اندلس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے اہم مراکز

 اندلس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے اہم مراکز
 اندلس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے اہم مراکز

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:18

اسپائی نوزا

مسلم اندلس کا زوال تاریخِ انسانی کا معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس نے انسانی تاریخ و تمدن پر بے شمار جہتوں سے اپنے اثرات مرتب کیے!!

اندلس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے اہم مراکز… قرطبہ، اشبیلیہ اور بلنسیہ جیسے عظیم شہروں کے زوال کے بعد اسلامی حکومت ملک کے جنوب مشرقی کونے میں7 ہزار مربع میل پر مشتمل ایک مختصر سی ریاست تک محدود ہو کر رہ گئی، جس کا صدر مقام غرناطہ تھا۔ غرناطہ کی ریاست 200 سال تک اندلس کے مسلمانوں اوراس میں آباد یہودیوں کے لیے پناہ گاہ بنی رہی۔ تاآنکہ اس کے آخری حکمران بزدل ابو عبداللہ نے عیسائی ریاست قشتالہ کے حکمران فرڈی نینڈ کے آگے ہتھیار نہیں ڈال دیئے۔ یہ واقعہ1492ءکا ہے۔ اس کے بعد اندلس پر مسلمانوں کی حکومت کبھی قائم نہیں ہوئی۔

غرناطہ کو عیسائی حکومت کے سپرد کرنے کے بعد مراکش کی طرف جاتے ہوئے ابو عبداللہ غرناطہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی پر رکا، غرناطہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ابو عبداللہ کی ماں نے بیٹے کو روتے ہوئے دیکھ کر کہا:

”ابو عبداللہ! جب تم مَردوں کی طرح اپنے شہر کو نہ بچا سکے تو اب عورتوں کی طرح رونے سے کیا حاصل!“

مگر اب سوائے رونے کے باقی رہ بھی کیا گیا تھا، نہ صرف مسلمانوں کے لیے، بلکہ یہاں آباد یہودیوں کے لیے بھی۔

عیسائیوں نے اندلس پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں کی آبادی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ عربی زبان کا پڑھنا، لکھنا اور بولنا جرم قرار دے دیا گیا اور لوگوں کو عیسائی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جنہوں نے عیسائیت قبول نہیں کی، انہیں یا تو قتل کر دیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ جلاوطن ہونے والے مسلمانوں کی تعداد20 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ باقی لوگوں نے جان کے خوف سے عیسائیت قبول کر لی۔ اندلس میں جہاں800سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی تھی، 1610ء کے بعد ایک بھی مسلمان باقی نہیں بچا تھا۔

یہی سب کچھ یہاں پر آباد یہودیوں کے ساتھ ہوا، جو عربوں کے اندلس سے اخراج کے وقت تک خوب پھلتے پھولتے رہے تھے۔ لیکن عیسائیوں کے برسراقتدار آتے ہی ان سے وہ آزادی چھن گئی جو ان کو اسلام کے متوازن اور غیر مسلم شہریوں کے لیے نرم قوانین کے تحت حاصل تھی۔ مذہبی عدالتیں قائم کی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ یا تو بپتسمہ لیں اور عیسائی ہو جائیں یا اپنے مال و اسباب ضبط کروانے کے بعد جلاوطنی اختیار کریں۔ کلیسا ان کے مذہبی عقیدے پر تسلط چاہتا ہے اور بادشاہ ان کی صدیوں کی محنت سے کمائی ہوئی دولت پر۔

اب یہودیوں کی اکثریت نے اس بات کا فیصلہ تو کر لیا کہ عقیدے کو بچانے کی خاطر مال و اسباب کو چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے بحری جہازوں پر سوار ہو جائیں، مگر جائیں تو جائیں کہاں۔ فرانس اور انگلستان انہیں پناہ دینے پر تیار نہ تھے۔ جنیوا کی بندرگاہ پر انہیں اترنے کی اجازت نہ ملی۔ ایسا ہی معاملہ اطالوی بندرگاہوں نے ان کے ساتھ کیا۔ صرف وینس والوں نے ان چند یہودیوں کو پناہ دینے کی حامی بھری جو اس یہودی جہاز ران کولمبس کے سفر کے اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ تھے جو نئی زمینوں کی تلاش میں تھا۔ دراصل ان یہودیوں کو ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید وہ ان کے لیے کوئی نیا وطن تلاش کر سکے۔ ان مشکل حالات میں صرف ایک ملک نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا… یہ ہالینڈ تھا۔ سو، یہودیوں نے ولندیزی ساحلوں پر اترنے کا فیصلہ کیا اور ولندیزی ساحلوں پر لنگرانداز ہونے والے یہودیوں میں ایک پرتگالی خاندان بھی تھا… فلسفیوں کے فلسفی، اسپائی نوزا کا خاندان۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -