لمحہ موجود اور خوشی

لمحہ موجود اور خوشی
لمحہ موجود اور خوشی

  

خوش رہنا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے جبکہ مایوسی اور ناخوشی ہمارا اپنا انتخاب ہوتا ہے ۔ خود میں امید پیدا کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے ، ہماری زندگی اور ہمارا طرز عمل ایسا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو جنت یا  جہنم بنا سکتے ہیں ۔ 
یہ جملے ہمیں اکثر سننے کو ملتے ہیں ان جملوں میں صداقت بھی ہے لیکن کافی حد تک مبالغہ بھی ۔۔اس لئے کہ زندگی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی نوعیت کی بھی ۔ انسان کو زندگی میں مشکل حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ موت ، بیماری ، بیروزگاری اور دیگر نامساعد حالات یہ سب انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے تو یہ بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان ہر وقت خوش ، پرامید اور متحرک نہیں رہ سکتا  لیکن کیا ایسا ہے کہ انسان زندگی کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس لمحے میں خوش رہے  جس میں وہ جی رہا ہے یقیناًہے کیونکہ لمحہ موجود میں زندہ رہنا اور پھر اس سے لطف اندوز ہونا اصل زندگی ہے ۔ 
قرآن پاک میں بھی ہے کہ انسان ناشکرا ہے ، انسان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یا تو وہ ماضی میں جی رہا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے اندیشوں میں گھرا ہوا ہے ۔ ان دونوں زمانوں پر اسکا کوئی اختیار نہیں نہ تو گزر جانے والا کل ہمیں کوئی خوشی دلا سکتا ہے اور نہ ہی آنے والا کل ہمیں خوشی کی کوئی  ضمانت دے سکتا ہے ۔ 
ہاں صرف موجودہ زمانہ ہمیں زندگی سے جوڑے رکھنے کے لئے اہم اور ناگزیز ہے ۔ انسان ناشکرا ہونے کے ساتھ ساتھ اطمینان کے زیور سے بھی آراستہ نہیں ۔ مثال کے طور پر ہم کوئی ایک نوکری کر رہے ہوتے ہیں ، ہمیں وہاں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو ہم نئی نوکری کی تلاش شروع کر دیتے ہیں لیکن وہاں جانے سے پہلے ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہاں تمام تر صورتحال ہمارے حق میں ہو گی ؟ کیا وہاں دفتری سیاست نہ ہو گی ، باس بہت اچھا ہوگا ، تنخواہ بروقت ملے گی ، اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے؟ اس سب کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ 
اسی طرح زندگی کے باقی فیصلے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ شادی کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے ۔ اب شریک حیات کیسی عادات کا مالک ہو اور آپ کو کس حد تک سمجھوتہ کرنا ہو ؟یہ تووقت اور حالات پر ہی منحصر ہوتا ہے ۔ اس لئے وقت سے پہلے اندیشے پالنا لیکن خوش فہم بھی رہنا دونوں ہی غلط ہیں ۔ زندگی بہت بے رحم ساتھی ہے، کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اور آخرت کی زندگی پائیدار اور خوبصورت ہے ۔ 
لیکن اس اخروی زندگی کو پانے کے لئے ہمیں موت سے ہمکنار ہونا پڑتا ہے لیکن ہم موت سے ڈرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اس فانی دنیا سے جڑے بیٹھے ہیں ۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جنگلوں میں نکل جائے اور تارک الدنیا ہو جائے لیکن بات وہی ہے کہ ہم زندگی کو کس طرح انجوائے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں موت کا خوف ہے اور ہم میں سے کسی کو بھی اپنی اگلی سانس  تک کا بھروسہ نہیں ہے لیکن یہ موت کا خوف ہی ہمیں زندگی کی خوشیوں کی طرف لے کر آتا ہے ۔ 
جس طرح سے ہم ہر رات سوتے وقت الارم لگا کر سوتے ہیں ہم جانتے بھی ہیں کہ نہ جانے کب مر جائیں گے لیکن پھر بھی  صبح سویرے بیدار ہونے کی امید ہمیں زندہ رکھتی ہے ۔ بس اسی یقین کا نام لمحہ موجود میں زندہ رہنا ہے ۔ اچھی نوکری ، بہترین صحت اور اعلیٰ طرز زندگی کے حصول کے لئے ہم ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ۔ اچھے وقت کے انتظار میں ہوتے ہیں  لیکن ہم نادان لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو وقت گزر رہا ہے وہی اچھا ہوتا ہے ۔ 
مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ’’ میں نے خدا کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ۔ ‘‘ تو ہمیں ذہن میں یہی رکھنا ہے کہ ہم تو اپنی طرف سے زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایک طرف سے اللہ تعالیٰ کے سامنے بے بس بھی ہیں کہ سب کچھ اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے ۔ ہم کچھ حدود و قیود میں بھی ہیں جو کہ ہمارے لئے ضروری ہیں ۔ 
حالات کا ستایا ہوا کون نہیں پھر بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دکھوں میں گھرے ہونے کی باوجود بھی خدا کا شکر ادا کرتے اور دوسرے لوگوں کو بھی اچھے کاموں کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ یہی زندگی ہے یہی جینا ہے کہ آنے والے کل کا کھلے دل سے استقبال تو کیا جائے لیکن حال کے گزرتے ہر ہر لمحے کو اپنی مسکراہٹ سے دلکش بنا لیا جائے ۔۔۔ 

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -