شیخ الاسلام اور میوزیکل نعتیں

شیخ الاسلام اور میوزیکل نعتیں
شیخ الاسلام اور میوزیکل نعتیں

  


مغلیہ دور میں شہرت پانے والے علمائے دین میں ملا عبد اللہ سلطان پوری کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ ہمایوں کے دربار سے وابستہ ہوئے اور مخدوم الملک کا خطاب پایا۔ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو وہ اس کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ سوری نے انہیں شیخ الاسلام کا منصب دیا۔مغل دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان کے زمانے میں بھی اسی عہدے پر فائز رہے۔

وہ علوم اسلامی اور خاص طور پر فقہ کے ماہر تھے۔ رعایا کو تو تشدد کرکے احکام فقہ پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرتے، مگر خود اپنے لیے علم کے زور پر، ایسے حیلے تراشتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ مثلاََ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حولانِ حول کی شرط سے فائدہ اٹھاتے۔ حولانِ حول کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے مال پر زکوۃ فرض ہونے کے لیے سال گزرنا ضروری ہے۔ شیخ الاسلام سال کے آخر پر تمام مال و جائداد اپنی بیگم کو تحفے میں دے دیتے اور سال کے آغاز پر واپس لے لیتے۔ حج کی مشقت سے بچنے کے لیے یہ عذر تراشا کہ خشکی کے راستے سے جاؤں تو رافضیوں کے ملک (ایران)سے گزرنا پڑتا ہے اور سمندر سے جاؤں تو بحری جہاز فرنگی مسیحیوں کے ہیں۔

آج کے لوگ یہ باتیں سن کر کہیں گے کہ یہ ماضی کے قصے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’شیخ الاسلام‘‘ کا یہ کردار آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔جس کی سب سے نمایاں مثال ہماری وہ نعتیں ہیں، جو اگر اردو زبان سے نابلد کسی شخص کو اچھے ٹیپ ریکارڈ پر سنوا دی جائیں تو وہ بے ساختہ کوئی گانا سمجھ کر ’گلوکار‘ کو داد دینے پر مجبور ہوجائے گا۔

نعت پڑھنا ایک پاکیزہ عمل ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار ہے۔ شاعروں نے آپ کی شان میں ہمیشہ عمدہ اشعار کہے ہیں اور خوبصورت آواز والے لوگ انہیں اچھی طرز پر پڑھتے رہے ہیں۔ ان اشعار میں اگر مشرکانہ باتیں ڈال دی جائیں تو الگ بات ہے، وگرنہ اہل علم نے کبھی اس عمل کو برا نہیں سمجھا۔

عام لوگ موسیقی اور گانے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ہاں کے اکثر اہل علم موسیقی کو بدترین درجہ کی حرام چیز سمجھتے ہیں۔ اس لیے نعت پڑھنے والوں کے لیے یہ ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ وہ موسیقی کے ساتھ نعت پڑھیں۔ لیکن دور جدید کے نعت خوانوں نے شیخ الاسلام کی طرح اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔ وہ حل اتنا ’پاکیزہ‘ ہے کہ بڑے سے بڑا عالم ٹیکنیکل بنیادوں پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا۔ حل یہ ہے کہ نعت روایتی مذہبی لہجے کے بجائے گانے کی لے میں پڑھی جاتی ہے۔ بعض اوقات تو واقعتاً کسی اچھے گانے کی دھن چرالی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پس منظر میں اللہ کے نام کو اس طرح لیا جاتا ہے کہ سننے والے کو کسی ساز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس حل پر بڑے سے بڑا عالم فنی بنیادوں پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا ہے، اس لیے ہمارے جیسے ایک طالب علم کی کیا مجال ہے کہ اعتراض کرے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر نعتوں کے ساتھ ایک پاکیزہ ساز ہوتا تو ہمیں اعتراض بھی نہ ہوتا۔ اس لیے کہ کون نہیں جانتا کہ مدینہ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے بچیوں نے جب نعتیہ اشعار پڑھے تو ساتھ میں دف بھی بجائے تھے۔

بات یہ ہے کہ جس طرح قرآن پاک ہر طرح کی طرز پر نہیں پڑھا جاتا بلکہ ایک خاص نوعیت کا لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، اسی طرح نعت کے لیے بھی ہر لے موزوں نہیں ہوتی۔ موسیقی کے ماہرین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مختلف طرح کی لے انسان کے جذبات پر خاص طرح کے احساسات مرتب کرتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر لے ہر کلام پر موضوع نہیں ہوتی۔ مگر آج کل کی نعتوں کی لے گانوں کی طرح ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان نعتوں کو پڑھنے والے اور انہیں سننے والے بھی اسی طرح ہاتھ لہراتے ہوئے جھومتے ہیں، جس طرح کسی میوزیکل پروگرام کے شرکا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے جذبات پر اس لے کا ایک خاص اثر ہورہا ہوتا ہے۔ صاف لگتا ہے کہ یہ لوگ بمشکل اپنے آپ کو رقص کرنے سے روک رہے ہیں۔

پھر سب سے بڑھ کر میوزک کا تاثر دینے کے لیے اللہ کے نام کو جس طرح استعمال کیا جاتا ہے، وہ سُر تا سُر ربّ کے بابرکت نام کی بے حرمتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہاں کسی کو خدا سے دلچسپی نہیں ہے، اس لیے یہ توہین نظر نہیں آتی۔ کسی کو ہماری بات کی سنگینی کا اندازہ کرنا ہے تو ان نعت والوں سے فرمائش کرے کہ اللہ کے نام کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام استعمال کریں اور آپ کے مبارک نام کے ذریعے سے میوزک کی آواز کا تاثر دینے کی کوشش کریں۔ پھر دیکھیں کہ علما اور عوام ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہر طرف سے توہین رسالت کا شور اٹھے گا۔ احتجاج شروع ہوگا۔ اخباری بیانات شایع ہوں گے۔ جلوس نکلیں گے۔ مقدمے درج ہوں گے۔ نعت خواں اور نعت کو نشر کرنے والے چینل کو جان بچانا مشکل ہوجائے گا۔

جو لوگ موسیقی کی قطعی حرمت کے قائل ہیں ان کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ فطرت کے آگے بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ موسیقی کے حوالے سے جتنی کچھ اجازت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، اگر علما نے اتنی اجازت بھی نہ دی تو لوگ بہرحال موسیقی سے باز نہیں آئیں گے۔ وہ موسیقی کے شوق میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بے حرمتی کرتے رہیں گے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ


loading...