سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ برابر،عازمین حج کی تربیت ہوپ کو دی جائے:ثناء اللہ خان

  سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ برابر،عازمین حج کی تربیت ہوپ کو دی ...

  



لاہور (انٹرویو،میاں اشفاق انجم)ضیوف الرحمن کی ٹریننگ کی ذمہ داری ہوپ کو سونپ دی جائے،حج کرائے کم کرانے کیلئے وزیر اعظم پاکستان مداخلت کریں،نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے سے پہلے پرانی کمپنیوں کا کوٹہ بحال کیا جائے اور 50والوں کا کوٹہ کم ازکم دو بسوں کا کیا جائے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا کرایہ یکساں کیا جائے،وزارت مذہبی امور پرائیویٹ حج سکیم کیلئے سزا کیساتھ جزا کا نظام قائم کرے،پرائیویٹ حج سکیم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کی تقسیم ففٹی ففٹی کے حساب سے کی جائے،حج پالیسی کا فوری اعلان کیا جائے ان خیالات کا اظہار ہوپ پاکستان کے سابق مرکزی چیئرمین اور نو منتخب چیئرمین کے پی کے/فاٹا ثناء اللہ خان نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور وفاقی سیکرٹری میاں مشتاق احمد کی حج2019ء کے آپریشن کو تاریخ ساز بنانے میں اہم کردارہے،ثناء اللہ خان نے کہا کہ ہم نے کبھی نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے کی مخالفت نہیں کی نہ اب کر رہے ہیں ہمارا مطالبہ ہے وزارت مذہبی امور2013ء میں ہوپ اور گورنمنٹ آف پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرے اور 2013ء کو کاٹا گیا کوٹہ بحال کرے،چیئرمین نے کہا کہ پوری دنیا میں غلطی پر سزا اور اچھا کرنے پر شاباش دی جاتی ہے،وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ سکیم کے ساتھ یکطرفہ ٹریفک چلا رکھی ہے پہلے دن سے آج تک غلطی پر سزا دی جاتی ہے،کوٹہ کاٹا جاتا ہے،جرمانے ہوتے ہیں،یہ کمپنیاں دو فیصد سے زیادہ نہیں ہیں، 98فیصد بہترین کام کرنے والے ہیں،ان کو کبھی شاباش نہیں دی گئی،ایوارڈ نہیں دیا گیا،کوٹہ نہیں بڑھایا گیا،ثناء اللہ نے کہا کہ پرائیویٹ حج سکیم برابر کی سٹیک ہولڈر ہے،وزارت مذہبی امور سارے وسائل سرکاری سکیم کی پالیسی پر خرچ کر رہی ہے،پرائیویٹ سکیم پوری دنیا میں نمایاں ہے،ہوپ کے اپنے احتسابی نظام کی وجہ سے ہم نے اپنی غلطیوں پر قابو پایا ہے،ہمیشہ سعودی تعلیمات کی روشنی میں وزارت مذہبی امور کی زیر نگرانی کام کرنے پر خوشی محسوس کی ہے،وزارت بھی انصاف کرے،سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا کرایہ یکساں کرے،ائیر لائنز کو 46کلو وزن لانے کیلئے پابند کرے، مکتب کے حصول کے لیے سرکاری سکیم کی طرح پرائیویٹ کمپنیوں کی بھی سرپرستی کرے،انہوں نے کہا کہ2011ء کے معاہدے کے مطابق 50کوٹہ والوں کا کوٹہ بڑھانا ضروری ہے،جن کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے ان کی مشکلات کو سامنے رکھا جائے،کم ازکم دو بسوں کا کوٹہ کیا جائے،چیئرمین نے کہا کہ حج پالیسی کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں،ریال کی قیمت بڑھنے اور سعودی حکومت کی طرف سے ٹیکسز کی وجہ سے سرکاری کی طرح پرائیویٹ سکیم کا پیکج بھی بڑھانا مجبوری ہو گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں مانیٹرنگ کے نظام پر تحفظات ہیں،سروس پرووائڈر اور پیکجز کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے،انہوں نے کہا کہ ضیوف الرحمن کی تربیت کے نظام کو پرائیویٹ کرنا خوش آئند ہے،ساری ذمہ داری ہوپ کو دی جائے ہم بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں،ہمارے تجربات سے وزارت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

ثناء اللہ خان

مزید : صفحہ آخر