لیل و نہار" میں بھی ان کا کلام چھپنے لگا۔ ایف ایس سی کے بعد پاک فضائیہ سے منسلک ہو کر کراچی پہنچ گئے اور وہاں استاد قمر جلالوی سے شاعری کی باقاعدہ اصلاح لینے لگے۔سائنس کی تعلیم اور ادب کا ذوق ان کی ذات میں یکجا ہوئے تو معمولاتِ زندگی میں وہ مشین کی طرح متواتر اور مسلسل نظر آنے لگے لیکن ان کی طبیعت ذوقِ جمال کا گہوارہ بنی رہی۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے ایام میں ڈھاکہ میں تھے اور جنگی قیدی بن کر بھارت کے شہر ا لہٰ آباد کے قیدی کیمپ میں جا پہنچے اور دو سال تک قید میں رہے۔شملہ معاہدے کے بعد رہائی ملی اور شعر و ادب کے گہوارے لاہور شہر میں تعیناتی ہوئی ، جناب احمد ندیم قاسمی سمیت بڑے شعراءسے مراسم بڑھے تو شعر و ادب میں دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا۔ انہی دنوں سقوطِ ڈھاکہ کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے اس کی وجوہات اور اسیری کے دو سالوں کی کہانی کی یادداشتوں کو رقم کیا اور مسودہ اشاعت کے لئے اپنے ایک صحافی دوست کو دے دیا۔چشم کشا حقائق کے بے لاگ بیان کو کتابی صورت میں شائع کرنا مشکل تھا یا واقعی یہ مسودہ ان کے دوست سے کہیں گُم ہو گیا؛ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم غلام مصطفیٰ بیکس کی پہلی کتاب سے آج تک محروم ہیں۔ پاک فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1977ءمیں موصوف نے کویت ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور کویت چلے گئے۔ وہاں روزگار کے ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی متحرک اور مصروف شخصیت بن گئے۔خلیج کی کئی ادبی تنظیموں کے جنرل سیکرٹری رہے،وہاں نہ صرف باقاعدگی سے مشاعرے کرواتے رہے بلکہ ان کی نظامت کے فرائض کی بحسن و خوبی ادائیگی کی وجہ سے مقبول ہوئے۔ 
بیکس مزاجاً شاعر و نقاد ہیں۔ ان کی شاعری فکر وتخیل کے نظامِ اعشاری سے منطبق ہے۔علمیت، جمال آفرینی اور جمال پسندی ان کی تخلیق کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ بطور شاعر وہ اس مقام پر ہیں جہاں ذہن کی افزائش خود کو نمایاں کرتی ہے۔اپنے شعروں کے ذریعے وہ انسانی جبلتوں کی تہذیب اور حیات کو زبان عطا کرتے ہیں۔ممتاز ادبی رسائل و جرائد لیل و نہار ، ماہنامہ بیسویں صدی دہلی، ماہنامہ رابطہ بنکاک ، روپ دہلی ، شاعر حیدرآباد انڈیا اور فنون لاہور و دیگر میں ان کا کلام تواتر سے شائع ہوتا رہا۔ غلام مصطفیٰ بیکس کی شاعری کا خمیر لطافت،نفاست اور مہرومروت کے اجزائے ترکیبی پر مشتمل ہے.ان کا نجی اندازِ حیات بھی شاعرانہ ہے۔انہوں نے منصبی فرائض اور شاعرانہ مصروفیات میں ایک قابل رشک توازن قائم رکھا۔ ادب اور زندگی کے بارے میں ان کا رویہ بڑا منطقی ہے۔وہ تخلیق و تکنیک کے جس دوہرے عذاب سے گزرے ہیں وہ ان کی حقیقت پسندی کی غمازی کرتا ہے۔ نصف صدی سے وہ ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر زندگی بھر شعری و ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اچھے شاعر ہیں بلکہ تنقید سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔احمد ندیم قاسمی کے جریدے "فنون " میں "تخلیق و تنقید" کے عنوان سے ان کے مضامین چھپتے رہے ہیں۔ روزنامہ "کویت ٹائمز" میں بھی ان کا کالم اور تنقیدی مضامین کئی سال باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے۔موصوف کئی ادبی کتب کے دیباچے، تعارف اور تنقیدی جائزے لکھ چکے ہیں، مثلاً عابدہ کرامت غوری کے شعری مجموعے ” حاصل ِآگہی“، رشید میواتی کے مجموعے " وہ آنکھیں یاد آتی ہیں"، حامد کرتار پوری کے " مہر و نجوم" ، کمال اظہر کے "حرفِ عقیدت" اور مسرت جبیں زیبا کے شعری مجموعے " رُخِ زیبا" کا تعارف و دیباچہ رقم کر چکے ہیں۔انہوں نے 1990ء میں صحافی طاہر پرویز کے ساتھ مل کر ایک ادبی پرچہ " ادبی ڈائجسٹ" کے نام سے جاری کیا۔مصطفیٰ بیکس بھارت کے شہر اعظم گڑھ سے نکلنے والے رسالے " دارالعلوم" کے ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن بھی رہے۔ وہ دو بار دہلی میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں شریک ہوئے اور مقالے پیش کیے۔ عالمی اردو کانفرنس کے ایک سیشن میں ان کے پڑھے جانے والے مقالے " دورِ حاضر پر جدید ادب کے اثرات" کو بہت پذیرائی ملی تھی۔ بیسویں صدی کے آخر تک وہ ایک متحرک ادب دوست کے طور پر جانے جاتے تھے۔بلاشبہ بیکس زبان و بیان پر قادر ، مطالعہ کے شوقین اور کتب و رسائل کے بڑے قدردان ہیں۔ان کی تنقید کی اساس وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے، تجربے اور معروضیت پر ہے۔ان کا اسلوب واضح، جملے نپے تلے اور غیر مبہم ہوتے ہیں۔ذخیرہ¿ الفاظ وسیع اور لہجہ منطقی ہے۔شخصی تناظر میں پہلودار شخصیت کے مالک ہیں۔وضعداری ، دردمندی، ملنساری اور صاف گوئی ان کے ذاتی اوصاف ہیں۔اپنی ذات میں انجمن ہیں۔شرافت ،متانت اور ذہانت ان کی شخصی شناخت ہے۔سماجی فہم اور فوک وزڈم کی بدولت صاحب ِشعور و بصیرت ہیں۔ مشاہدے کی قوت و تجربے نے ان کی ذہنی تشکیل کی ہے وہ خود کہتے ہیں:
حاصل نہ ہو سکے گی کسی درس گاہ سے 
میرا شعور جو مجھے تعلیم دے گیا
غلام مصطفیٰ بیکس کی شعری صلاحیتوں کا آئینہ دار پہلا مجموعہ کلام "دیپک لہجہ" میں موصوف نے عمر بھر کے تجربات و مشاہدات کو سمونے کی بھرپور سعی کی ہے۔ ویسے تو ان کا شعری اثاثہ 400 سے زائد اردو غزلوں، بے شمار قطعات ، نظموں ، رباعیوں اور پنجابی کلام پر مشتمل ہے۔نمود و نمائش اور شہرت کی ہوس سے عاری چوہدری غلام مصطفیٰ کو میں نے 1992ءمیں تین ،چار بیاضوں میں سے منتخب کلام کو کتابی صورت دینے کے لئے قائل کر لیا، تب ہم نے کتاب کا نام "دیپک لہجہ" طے کیا ؛تاہم ان کے زیادہ وقت بیرون ملک ہونے سے معاملہ لٹک گیا، پھر خلیجی جنگ میں کویت متاثر ہوا تو ان کی بیاضیں بھی جنگی تباہی کی نذر ہو گئیں۔میں نے انہیں اخبارات و رسائل میں چھپے کلام کو جمع کرنے کی استدعا کی اور انہی دنوں ادبی حلقوں کو باقاعدہ اس کتاب کی اشاعت کی نوید دی اور جلالپورجٹاں سے سید عابدحسین نجم کے ادبی رسالے ماہنامہ "ناوک" میں غلام مصطفیٰ بیکس کی شاعری پر مضمون لکھا اور جلد "دیپک لہجہ" کی اشاعت کی نوید دی؛ تاہم میری آرزو اور کاوشیں لاحاصل ہی رہیں اور یہ کتاب نہ چھپی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ میرے اسی مضمون کی بنیاد پر پروفیسر کلیم احسان بٹ نے اپنی کتاب "گجرات میں اُردو شاعری" میں" دیپک لہجہ" کا تذکرہ کیا۔ پھر نامور محقق ڈاکٹر منیر سلیچ نے اپنی کتاب " گجرات کا علمی سرمایہ" میں بیکس صاحب کے تعارف میں ان کے مجموعہ کلام "دیپک لہجہ" کا ذکر کیا ہے اور سنِ اشاعت 1995ءلکھا ہے۔گجرات کے نوجوان قلمکار رائے فصیح جرال نے بھی اپنی کتاب " تحصیل جلالپورجٹاں کے پنجابی شعراء" میں غلام مصطفیٰ بیکس کے مجموعے "دیپک لہجہ" کا ذکر کیا اور ساتھ سنِ اشاعت بھی وہی لکھا ہے۔حالانکہ یہ کتاب خیال تک ہی محدود رہی ،وقت گزرتا گیا بلکہ دو دہائیاں گذر گئیں ہمارا اصرار خیال تک ہی محدود رہا۔بھلا ہو ان کے لختِ جگر انجینئر چوہدری شکیل ضیاءکا کہ انہوں نے ہماری بات پر کان دھرا اور اس کتاب کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا. چوہدری مصطفیٰ صاحب نے بھی گمشدہ بیاضوں کو اپنی یاد داشت سے کریدا اور اس کتاب کا مواد بن گیا جسے شاعر کی محنت اور شکیل ضیاء کی محبت نے خوبصورت کتابی شکل میں پیش کیا ہے۔یہ مجموعہ کلام شاعر کی ادب نوازی کا عکاس ہے جس میں بیکس نے نعت ، غزل، نظم اور قطعات کی صورت میں اپنی صلاحیتوں کو برتا ہے۔کتاب کھولتے ہی محسنِ انسانیت سے شاعر کی محبت و عقیدت کی خوشبو آتی ہے۔آغاز نعت شریف سے ہوا ہے، اس میں خیال کی پاکیزگی اور تقدس کے ساتھ جذبات میں گہرائی و گیرائی بھی ہے۔ کہتے ہیں :
آدمیت پر یہ احساں مصطفے تو نے کیا
بت پرستوں کو شناسائے خدا تو نے کیا
اک نظر میری طرف بھی اے حبیب ِکبریا
جانے کتنے بیکسوں کو بادشہ تو نے کیا
 کہتے ہیں کہ شاعر کی بزمِ تصور میں ہرلحظہ ہنگامہ آفرینی برپا رہتی ہے.اکثر اوقات یہ ہنگامہ آفرینی بلند تخیل اور بے ساختہ اظہار کے سبب خوبی ِشعر کا مرقع بن جاتی ہے لیکن بعض اوقات الفاظ بھی شاعرانہ تخیل کا ساتھ دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ شاعر کی قوتِ تخیل ایک ایسی مرکزی کارگاہ ہے جہاں اس کے روزمرہ شخصی تجربات جمع ہوتے رہتے ہیں۔درحقیقت اندازِ بیاں ہی کسی شاعر کی قدرتِ شاعری کا بہترین اظہاریہ ہے ،ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں۔ مصطفیٰ بیکس نے افکار و احساسات کے ابلاغ کے لیے غزل کے وسیع میدان کو چ±نا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ غزل ہی لطیف جذبات کو سرخروئی سے الفاظ کا پیرہن عطا کرتی ہے۔موصوف عشروں سے گیسوئے غزل سنوار رہے ہیں۔ان کی غزلیہ شاعری کی جاذبیت کا سحر قاری پر طاری ہو جاتا ہے۔ خیال جتنا حقیقت سے قریب ہوتا ہے اتنا ہی وہ قیمتی اور بلند ہوتا ہے۔ الفاظ کے چناﺅ، جذبے کی سچائی، بیان کی بے ساختگی نے ان کی شاعری کو وہ تاثیر عطا کی ہے جو قاری و سامع کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتی ہے۔محبت ، اظہارِ محبت، پارسائی، دل شکستگی، اور جدائی کی سب کیفیات اور ذائقے بیکس نے بڑی سچائی اور مہارت سے بیان کیے ہیں۔ان کا اپنا اندازِ بیان ہے، کبھی وہ تجاہل ِعارفانہ کے ذریعے سوالی بن کر خود ہی شفا پا جاتے ہیں،کبھی زندگی کی تلخیوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور کبھی لذتِ حیات سے متعارف کرواتے ہیں۔وہ بڑی سادگی سے کمال باتیں کہہ جاتے ہیں، جیسے :
