وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 61

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 61
وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 61

  

یہ ونڈو بھی شیشے کی تھی اور بغیر جالی کے تھی۔ اسامہ اور ساحل نے اندر جھانکا تو ساحل نے سر گوشی کے انداز میں کہا’’کمرے میں باہر سے روشنی آرہی ہے شاید دروازہ کھلا ہے مگر کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔‘‘

’’ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے میرا خیال ہے کہ ونڈو کے پیچ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے عمارہ کی طرف دیکھا۔’’تم ادھر ونڈو کے قریب کھڑے ہو کے اندر نظر رکھو میں اور ساحل ونڈو کے پیچ کھولتے ہیں۔‘‘

عمارہ ونڈو کے قریب پیچھے کی طرف ہو کے کھڑی ہوگئی۔ عارفین بالکونی کے قریب کھڑا نیچے کے حالات پر نظر رکھ رہا تھا۔

ساحل اور اسامہ نے بہت مہارت سے ونڈو کے پیچ کھول لیے۔عمارہ نے مسکراے ہوئے اسامہ کی طرف دیکھا’’بہت خوب۔۔۔فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کہیں ڈاکے تو نہیں ڈالتے رہے۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسامہ نے عمارہ کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر اندر نظر ڈالتے ہوئے شیشہ احتیاط سے اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ وہ چاروں باری باری کمرے میں داخل ہوگئے۔ زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک زرغام کی تھی جسے دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے یا تو سانپ نے ڈس لیا ہے یا زہر دے دیا گیا ہے اور دوسری لاش کسی بوڑھے کی تھی جو خون میں لت پت تھا۔

اسامہ اور ساحل لاشوں کے قریب بیٹھ گئے۔ 

’’یہ کون ہے‘‘ عمارہ نے سوالیہ نظروں سے اسامہ کی طرف دیکھا اورپھر خود بھی ساجد کی لاش کے قریب بیٹھ گئی۔

’’یہ ساجد ہے زرغام کا وفادار ملازم۔۔۔‘‘

’’کیا بات ہے کچھ ہمیں بھی تو بتاؤ۔۔۔؟‘‘ عمارہ اسامہ کے قریب آگئی۔

اسامہ نے عمارہ کی طرف دیکھا’’تم جانتی ہو کہ کسی نے ساجد کو چھت کی طرف لے جا کے زمین پر پٹکا ہے اور مارنے والا اس قدر طاقتور تھا کہ جب اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا تو اس کے سینے کی ہڈیاں چکنا چور ہوگئیں۔‘‘

’’مارنے والا کون ہو سکتا ہے۔‘‘ عارفین بھی تعجب خیز انداز میں آگے بڑھا۔

’’زرغام کا ہمزاد جو جاتے ہوئے ا پنا غصہ اس آئینے پر نکال گیا۔‘‘

تینوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا’’کیا۔۔۔؟ زرغام کا ہمزاد یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ عمارہ نے بوکھلائے ہوئے کہا۔

اسامہ نے ان تینوں کی طرف دیکھا۔’’فی الحال یہاں سے نکلو اس سے پہلے کہ کوئی آجائے میں رستے میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا۔‘‘ 

وہ تینوں جس طرح اوپر چڑھے تھے اسی طرح سے باری باری نیچے اتر گئے۔ اور وہ چاروں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئے۔

’’آگے کیا پلان ہے‘‘ ساحل نے پوچھا۔

’’ہم اب مری کے لیے روانہ ہوں گے اب یہ جو کچھ ہ وا ہے امید ہے کہ سفر میں یہ بدروحیں ہمیں تنگ نہیں کریں گی فی الحال تو زرغام کی موت نے ان کا طلسم توڑ دیا ہے۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ ہمزاد ہمارا تعاقب نہیں کریں گے۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمزاد اس جگہ پہنچ گئے ہوں گے جو ان کا اصل مسکن ہے۔‘‘ اسامہ کی اس ادھوری سی بات پر عمارہ نے پوچھا۔

’’کہاں۔۔۔کون سی جگہ۔۔۔‘‘

’’مری میں جہاں ہم جا رہے ہیں۔‘‘ اسامہ نے پر یقین لہجے میں کہا۔

’’مری میں ۔۔۔مگر کہاں؟‘‘ عارفین نے پوچھا۔ اسامہ نے ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔’’ہم مری پہنچ جائیں گے کسی اچھے سے ہوٹل میں کمرے لے لیں گے پھر ساری پلاننگ کریں گے۔‘‘

تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ 

سفر کے دوران ہی سب نے اپنے اپنے گھر والوں سے بات چیت کر لی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو تسلی دے دی تجھی۔

تقریباً دو گھنٹے کے بعد وہ مری کے قریبی چھوٹے چھوٹے علاقوں سے گزر رہے تھے۔

عارفین نے چھتر پارک کا بورڈ پڑھا تو اس نے اسامہ سے پوچھا’’مری کا کتنا فاصلہ رہ گیا ہے۔‘‘

’’یوں سمجھ لو کہ ہم مری پہنچ گئے ہیں۔ یہاں سے مری کا بس تھوڑا سا ہی فاصلہ ہے۔‘‘ اسامہ نے جواب دیا۔

ساحل جو ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اس کا دھیان سامنے کی طرف ہی تھا۔ اس نے اسامہ کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ ’’میری معلوما ت کے مطابق یونیورسٹی کی بس میں جو حادثہ ہو اتھا وہ پٹروکس کے علاقے میں ہوا تھا جو چھتر پارک سے تھوڑے سے فاصلے پر ہے۔‘‘

’’ہاں ۔۔۔ہم پٹروکس میں ہی ٹھہریں گے۔‘‘ اسامہ نے جواب دیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد پیٹروکس کا بورڈ دکھائی دینے گا۔

ُپٹروکس کا علاقہ شروع ہوتے ہی اسامہ سڑک کے دونوں اطراف دیکھنے لگا۔

’’تم کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘عمارہ نے پوچھا۔

’’دیکھ رہا ہوں کہ کوئی ہوٹل یا فلیٹ نظر آجائے۔‘‘

’’ہوٹلز کے لیے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’بات اچھے یا برے کی نہیں ہے۔ہمیں اس جگہ کام ہے یہیں ٹھہر جائیں تو کافی آسانی ہو جائے گی۔‘‘

’’اسامہ! ادھر فلیٹس ہیں‘‘ عمارہ نے اپنی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔ اسامہ نے بھی اس طرف نظر دوڑائی۔’’ہاں فلیٹس تو ٹھیک لگ رہے ہیں پتہ کرتے ہیں۔‘‘

ساحل نے مناسب سی جگہ پر گاڑی پارک کی۔

’’تم لوگ گاڑی میں ہی رہو میں پتہ کرکے آتا ہوں۔‘‘ اسامہ نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔

تھوڑی دیر کے بعد اسامہ گاڑی کی طرف آیا۔

’’سامان نکال لو ایک فلیٹ مل گیا ہے۔‘‘ ان سب نے گاڑی سے اپنا سامان نکالا اور فلیٹ کی طرف بڑھے۔

اسامہ کے ہاتھ میں فلیٹ کی چابی تھی۔ اس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور سب اندر داخل ہوگئے۔

انہوں نے کمرے کے ایک طرف سامان رکھا اور تھکاوٹ سے قالین پر ہی ڈھیرہوگئے۔اسامہ پورے فلیٹ کا جائزہ لے کر آیا۔’’یہ چھوٹا سا فلیٹ دو کمروں ، ایک باتھ اور ایک کچن پر مشتمل ہے۔ ایک کمرے میں ہم تینوں ٹھہر جائیں گے اور ایک کمرہ عمارہ کو دے دیں گے۔ُ ُ یہ کہہ کر اسامہ بھی ان کے ساتھ قالین پر بیٹھ گیا۔ عارفین اور ساحل نے صوفے کی گدیاں اٹھائیں اور اپنے سر کے نیچے رکھ کے قالین پر لیٹ گیا۔

تھکاوٹ کے باعث کب ان سب کی آنکھ لگ گئی انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ سارا سامان بھی کمرے میں بے ترتیب گرا پڑا تھا۔ سب گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ بیل کی آواز سے عمارہ کی آنکھ کھلی تو اس نے بے خوابی کی حالت میں ادھر ادھر دیکھا کارنر ٹیبل پر ریڈ کلر کاPCL سیٹ پڑا تھا جس کی بیل بج رہی تھی۔

وہ ڈھیلی ڈھیلی چال سے چلتی ہوئی فون تک پہنچی اس نے فون رسیو کیا۔ ریسپشن سے منیجر بات کر رہا تھا ’’میڈم آپ نے کچھ کھانے کا آرڈر دینا ہو یا چائے منگوانی ہو تو بتا دیں۔‘‘ عمارہ نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا شام کے پانچ بج رہے تھے۔ 

’’آپ ایسا کریں کہ مینو بھیج دیں میں آرڈر دے دوں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے میڈم!‘‘ منیجر نے کہا۔

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔

’’آجائیں‘‘ عمارہ نے جوس کے ڈبے اٹھاتے ہوئے کہا۔

ویٹر اندر داخل ہوا اس نے Menue Cardعمارہ کی طرف بڑھایا۔ عمارہ نے جوس کے ڈبے ٹیبل پر رکھے اور اس سے کارڈ لے کر پڑھنے لگی۔

’’دوڈشز۔۔۔‘‘

’’دو ٹرے ایگ فرائیڈ واٹس، چھ کباب،س لاد اور رائتہ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ نے کارڈ ویٹر کو دے دیا۔

ویٹر کے جانے کے بعد عمارہ نے جوس کے ڈبے اٹھائے اور فریج میں رکھ دیئے۔

سارا سامان سیٹ کرنے کے بعد عمارہ اسامہ کے پاس آئی اس نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کے ہلایا۔’’اسامہ۔۔۔‘‘

