بہت یاد آتے ہیں وہ لوگ جو!

بہت یاد آتے ہیں وہ لوگ جو!
 بہت یاد آتے ہیں وہ لوگ جو!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سالِ رواں اختتام پذیر ہُوا چاہتا ہے۔ جنوری 2017ء کے آغاز سے تادمِ تحریر جانے والوں کی جو ’’لین ڈوری‘‘ لگی رہی، تُو چل میں آیا کی کیفیت طاری رہی۔ اُن مرحومین کو یاد کرنا، یاد رکھنا گویا اُن کا آخری پروٹوکول ہے،بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کو سالہا سال گزر جانے کے باوجود برسی پر اور یومِ پیدائش پر بھی یاد کِیا جاتا ہے، ورنہ اکثریت تو ایسوں ہی کی ہے کہ آج مَرے، کل دوسرا دن، مگر یہ بھی ایک حقیقت مُبرَ م ہے۔ بقول انور شعور کہ:

بہت یاد آتے ہیں وہ لوگ، جو
جِئے سامنے، پھر مَرے سامنے
چنانچہ اسی ماہ میں، اسی سال میں رُخصت ہونے والوں کا ذکرِ خیر پہلے کر لوں۔جمعہ8دسمبر2017ء کو گوجرانوالہ میں نعت گو شاعر ثاقب عرفانی راہ�ئ ملکِ عدم ہو گئے، ان سے میری خط کتابت بھی تھی۔وہ مشہور شاعر حضرتِ راسخ عرفانی کے برادرِ خورد تھے۔ راسخ عرفانی نے اپنا ایک مجموعہ ’’بقلمِ خود‘‘ یعنی اپنی تحریر میں بھی چھپوایا تھا،ایسا ہی تجربہ عبدالعزیز خالد نے بھی کِیا تھا اَور بھی کئی خوش خط شاعر یہ کام کر چکے ہیں۔بہرحال ذکر مقصود ہے اِس وقت ثاقب عرفانی کا۔عبدالغنی اصل نام، ثاقب عرفانی کے ادبی قلمی نام سے معروف و ممتاز رہے۔ آٹھویں جماعت پاس، مگر ایک فیکٹری کے مالک تھے۔ والدِ گرامی مولانا نور حسین کے گھر واقع گرجاکھ گوجرانوالہ میں جولائی 1959ء میں پیدا ہوئے۔ 8دسمبر2017ء کو وفات کے وقت لگ بھگ67،68 برس کے تھے۔ گوجرانوالہ ہی میں سپردِخاک کئے گئے۔مطبوعہ تصانیف میں: کربِ مسلسل(شعری مجموعہ) اہرام تخیل، حریمِ نعت۔۔۔ ’’اللہ سوہنے کرم کمایا‘‘منظوم سفر نامہ‘ حج)۔۔۔شاعری بڑے بھائی کی سرپرستی میں شروع کی اور نیک نامی کمائی۔۔۔ کہتے ہیں:


ملی جن سے مجھے بھی نیک نامی
مرے اجداد کی اچھائیاں تھیں
حق مغفرت کرے، اگلے وقتوں کے وضعدار، ملنسار لوگوں میں سے تھے، اُن کا ایک نعتیہ مجموعہ ’’حریمِ نعت‘‘ اُن کے دستخطوں کے ساتھ میری ذاتی لائبریری کی زینت ہے!۔۔۔اسی ماہِ دسمبر میں دسویں تاریخ اتوار کے دن بچوں کے معروف ادیب، مُدیر ماہنامہ ’’ہمدردِ نونہال‘‘ کراچی، مسعود احمد برکاتی85سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اُنہیں سخی حسن کراچی کے قبرستان میں سپردِخاک کیا گیا۔ فیڈرل بی ایریا کی الفلاح مسجد میں11دسمبر سوموار کو ظہر کے وقت نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔برکاتی مرحوم، حکیم محمد سعید (شہید) کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے،جنہوں نے آخر دَم تک وضعداری نبھائی۔ بقول غالب :وفا داری بشرطِ استواری شرطِ ایمان ہے۔ نامور ادیب، محقق، مترجم اور مدیر مسعود احمد برکاتی کو حکومت کی جانب سے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ بہت ہی ذمے دار، وضعدار، ادب آداب کے پابند مُدیر تھے۔انھوں نے جہاں بے شمار نئے لکھنے والوں کو نام،مقام اور اعتبار بخشا، وہیں نامور لکھنے والوں سے اُن کے مقام و مرتبے کو پہچان کر تحریری و زبانی گفتگو کی، اِس وقت میرے کاغذات کے پلندے میں سے برآمد شدہ اُن کا تین چار سطری خط سامنے کھُلا پڑا ہے۔۔۔8جون2007ء کے اِس مکتوبِ گرامی میں وہ لکھتے ہیں:


عزیز محترم ناصِر زیدی صاحب!
السلام علیکم! آپ کے محبت نامے کے ساتھ نظم ’’عید‘‘ اور مضمون ’’غِیبت‘‘ مِلا۔قلمی تعاون کا شکریہ!

تحریریں ابھی پڑھی نہیں، لیکن آپ کی تحریروں کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟
امید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہو گا۔
خاکسار مسعود احمد برکاتی(مُدیرِاعلا)
ہمارے ایک ’’دیرینہ کرم فرما‘‘ شاعر،ادیب مترجم احمد صغیر صدیقی10ستمبر2017ء کو مِشی گن(امریکہ) میں وفات پاگئے، یوپی(انڈیا) میں 1938ء کو پیدا ہوئے۔کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی ترقیاتی بینک کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔شعر و شاعری اور نثر نگاری ادبی مشغلہ رہا۔ پہلا شعری مجموعہ ’’دریچے‘‘ کے نام سے 1982ء میں چھپا، دوسرا ’’اطراف‘‘ کے نام سے 1992ء میں۔یہ دونوں شعری مجموعے ان کے دستخطوں کے ساتھ میری ذاتی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ ان کے بعد ’’لمحوں کی گنتی‘‘۔(2002ء) اور ’’تجرید‘‘ (2006ء) سے مَیں محروم رہا۔ میرے خلاف تمام عمر مختلف رسائل و جرائد میں لکھتے رہے، تاہم مَیں نے اپنے پہلے دَورِ ادارت سے لے کر اب تک کبھی اُنہیں نظر انداز یا فراموش نہیں کیا، وہ میرے ہر انتخاب میں شامل رہے۔ وہ ادب کے معاملے میں کھڑتل، اِکل کھُرے، مُنہ پھٹ قسم کے نقاد تھے۔’’ہمچوما دیگرے نیست‘‘ کے بزعمِ خود قائل اور ہمہ وقت کشتوں کے پُشتے لگانے پر مائل۔ 2002ء میں شائع ہونے والی ان کی تنقیدی کتاب ’’گوشے اور جالے‘‘ ایسی ہی کتاب ہے۔ احمد صغیر صدیقی شاعر کے طور پر تو یاد رکھے جائیں یا نہیں؟ اپنی بے لاگ تنقیدی تحریروں اور اچھے مترجم کے طور پر ضرور یاد رہیں گے۔اُن کے ڈائجسٹوں میں مطبوعہ دو ہزار سے زیادہ ترجمہ شدہ افسانوں کے انبار کے علاوہ24 مطبوعہ کتب میں سے چار مطبوعہ کتب تراجم کی دُنیا میں یادگار ہیں۔۔۔ دُنیا کی بہترین کہانیاں۔۔۔ دُنیا کی بہترین مختصر کہانیاں۔۔۔ دُنیا کی بہترین عجب کہانیاں اور دُنیا کی آسیبی کہانیاں۔۔۔ جاری ہے سفر گزشتگاں کا۔

مزید :

رائے -کالم -