آج بھی افضل ہے ہر شے سے،میرا ایمان ہے
لاکھ ہی بھٹکا سہی انسان پھر انسان ہے 
بسا اوقات ایسے بھی تلاطم پیش آتے ہیں
 بڑے مشاق ملاحوں سے ساحل چھوٹ جاتے ہیں
تعجب ہے ہمیں لوگوں کی ایسی سروقامت پر 
کہ جتنا قد ہو اتنی دور کیوں سائے نہیں جاتے
تھا زہر کس کے واسطے اور مرگیا ہے کون 
ساقی تمہارے ہاتھ سے ساغر بدل گئے
 الغرض مصطفیٰ بیکس کی شاعری سفرِ حیات کے تجربات سے نمٹنے کے لیے ایک آﺅٹ لیٹ فراہم کرتی ہے۔اس مجموعے میں ان کی نظموں اور قطعات کے نمونے بھی ہیں۔ وہ عمدہ نظمیں کہتے ہیں۔ ان کی قطعہ نگاری کا فن بھی اپنے اندر ایک جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ان کا طرزِ بیاں ہی ان کی شاعری کے معائب و محاسن کو اجاگر کرتے ہوئے ادبی و تہذیبی مقام کا تعین کرتا ہے۔حُسن ِشعر دو اہم محاسن وزن اور تخیل کا پابند ہے اور تخیل حقیقت سے جتنا قریب ہو گا شعر کا حُسن اتنا ہی دیرپا اور جاوداں ہوگا. " دیپک لہجہ" حقیقت کو وزن اور خیال کے سانچے میں ڈھالنے کی ریاضت کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے کی وساطت سے غلام مصطفیٰ بیکس شاعرانہ وجاہت کے آسمانِ ادب پر اپنی منفرد شناخت کے حامل رہیں گے ۔٭٭

زبان کی سادگی اور بیان کی برجستگی لائق ِتحسین ہے۔ایک طرف بے تکلفی ہے تو ساتھ ہی حقیقت پسندی کی گہری چھاپ بھی نمایاں ہے۔ان کے شعروں سے غمِ جاناں کی بجائے غمِ دوراں مترشح ہے۔جرمن شاعر گوئٹے نے فطری شاعری کی چار خصوصیات ، روانی، شیرینی، خصوصی مضامین اور تنوع بتائی ہیں۔ ان کی جھلک بیکس کی شاعری میں نظر آتی ہے ۔ وہ شعر اس طرح کہتے ہیں کہ مضمون بالکل عام سا ہوتا ہے لیکن جب شعر اپنی شکل میں سامنے آتا ہے تو اپنی ندرت سے چونکا دیتا ہے۔زبان کی صفائی ، جذبے کا خلوص، موضوع کی سنجیدگی اور فنی رکھ رکھاﺅ ان کے اشعار کے نمایاں وصف ہیں۔شعر دیکھئے:
مسکراتا پھر رہا ہے دیکھنا وہ شام تک 
شہر کی ساری اداسی اپنے گھر لے جائے گا 
میری بربادی پہ اشکوں کی روانی کس لیے
جل گیا جب گھر تو اب لائے ہو پانی کس لیے 
ظالموں کے شہر کی اک یہ بھی دستاویز ہے
سر اٹھا کر جو چلے گا مار ڈالا جائے گا
 ان کے کلام میں جدید لہریں نمایاں ہیں؛ تاہم زندہ و متحرک تصور ان کے شعری رویے کی کلید ہے۔ ان کے اشعار شعری روایت کے مناسب امتزاج سے مزین ہوتے ہیں۔منطقی شعور اور ترسیل کی استعداد کی آمیزش بھی ہے۔ موصوف اپنے ماحول اور حالاتِ حاضرہ سے متاثر ہوتے ہیں اور قومی تناظرات کو موضوع بھی بناتے ہیں: 
 اٹھا ہے پھر گلی سے شور لوگو جاگتے رہنا
کہ پہریدار بھی ہیں چور لوگو جاگتے رہنا 
 چوہدری صاحب رنج و الم کے عناصر سے بھی مشتق ہیں تو ساتھ ہی حوصلہ کن فکر کا پرچم بھی نہیں گرنے دیتے۔یاس کی شب ِتاریک سے بھی سویرا کشید کرتے ہیں۔الفاظ کی سماجی لذت کے بغیر شعر دل میں اترتا بھی نہیں :
شہر کی تاریک گلیوں تک اجالا جائے گا 
خونِ دل سے اک نیا سورج نکالا جائے گا

final