اس نے معمولی سی جھرجھری لی اور پھر سو گیا۔ عمارہ نے اسے زور سے جھٹکا دیا۔’’اٹھو بھئی کیا ہوگیا ہے۔‘‘

اور باراس کی آنکھیں کھل گئیں۔’’کیا ہوگیا ہے کیوں اتنا ظلم ڈھا رہی ہو۔‘‘

’’پانچ بج رہے ہیں۔‘‘ عمارہ کی زوردار آواز پر اسامہ اٹھ کے بیٹھ گیا۔

’’اتنا وقت ہوگیا ہے۔‘‘

’’اب تم ان دونوں کو بھی اٹھاؤ میں نے کھانے کا آرڈر دے دیا ہے۔ تم سب اٹھ کے فریش ہو جاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ اٹھ گئی۔ اسامہ نے ساحل اور عارفین کو بھی اٹھایا اور وہ تینوں ہاتھ منہ دھو کے فریش ہوگئے تھوڑی دیر کے بعد ویٹر کھانا لے کر آگیا عمارہ نے اس کے ساتھ مل کر ٹیبل پر کھانا لگایا۔

کھانے کے ساتھ ویٹر نے کولڈ ڈرنکس بھی رکھ دی۔

’’میڈیم کسی اور چیز کی ضرورت ہوئی تو فون پر بتا دیجئے گا۔‘‘ یہ کہہ کر ویٹر چلا گیا۔سب جلدی سے آکر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اور کھانا کھانے لگے۔ کھانا ختم کرنے کے بعد اسامہ نے ویٹر کو بلایا کہ برتن لے جائے اور ساتھ چائے کا آرڈر بھی دے دیا۔ 

ویٹر ٹرالی لے کر آیا تو عمارہ نے برتن سمیٹ کر ٹرالی میں رکھ دیئے۔ ویٹر نے ٹیبل صاف کیا اور پھر برتن لے گیا۔ 

عمارہ نے تینوں کو چائے سرو کی۔ عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھا۔ ’’ہم پٹروکس کے علاقے میں ٹھہرے ہیں۔ مری تو اس سے کافی دور ہے۔‘‘

’’ہیں۔۔۔مری اس سے زیادہ دور نہیں بس چند کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ ‘‘ اسامہ نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔

’’تمہاری انفارمیشن کے مطابق ان چاروں نے پٹروکس کے علاقے میں پہاڑ سے چھلانگ لگائی تھی۔ ان پر خطر پہاڑوں میں ہم ان کا سراغ کیسے لگائیں گے ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کالا جادو کرنے کے لیے انہوں نے کس جگہ کا انتخاب کیا ہوگا۔‘‘

’’میں سب جانتا ہوں۔۔۔‘‘ اسامہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔

آخر عمارہ سوال کیے بغیر نہ رہ سکی’’تم اتنا سب کیسے جانتے ہو۔۔۔‘‘

عمارہ کے سوال پر اسامہ تپ گیا۔ وہ جھٹکے سے اٹھا تو چائے کا کپ الٹ گیا۔ گرم چائے اس کے ہاتھ پر گر گئی۔ عمارہ جلدی سے ٹشو لے کر اس کا ہاتھ صاف کرنے لگی تو اس نے ہاتھ پیچھے سیکڑ لیا۔

اس نے عمارہ کو شانوں سے پکڑا اور اپنی دہکتی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔’’میں تو تمہیں اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والا ہوںَ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ سب کتنی بار روئے تھے اور کتنی بار ہنسے تھے۔ جب زندگی ان سے دامن چھڑا رہی تھی تو وہ کتنا تڑپے تھے۔ ان کی آخری چیخیں تک میری سماعت میں گونج رہی ہیں۔‘‘ اسامہ کی آنکھوں کا کلر بدل چکا تھا۔ اس کی آنکھیں نیلی ہوگئی تھیں۔ عمارہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے پلکیں جھپکائے بغیر پوچھا۔

’’تم ہو کون؟‘‘

اسامہ خاموشی سے عمارہ کی طرف دیکھتا رہا پھر اس نے اس کے شانوں سے ہاتھ ہٹا لیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

عمارہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسامہ کو اندازہ ہی نہ ہوا تھا کہ اس نے کتنی سختی سے عمارہ کو شانوں سے پکڑا تھا۔ ساحل اور عارفین عمارہ کے قریب بیٹھ گئے۔

’’تم جانتی ہو کہ اسامہ نے مشن پر آنے سے پہلے ہی یہ بات ہم سب سے کہی تھی کہ اس سے کوئی سوال نہ کیا جائے‘‘ ساحل نے عمارہ سے کہا تو عارفین نے منہ بسورتے ہوئے ساحل کی طرف دیکھا۔

’’چھوڑو یار! تم اس کی حمایت مت کرو لڑکیوں سے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ اسے عمارہ سے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘

’’پلیز تم لوگ آپس میں بحث مت کرو۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ اپنی جگہ سے اٹھی اور باہر بالکونی میں جا کے کھڑی ہوگئی۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ قسط 62 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